اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *کورونا وائرس کی آمد،اک نئےانقلاب کی آہٹ!* تحریر: انس بجنوری

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 17 March 2020

*کورونا وائرس کی آمد،اک نئےانقلاب کی آہٹ!* تحریر: انس بجنوری

*کورونا وائرس کی آمد،اک نئےانقلاب کی آہٹ!*

تحریر: انس بجنوری

         وہ قوم کہ جس کے ایوانوں کی رونق مدتِ مدید تک عالمِ اسلام کے علوم و فنون کی رہینِ منت رہی، جس کے دانشوروں نے ایک طرف مسلمانوں کی تضحیک کی، ان کے دین اور ان کی کتاب کو اعتراضات کا نشانہ بنایا، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر رکیک اور پست حملے کئے۔۔۔ اور دوسری طرف اس نے انہی مسلمانوں کے عادات و خصائل، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک اور انہی کی کتابِ ہدایت کا بہ غور مطالعہ کیا اور اس کی بناء پر اقوامِ عالم میں ان کی برتری کے راز کو جان کر، انہی کی تعلیمات میں سے بعض کو جدید ناموں سے آراستہ کر کے خود اپنی طرف نہ صرف منسوب کیا بلکہ انہیں اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور خود کو ان علوم کا تخلیق کار اور موجد گرداننے لگی ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اس کوشش میں بھی مصروف رہی کہ مسلمانوں کو کس طرح ان کے دین و ایمان اور ان کی بنیادی اور فطری تعلیمات سے برگشتہ کر کے انہیں اپنے مقابلہ میں نیچا دکھایا جا سکے (کیونکہ اس ذہنی مرعوبیت کے بغیر وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکتی تھی) ۔۔۔۔ آج وہی قوم یہ دیکھ کر کس قدر مسرور ہو گی کہ یہی مسلمان ذہنی وملی طور پر اس کا بندہءبے دام اور اس کی خواہشات کا اسیر بن چکا ہے،اپنی فطری اور جاذبیت سے بھرپور تعلیمات کو بھلاکر اپنے لباس، شکل و صورت، رنگ ڈھنگ، علوم و فنون، تہذٰب و تمدن، معیشت و معاشرت اور سیاست و اقتصاد میں ہو بہو اس کی نقل اتارنا چاہتا ہے۔۔۔ حتی کہ اب اس کی کوئی چیز بھی اس کی اپنی نہیں رہی اور وہ ہر چیز کو مغرب سے درآمد کر رہا ہے۔۔۔ آہ، کسی قدر بے نصیب ہے وہ مسلمان کہ جس کے پاس اسلامی ایسی نعمتِ عظمیٰ ، قرآن ایسی دولت لازوال اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسا گوہر گرانمایہ موجود ہے لیکن اس کی قدر و قیمت کا اسے احساس تک نہیں اور اس کی ساری توانائیاں اور صلاحتین کافرانہ اور ملحدانہ نظریات کو مشرف بہ اسلام کرنے کے لیے وقف ہو کر رہ گئی ہیں۔۔۔ دوسروں کی یہ دریوزہ گری تو ان کو جچتی تھی جن کے اپنے جیب و داماں خالی تھے، لیکن جس کا اپنا دامن ایسے انمول ہیروں سے مالا مال ہو۔۔۔ اور جسے خدا نے اتنا کچھ دے دیا ہو کہ تنگی داماں کی شکایت ہونے لگے، وہ اگر اغیار کی طرف للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھنے لگے تو اس سے بڑھ کر بد نصیبی اور کیا ہو گی؟
حرم کے دوش پہ عقبیٰ کا دام ہے اب تک
سروں میں دین کا سودائے خام ہے اب تک
توہمات کا آدم غلام ہے اب تک
 گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے۔۔۔۔!!

لیکن اس وقت پورے عالم میں اندوہناک بلاوں اور خوفناک بیماریوں کا جو طوفان اٹھا ہوا ہے، اور کافرانہ ٹیم و جتھہ جس طریقے سے ذلت کے عمیق سمندر میں غوطے لگارہا ہے، اس سے مسلم امہ کو ایک اور موقع ہم دست ہوا ہے کہ وہ اپنی بنیادی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کریں،وہ اسلامی رہن سہن کو عالمی میڈیا کے ذریعے گھر گھر پہونچائیں، اور اس زریں موقع کو ہرگز ہاتھ سے نہ جانے دیں۔۔۔۔۔غرغرے کے اس عالم میں جو رسی انھیں اس عمیق سمندر سے باہر نکال کر لائے گی اور سکون فراہم کرے گی یقینی طور پر میدان اسی کے ہاتھ میں ہوگا،مسلم امہ کو اب ہمہ تن بیدار ہوکر اس طرف توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے،تاکہ اپنی امن آفریں اور انسانی تحفظات پر مبنی تعلیمات کو پیش کرکے میدان جیتا جاسکے۔۔۔
کورونا واٸرس ، جس کی شدت اور خوفناکی سے پوری دنیا پریشان ہے ۔مسلم ایغور پر صرف انکے ایمان کی وجہ سے ان پر آگ وآہن برسانے والےاسی مرض کی شدت سے پریشان ہوکر مسجد کے در پر جاپہنچے اور نمازیوں سے استدعا کی کہ ”اپنے رب سے اس مرض کے خاتمے کی دعا کریں “ یعنی اس دین کی حقانیت کا اندازہ انکو بھی ہے۔
اب اطلاعات کے مطابق ہر ذی روح دوسری ذی روح سے پریشان وبرگشتہ ہے ۔حتیٰ کہ اپنے پالتو جانوروں کو بھی اپنے سے جدا کیا جارہا ہے ۔ہر جان دوسری جان کو مشکوک نظروں سے دیکھنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ایسے میں اسلام کی صرف ایک شق یعنی ”صفاٸ نصف ایمان ہے“ کو ساری دنیا کے سامنے لایا جاۓاور اس دین کی برکات اپنے عمل کے ذریعے ساری دنیا کو دکھاٸ جاٸیں تو میرا نہیں خیال کہ دنیا اسلام کی طرف ایسے ہی نہ لپکے جیسا کہ آگ لگنے والے علاقے میں لوگ اپنی جانیں بچانے کی خاطر محفوظ جگہ کی طرف لپک لیتے ہیں ۔اور حقیقت بھی یہی ہے ۔لیکن ہمارے طرزعمل کی وجہ سے ساری انسانیت اس عظیم ترین راستے سے محروم ہے۔۔۔۔۔
موجودہ دور کے یہ تمام سانحات ہمیں مدد فراہم کرتے ہیں کہ ہم اپنی بات میں وزن پیدا کریں کہ اسلام ہی دین فطرت ہے اور جو بھی اس راہ سے اپنے قدم ہٹانے کی مشقت کرے گا وہ دنیا میں بھی اسی طرح منہ کے بل گرے گا جسطرح ہم مبینہ مستقبل کی سپر پاور کو زمیں بوس ہوتا محسوس کررہے ہیں ۔ بس بات ہم مسلمانوں کے سمجھ آنے کی ہے کہ ہمارے اوپر کتنی بھاری ذمہ داری ہے اور ہمیں تمام دنیا کی بدلتی ہوٸ صورت حال کو کس طریقے سے استعمال کرنا ہے۔۔۔۔!!
اسلام کے حوالے سے صفائی ستھرائی اور نظافت و پاگیزگی کی اہمیت پر ہر جگہ پورے زوروشور سے روشنی ڈالی جانی چاہیۓ کہ ہر بندہ اسلام کے اس آدھے ایمان سے شناسا ہوجائے ۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلئے کیا حرام کیا اور کیوں؟ اس کی بھی وضاحت موجودہ خوفناک صورتحال بہ خوبی کررہی ہے بس ہمارے اشارے کی دیر ہے۔اور حلال میں کتنی آسانیاں چھپی ہیں اور کتنی خوشیاں اور مسرتیں پوشیدہ ہیں ان کا اظہار بھی اگر ہم ہی کریں گے تو بہت اچھا منظر نامہ اور ایک نیا انقلاب پیدا ہوگا ۔۔۔
یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں
کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے
نظام چرخ میں دیکھیں گے اک تغیر خاص
سکون دہر میں اک اضطراب دیکھیں گے