اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: ❤ ہدیۂ تشکر ❤ از احتشام الحق، مظاہری، کبیر نگری،

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 27 March 2020

❤ ہدیۂ تشکر ❤ از احتشام الحق، مظاہری، کبیر نگری،


❤ ہدیۂ تشکر ❤

                           از
احتشام الحق، مظاہری، کبیر نگری، 


اس وقت بر صغیر ہی نھیں پوری دنیا کرونا وائرس جیسے پر خطر وباکے گرداب میں الجھی ہوئی ھے ہمارا ملک ہندوستان بھی اس وبا کی وجہ سے سخت قسم کی بےچینی و بد امنی میں مبتلا ھے ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول قائم ھے ہر شخص اپنے گھروں کی چہار دیواری میں قید ھےہر طرف لاک ڈاون ھے شاہ راہوں کا منظر نامہ تو اتنا عجیب ھے کہ مسافروں کے لئے سفر کی تمام تر سہولیات کو بھی مقفل کردیا گیا ھے، ایسے لرزہ خیز حالات اور زلزلہ بردوش فضا میں  جبکہ دس 10 کلو میٹر کا سفر بھی ممکن نھیں ہمارا 50 نفری قافلہ دوشنبہ کی شام تقریبا  ا گیارہ بجے، دیوبند سے بستی، سنت کبیر نگر، گورکھپور اور مہراج گنج ، بذریعہ بس پا بہ رکاب ہوا، میری ایک انکھ میں آنسو ایک میں مسکان  ایک انکھ میں نوحہ ایک میں نغمہ تھا، لاک ڈاون کی وجہ سے دہشت اس قدر طاری تھی،  کہ میں مسلسل حیرت میں رہا گھڑی کے کانٹے اپنے محور پر پوری رفتار سے گردش کر رھے تھے ہواؤں کے نرم و نازک جھونکے فضائے بیکراں میں عطر و نکہت کا رس کھولنے میں مسلسل مصروف تھے بس کا انجن وجد و مستی میں جھوم جھوم کر تیز گرامی کے ترانے سنا رہا تھا پہئیے شاہ راہوں پر انتہائی سرور وکیف کے عالم میں رقص کر رھے تھے اور سڑ کیں ہر ہر نفس کارواں کا پر جوش استقبال کرتے ہوئے ان کی قدم رنجہ فرمائی پر نازاں تھی کہ اگلے دن رات میں ہمارا یہ قافلہ ۱۱ بجے بعافیت خلیل آباد پہنچ گیا دیار شوق سے مست و مدہوش کارواں فرطِ مسرت سے جھوم جھوم کر یہ کہ رہا تھا

      فضل خدا سے منزلِ مقصود آگئی

     اک خوشگوار ساعت مسعود آگئی

، سفر کے انتہائی پر خطر ہو نے کی وجہ سے ہر شخص کے منھ پر ملال، چہرے پر زوال تھا ، جمعیۃ العلماء ضلع سہارنپور کا ایک لیٹر پیڈ ہمارے ہمراہ تھا، جس پر s  o  اور جمعیت علماء کے جنرل سکریٹری جناب سید ذہین مدنی صاحب کی دستخط کے ساتھ مہر بھی لگی ہوئی تھی، وہی سید ذہین صاحب جن کے بارے میں پہلے سے ہی کہا کرتا تھا کہ وہ ایک نمونے کے آدمی ہیں عزم و حوصلہ،جد و جہد ان کی شناخت ھے تعب و تکان اور درماندگی انھیں چھو کر نھیں گزرتی وہ صاحبِ کردار و صاحب عزیمت ہیں، پا مردی و ثابت قدمی ان کی ہم سفر ھے تو قوت ارادی اور  ژرف نگاہی ان کی قندیل ھے، دانش و بینش انکا متاع بے بہا ھے ، تو درد مندی و دل سوزی ان کا شیوہ، غمِ امت انھیں بے چین کرتا،اور اندوہِ مسلسل انھیں رلاتا ھے ، وہ چونکہ علمی ماحول میں تربیت پا چکے ہیں اس لئے ان کے دل عوام کے درد ناک واقعات کو دیکھ کر دہل جاتے ہیں، وہ ان لوگوں میں نھیں جو ملتِ اسلامیہ پر پڑنے والی افتاد دیکھ کر اشک بہانے کو ہی کافی سمجھیں،،بلکہ وہ دوڑ کر ان کے زخموں پر مرہم رکھتے اور ان کے درد کا مداوا کرتے ہیں،،ان کے یہاں اشک شوئی بھی ھے اور احوال کا تفقد  بھی انھیں واقعی سیادت کا حق حاصل ھے   کیونکہ وہ قوم کے خادم ہیں ، اور قوم کا خادم قوم کا سربراہ ہوا کرتا ھے
ہدیۂ تشکر پیش کرتا ھوں، جناب سید ذہین مدنی اور مولانا محمود صاحب، اور انکے  تمام رفقاء کی خدمت میں ، اور ثانیاً شکر گزار  ہوں جناب حافظ عقیل احمد خان روز نامہ راشٹریہ سہارا کا، جنھوں نے بندے کو  اپنی گاڑ ی سے خلیل آباد سے میرے گھر پہنچا نے کی سعی کی،، یقینا آپ حضرات نے جس محبت کا معاملہ فرمایا ھے ہمارے ساتھ اور ہمارے کارواں کے ساتھ، اور تمام طلبہ کے ساتھ حقیقت تو یہ ہے کہ میرے پاس اس کا شکریہ ادا کرنے کےلئے موزوں الفاظ نھیں ہیں، آپ لوگوں کے صدقات جاریہ کی فہرست میں یہ عظیم خدمات بھی داخل و شامل ھے،

صدقۂ جاری تجھے کام آ ئے گا محشر کے روز

مستحقِ خلد بن کر آئے گا محشر کے روز


اللہ تعالی آپ لوگوں کے حوصلوں میں مزید جوانی و توانائی عطا فرمائے  ، اسباب و وسائل کی کمی سامنے نہ آئے اور آپ کے ذریعہ قوم و ملت کی عظیم خدمت ہمیشہ انجام پاتی رھے، یہی ایک طالب علم کی دعا ہوسکتی ھے اور  تمنا بھی،،،،