*اصل لڑائیCAAکیخلاف، حکومت کے واپس لینے تک لڑائی جاری رہے گی: شکیل سلفی*
*این پی آر پر حکومتیں عوام کو فریب میں مبتلاکرمظاہروں کو ختم کرانے کی رچ رہی ہے سازش: نظرعالم*
مدھوبنی :18/مارچ 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! محمد سالم آزاد
سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف ملک بھر میں دھرنے اور مظاہرے جاری ہیں۔ لال باغ، دربھنگہ میں جاری ستیاگرہ کے دو ماہ مکمل ہوگئے۔ اس موقع پر ستیاگرہ کی قیادت کررہی نازیہ حسن، صباپروین، صاحبہ پروین، مطیع الرحمن، محمدامان اللہ امن، عبدالماک، عبداللہ نواز، محمدبشر، ہیرانظامی، بدرالہدیٰ خان نے مشترکہ طور پر بتایا کہ ستیاگرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ کالا قانون حکومت واپس نہیں لیتی۔ انہوں نے ستیاگرہ میں شامل خواتین کو بطورخاص مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان خواتیں نے اوّل روز سے جس عزم اور حوصلہ کا مظاہرہ کیا ہے وہ بے مثال ہے اور انہی کی بدولت یہ ستیاگرہ جاری رہے گا۔ ستیاگرہ کی صدارت کررہے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے کہا کہ ہماری لڑائی پوری مضبوطی سے جاری ہے اور ہم اس لڑائی کو اس کے انجام تک پہنچاکردم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ این پی آر کے نام پر اب ملک کو گمراہ کرنے اور مظاہروں کو کمزور کرنے کی چال چلی جارہی ہے اور یہ باور کرایا جارہا ہے کہ حکومت نے این پی آر سے متنازعہ حصوں کو نکال دیا ہے جب کہ یہ سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔ ساتھ ہی عوام کو فریب میں مبتلاکرنے اور مظاہروں کو ختم کرانے کی سازش ہے جس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مظاہرین کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ حکومت اور سیاسی لیڈران کی سازش کا شکار نہ ہوں اور پوری توانائی کے ساتھ اس لڑائی کو جاری رکھیں۔مسٹرعالم نے بتایا کہ لال باغ کی خاتون مظاہرین نے کورونا کے حوالے سے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ہم اس کے خطرہ سے واقف ہیں اور احتیاطی تدابیر بھی اختیار کررہے ہیں لیکن اس کے لئے ستیاگرہ ختم نہیں کریں گے۔بیداری کارواں کے سرپرست شکیل احمد سلفی نے کہا کہ مظاہرین بطور خاص خواتین کو ان کے عزم و حوصلہ اور جذبہ کے لئے مبارکباد دیتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری اصل لڑائی سی اے اے کے خلاف ہے اور جب تک حکومت اسے باضابطہ واپس نہیں لیتی ہم اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی باتوں پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا۔ اس لئے جب تک این پی آر کے قانون میں باضابطہ تبدیلی نہیں کی جاتی اور اس کے متنازعہ شفوں کو ہٹاکراس کی جگہ یہ نہیں لکھ دیا جاتا کہ کاغذاب نہیں طلب کئے جائیں گے اور کسی کو بھی مشکوک قرار نہیں دیا جائے گا ہم حکومت کی بات تسلیم نہیں کریں گے اور این پی آر کے خلاف بھی لڑتے رہیں گے۔ اگر حکومت ہمارے اس مطالبہ کو باضابطہ تسلیم کرلیتی ہے تو ہم این پی آر کے خلاف تحریک واپس لے لیں گے لیکن سی اے اے کے خلاف لڑائی جاری رہے گی۔ شکیل سلفی نے کہا کہ ملک کے حالات ایمرجنسی سے بھی بدتر ہیں اورحکومت نے پولیس اور عدالیہ سمیت تمام خودمختار اداروں کو اپنے قبضہ میں کرلیا ہے جس کی وجہ سے جمہوریت پوری طرح خطرہ میں ہے اس لئے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ پوری مضبوطی کے ساتھ اس لڑائی کو جاری رکھیں تاکہ ملک اور ملک کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔ کارواں کے سکریٹری انجینئرفخرالدین قمر نے کہا کہ خواتین نے اب تک جس عزم اور حوصلہ کا مظاہرہ کیا ہے اس کو دیکھ کر یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اس لڑائی میں جیت ہماری ہی ہوگی۔ ”بہار بول رہا ہے“ کے سرگرم رکن شاہنواز عاقل نے حکومت کے ساتھ ساتھ سیاسی لیڈران پر تیکھا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری موجودہ قیادت نے ہمیں مایوس کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آج جس طرح نوجوان سیاہ قانون کے خلاف لڑرہے ہیں اس کے بعد بھی جمہوریت کی بقا اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے لڑتے رہیں گے۔ ذیشان اخترنے بھی نوجوانوں کی موجودہ سرگرمیوں اور مثبت فکر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک سے ضرور نئی قیادت نکل کر آئے گی جس کی وجہ سے کوئی قوم کا سودا نہیں کرسکے گا۔ آخر میں راجا خان نے سبھوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لڑائی کو پوری مضبوطی کے سے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
