اردو ہے جس کا نام
از قلم : انوار سلیم
-----------------------------------------------------------
اردو زبان یا میں یوں کہوں کہ ہندوستانی زبان اصلاً وہی ہے جسکو ہم یکسر بھلا بیٹھے ہیں یا کم از کم بھولے نھیں تو دوری تو بنا ہی لی ہے۔۔۔۔اگر ہم کچھ دیر کے لۓ اردو کو برہنہ کرکے دیکھیں یا پھر دورِ جدید کے غیر مستند شعراء و ادباء کے رنگ و روغن کو اردو کے رخِ زیبا سے ہٹا دیا جاۓ تو ہمکو قدیم اردو کی خوبصورت شکل دیکھنے کو ملیگی جسکو ہم کھڑی بھاشا کہتے ہیں یا بقول آپکے دیسی بھاشا کہتے ہیں۔۔۔۔مجھے نھیں معلوم کہ آپنے تاریخِ اردو کی کوئ مستند کتاب پڑھی ہے یا نھیں، تاریخِ اردو کے کسی ماہر شخص کے محادثات سے آپکا سابقہ پڑا ہے یا نھیں لیکن میں ان تمام باتوں سے صرفِ نظر یہ کہنا چاہونگا کہ آج کے متجددین اور نام نہاد شعراء معاً ادباء اب اردو کی قدیم روایات کو بھول بیٹھے ہیں سواۓ دو چار کے۔اب وہ اردو اور غیر اردو کے فرق کی تمیز کو بھی کھو چکے ہیں۔۔۔۔یہی وجہ ہیکہ مجھے دورِ جدید کی اردو اگر یہ کہوں تو زیادہ بہتر ہوگا طوائف سے اب نفرت ہوگئ ہے۔۔میں نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی ہے یقیناً وہاں کی زبان غیر معیاری اور غیر مستند ہے لیکن یہ بھی کھلی حقیقت ہیکہ اسی معاشرے میں کھڑی بھاشا نے جنم لیا جسے آگے چل کر ہم نے اور آپنے اردو کا نام دیا۔میرا اشارہ طوطیء ہند جانشینِ نظام الدین اولیاء حضرت امیر خسرو کی طرف ہے۔امیر خسرو ہی وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اردو کو ہندوی کے نام سے مخاطب کیا۔بعد میں وہی ہندی کہلائ۔وقت گزرتا گیا۔لوگوں نے نفرت کے خنجر سے اردو کو عین جوانی کے دنوں میں درمیان سے دو حصوں میں بانٹ کر رکھ دیا اور وہی کھڑی بھاشا، وہی تِلک لگاۓ ہندوی آگے چل کر الگ الگ آستانوں پر اردو ہندی کے نام کے ساتھ پوجی گئ۔۔۔بہرحال مجھے اسکا دکھ ہے۔۔۔
جسے ہم آج دیسی اور گنوار پن کا نام دیتے ہیں حقیقت میں وہی اردو ہے۔کبھی موقع ملے تو روشنی کے شہروں کو چھوڑ کر جنگلات میں نکلیۓ اور وہاں کے مرغزاروں اور سبزہ زاروں کو دیکھیۓ آپکو ہریالی صرف وہیں نظر آئیگی یا پھر ایسا کیجیے منہدم ہوتے ہوۓ کھنڈرات کا قصد کیجیے یا پھر رنگ چھوڑتی ہوئ تعمیرات کا مشاہدہ کیجیے اصل حسن آپکو وہیں ملیگا۔یہ جدیدیت اور تمتماتی روشنیاں جو ایڈسن کی پیداوار ہیں یہ محض آپکی نگاہ کو خیرہ اور چکاچوندھ تو کرسکتی ہیں مگر سکون،صرف چودھویں شب کی دودھیائ روشنی یا پھر مہِ کامل کی درخشانی ہی دے سکتی ہے۔ٹھیک اسی طرح زبان کا حال ہے۔دورِ جدید کی زبان اور اسکے ماہرین ہمیں اور آپکو صرف وقتی ذائقہ،نا رکنے والی تالیوں کی گڑگڑاہٹ اور زبان کے نام پر صرف دو چار بدنما تعبیرات کے سوا کچھ نھیں دے سکتے۔اگر ہمیں زبان کی تلاش ہے تو ولی سے ملنا ہوگا،غالب سے آدابِ میکشی کو سیکھنا ہوگا،اقبال کا رمز اور خودی کو اوڑھنا پڑیگا،ابوالکلام کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں بھی اٹھانی پڑینگی،شورش کی طرح دل میں شور بھی پیدا کرنا ہوگا،پریم چند کی طرح ٹھیٹ گنوار بھی بننا پڑیگا،مجاز کا خمار اور اسرار کے رموز بھی ڈھونڈنا ہونگے،میر کی طرح آہیں بھرنا پڑینگی اور سودا کی طرح واہ واہی لٹانی پڑیگی،ساحر کے سحر میں ڈوبنا تو کیفی کی کیفیت کو اوڑھنا پڑیگا۔۔۔قصہ مختصر نئ طشتری کے ساتھ ساتھ پرانی تھالی بھی رکھنا پڑیگی۔جہاں چینی پیالے میں فورک کے ساتھ ساتھ مٹی کے برتن میں دبا پِچکا ایک چمچہ بھی ہوگا۔۔۔یہی ہماری زبان کے عناصر ہیں جو قدیم و جدید کا اشتراک چاہتی ہے۔جو کبھی ساڑھی تو کبھی پتلون مانگتی ہے۔جو کبھی شلوار تو کبھی جینز کی بھی فرمائش کرتی ہے۔۔۔یہی تو اسکے ناز و انداز ہیں۔۔۔۔اور یہی تو اسکی عشوہ گری ہے؛
انوار سلیم
گنجڈونڈوارہ
کاسگنج ، یوپی
از قلم : انوار سلیم
-----------------------------------------------------------
اردو زبان یا میں یوں کہوں کہ ہندوستانی زبان اصلاً وہی ہے جسکو ہم یکسر بھلا بیٹھے ہیں یا کم از کم بھولے نھیں تو دوری تو بنا ہی لی ہے۔۔۔۔اگر ہم کچھ دیر کے لۓ اردو کو برہنہ کرکے دیکھیں یا پھر دورِ جدید کے غیر مستند شعراء و ادباء کے رنگ و روغن کو اردو کے رخِ زیبا سے ہٹا دیا جاۓ تو ہمکو قدیم اردو کی خوبصورت شکل دیکھنے کو ملیگی جسکو ہم کھڑی بھاشا کہتے ہیں یا بقول آپکے دیسی بھاشا کہتے ہیں۔۔۔۔مجھے نھیں معلوم کہ آپنے تاریخِ اردو کی کوئ مستند کتاب پڑھی ہے یا نھیں، تاریخِ اردو کے کسی ماہر شخص کے محادثات سے آپکا سابقہ پڑا ہے یا نھیں لیکن میں ان تمام باتوں سے صرفِ نظر یہ کہنا چاہونگا کہ آج کے متجددین اور نام نہاد شعراء معاً ادباء اب اردو کی قدیم روایات کو بھول بیٹھے ہیں سواۓ دو چار کے۔اب وہ اردو اور غیر اردو کے فرق کی تمیز کو بھی کھو چکے ہیں۔۔۔۔یہی وجہ ہیکہ مجھے دورِ جدید کی اردو اگر یہ کہوں تو زیادہ بہتر ہوگا طوائف سے اب نفرت ہوگئ ہے۔۔میں نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی ہے یقیناً وہاں کی زبان غیر معیاری اور غیر مستند ہے لیکن یہ بھی کھلی حقیقت ہیکہ اسی معاشرے میں کھڑی بھاشا نے جنم لیا جسے آگے چل کر ہم نے اور آپنے اردو کا نام دیا۔میرا اشارہ طوطیء ہند جانشینِ نظام الدین اولیاء حضرت امیر خسرو کی طرف ہے۔امیر خسرو ہی وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اردو کو ہندوی کے نام سے مخاطب کیا۔بعد میں وہی ہندی کہلائ۔وقت گزرتا گیا۔لوگوں نے نفرت کے خنجر سے اردو کو عین جوانی کے دنوں میں درمیان سے دو حصوں میں بانٹ کر رکھ دیا اور وہی کھڑی بھاشا، وہی تِلک لگاۓ ہندوی آگے چل کر الگ الگ آستانوں پر اردو ہندی کے نام کے ساتھ پوجی گئ۔۔۔بہرحال مجھے اسکا دکھ ہے۔۔۔
جسے ہم آج دیسی اور گنوار پن کا نام دیتے ہیں حقیقت میں وہی اردو ہے۔کبھی موقع ملے تو روشنی کے شہروں کو چھوڑ کر جنگلات میں نکلیۓ اور وہاں کے مرغزاروں اور سبزہ زاروں کو دیکھیۓ آپکو ہریالی صرف وہیں نظر آئیگی یا پھر ایسا کیجیے منہدم ہوتے ہوۓ کھنڈرات کا قصد کیجیے یا پھر رنگ چھوڑتی ہوئ تعمیرات کا مشاہدہ کیجیے اصل حسن آپکو وہیں ملیگا۔یہ جدیدیت اور تمتماتی روشنیاں جو ایڈسن کی پیداوار ہیں یہ محض آپکی نگاہ کو خیرہ اور چکاچوندھ تو کرسکتی ہیں مگر سکون،صرف چودھویں شب کی دودھیائ روشنی یا پھر مہِ کامل کی درخشانی ہی دے سکتی ہے۔ٹھیک اسی طرح زبان کا حال ہے۔دورِ جدید کی زبان اور اسکے ماہرین ہمیں اور آپکو صرف وقتی ذائقہ،نا رکنے والی تالیوں کی گڑگڑاہٹ اور زبان کے نام پر صرف دو چار بدنما تعبیرات کے سوا کچھ نھیں دے سکتے۔اگر ہمیں زبان کی تلاش ہے تو ولی سے ملنا ہوگا،غالب سے آدابِ میکشی کو سیکھنا ہوگا،اقبال کا رمز اور خودی کو اوڑھنا پڑیگا،ابوالکلام کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں بھی اٹھانی پڑینگی،شورش کی طرح دل میں شور بھی پیدا کرنا ہوگا،پریم چند کی طرح ٹھیٹ گنوار بھی بننا پڑیگا،مجاز کا خمار اور اسرار کے رموز بھی ڈھونڈنا ہونگے،میر کی طرح آہیں بھرنا پڑینگی اور سودا کی طرح واہ واہی لٹانی پڑیگی،ساحر کے سحر میں ڈوبنا تو کیفی کی کیفیت کو اوڑھنا پڑیگا۔۔۔قصہ مختصر نئ طشتری کے ساتھ ساتھ پرانی تھالی بھی رکھنا پڑیگی۔جہاں چینی پیالے میں فورک کے ساتھ ساتھ مٹی کے برتن میں دبا پِچکا ایک چمچہ بھی ہوگا۔۔۔یہی ہماری زبان کے عناصر ہیں جو قدیم و جدید کا اشتراک چاہتی ہے۔جو کبھی ساڑھی تو کبھی پتلون مانگتی ہے۔جو کبھی شلوار تو کبھی جینز کی بھی فرمائش کرتی ہے۔۔۔یہی تو اسکے ناز و انداز ہیں۔۔۔۔اور یہی تو اسکی عشوہ گری ہے؛
انوار سلیم
گنجڈونڈوارہ
کاسگنج ، یوپی
