اعتکاف کا اصل مقصد دنیا کے معمولات سے کٹ کر اللہ کی ذات سے خود کو وابستہ کرنا ہے
رمضان المبارک کا آخری عشرہ جہنم سے خلاصی کا سبب ہے قاری عطاء الرحمن ندوی
فتحپور بارہ بنکی :14مئی 2020 آئی این اے نیوز
ماہ رمضان جو رحمتوں اور برکتوں کا خزینہ ہے اس کا تیسرا عشرہ شروع ہوچکا ہے جسکی بڑی فضیلت ہے یہ آخری عشرہ دوزخ سے نجات کا ہے جس میں نجات مانگنے والوں کو دوزخ کی آگ سے نجات دے دی جاتی ہے اسلئے ہمیں چاہیے کہ اس عشرہ میں رضائے الٰہی کے حصول کی بھر پور کوشش کریں جسمیں اعتکاف کو خاص اہمیت حاصل ہے
مذکورہ خیالات کا اظہار قاری عطاء الرحمن ندوی نے رمضان المبارک اور اعتکاف کے پیش نظر اپنے ایک پیغام میں کیا
انھوں نے کہا کہ دنیا کے معمولات سے کٹ کر اللہ کے در پر پڑ جانا اور اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ خود کو وابستہ کرنا اعتکاف کا اصل مقصد ہے ۔ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے معتکف کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ وقت دعوت اور عبادت کی مشغولیت میں لگائے
قاری عطاء الرحمن ندوی نے اعتکاف کے فضائل کے تعلق حدیث کی روشنی کے حوالے سے کہا کہ جو شخص ﷲ کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اﷲ تبارک و تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کردیتا ہے۔ ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے ایک دوسری روایت کے مطابق رسول اضﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا، اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے، موجودہ ماحول میں بھی آپس کے مشورہ سے محلہ یا بستی کی مسجد میں کوئی شخص آخری عشرہ کا اعتکاف کرلے، اگر محلے کی ایک مسجد میں اعتکاف کرلے تو پورے محلے یا بستی کی طرف سے اعتکاف کی سنت کی ادائیگی ہو جائے گی۔
مردوں کا گھروں میں اعتکاف کرنا درست نہیں ہے، البتہ عورتیں گھر کے کسی خاص حصہ میں اعتکاف کرسکتی ہیں
قاری عطاء الرحمن ندوی نے مزید کہا کہ دن اور رات بڑی تیزی کے ساتھ ساتھ گزرتے جا رہے ہیں اور اب تک خیروبرکت والے مہینے کا اکثر وقت گزر چکا ہے چند راتیں اور رحمت بھری معمولی سی ساعت باقی رہ گئی ہیں جس نے بھی گذشتہ دنوں میں نیک اعمال کئے ہیں وہ تو اللہ کا شکر ادا کرے کہ اللہ نے اسے نیکیاں کرنے کی توفیق دی اسے چاہئے کہ اپنے اعمال کو ضائع کرنے والے امور سے بچائے اور ثواب میں کمی کا باعث بننے والی چیزوں سے اجتناب کرے کرے اور مزید رضا الہی حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جو شخص گزشتہ دنوں میں کمی و کوتاہی کا شکار رہا ہے تو وہ اب بھی کمر کس لے اور بھرپور طریقے سے عبادت اور نیکیاں کرے تاکہ سابقہ کمی پوری ہوجائے کیونکہ نتائج اختتام کے مطابق نکلتے ہیں اللہ ہم سب کی مغفرت فرمائے
انھوں نے کہا کہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں عید سادگی سے منائیں
رمضان المبارک کا آخری عشرہ جہنم سے خلاصی کا سبب ہے قاری عطاء الرحمن ندوی
فتحپور بارہ بنکی :14مئی 2020 آئی این اے نیوز
ماہ رمضان جو رحمتوں اور برکتوں کا خزینہ ہے اس کا تیسرا عشرہ شروع ہوچکا ہے جسکی بڑی فضیلت ہے یہ آخری عشرہ دوزخ سے نجات کا ہے جس میں نجات مانگنے والوں کو دوزخ کی آگ سے نجات دے دی جاتی ہے اسلئے ہمیں چاہیے کہ اس عشرہ میں رضائے الٰہی کے حصول کی بھر پور کوشش کریں جسمیں اعتکاف کو خاص اہمیت حاصل ہے
مذکورہ خیالات کا اظہار قاری عطاء الرحمن ندوی نے رمضان المبارک اور اعتکاف کے پیش نظر اپنے ایک پیغام میں کیا
انھوں نے کہا کہ دنیا کے معمولات سے کٹ کر اللہ کے در پر پڑ جانا اور اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ خود کو وابستہ کرنا اعتکاف کا اصل مقصد ہے ۔ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے معتکف کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ وقت دعوت اور عبادت کی مشغولیت میں لگائے
قاری عطاء الرحمن ندوی نے اعتکاف کے فضائل کے تعلق حدیث کی روشنی کے حوالے سے کہا کہ جو شخص ﷲ کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اﷲ تبارک و تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کردیتا ہے۔ ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے ایک دوسری روایت کے مطابق رسول اضﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا، اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے، موجودہ ماحول میں بھی آپس کے مشورہ سے محلہ یا بستی کی مسجد میں کوئی شخص آخری عشرہ کا اعتکاف کرلے، اگر محلے کی ایک مسجد میں اعتکاف کرلے تو پورے محلے یا بستی کی طرف سے اعتکاف کی سنت کی ادائیگی ہو جائے گی۔
مردوں کا گھروں میں اعتکاف کرنا درست نہیں ہے، البتہ عورتیں گھر کے کسی خاص حصہ میں اعتکاف کرسکتی ہیں
قاری عطاء الرحمن ندوی نے مزید کہا کہ دن اور رات بڑی تیزی کے ساتھ ساتھ گزرتے جا رہے ہیں اور اب تک خیروبرکت والے مہینے کا اکثر وقت گزر چکا ہے چند راتیں اور رحمت بھری معمولی سی ساعت باقی رہ گئی ہیں جس نے بھی گذشتہ دنوں میں نیک اعمال کئے ہیں وہ تو اللہ کا شکر ادا کرے کہ اللہ نے اسے نیکیاں کرنے کی توفیق دی اسے چاہئے کہ اپنے اعمال کو ضائع کرنے والے امور سے بچائے اور ثواب میں کمی کا باعث بننے والی چیزوں سے اجتناب کرے کرے اور مزید رضا الہی حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جو شخص گزشتہ دنوں میں کمی و کوتاہی کا شکار رہا ہے تو وہ اب بھی کمر کس لے اور بھرپور طریقے سے عبادت اور نیکیاں کرے تاکہ سابقہ کمی پوری ہوجائے کیونکہ نتائج اختتام کے مطابق نکلتے ہیں اللہ ہم سب کی مغفرت فرمائے
انھوں نے کہا کہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں عید سادگی سے منائیں
