اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *ملکی حالات اور مسلمان اپنے اعمال وکردار کے آئینے میں* ✍🏻از: محمد عظیم فیض آبادی دارالعـلوم النصرہ دیـوبند *9358163428*

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 12 May 2020

*ملکی حالات اور مسلمان اپنے اعمال وکردار کے آئینے میں* ✍🏻از: محمد عظیم فیض آبادی دارالعـلوم النصرہ دیـوبند *9358163428*

*ملکی حالات اور مسلمان اپنے اعمال وکردار کے آئینے میں*



✍🏻از: محمد عظیم فیض آبادی دارالعـلوم النصرہ دیـوبند
             *9358163428*


اس وقت ملک کے جو حالات ہیں ہر طرف سے جس طرح ایک مخصوص طبقہ کے لئے عرصہ حیات تنگ کیا جارہاہے حکومتیں جس طرح ظلم وناانصافی پر تلی ہوئی ہیں حکومتوں کے ذریعہ انجام پانے والے احکام کو عدالتیں جس طرح تصدیق کرکے ظلم وستم کو جواز فراہم کررہی ہیں اور پھر میڈیا کے ذریعہ اس کی صحت وجواز کا پرچار کیاجارہا ہے وہ ہم سب چند سالوں سے مشاہدہ کرہے ہیں گوشت کی پابندی کے ذریعہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے روز گار پر قدغن ہو یا ماب لنچنگ میں بے گناہ لوگوں کی شہادت، تین طلاق بل کے ذریعہ اسلام وشعائر اسلام کو نشانہ بناناہو یا پھر کشمیر کی مخصوص دفعہ کو ختم کرکے کشمیریوں کے ساتھ بے تحاشہ ظلم وستم وقید وبند کا تسلسل، عدل وانصاف کا گلا گھونٹ کر ہندوستان کی عظمت رفتہ کا نشان سمجھی جانے والی بابری مسجد سے کے حق سے محرومی اور اس پر ظالمانہ قبضہ یاپھر مسلمانوں کو این آرسی، این پی آر،  اور سی اے اے، کے ذریعہ دیش بدرکرکے اندلس کی تاریخ دھرانے کی خفیہ سازش ، ایک ایک کرکے حالات پر حالات آتے رہےاوراب کوروناجیسے مہلک وائرس اور مہاماری میں بجائے اس کی کہ پورا ملک متحد ہو کر اس سے حفاظت وبچاؤ کی تدابیراختیار کرتا یہاں بھی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے کورونا کاسارا ٹھیکراتبلیغی جماعت اور مسلمانوں کے سر پھوڑکر اس کا ذمہ داربراہ راست مسلمانوں کو ٹھہرانے کی ناپاک کوشش کی گئی جیسے کہ کورونا وائرس مسلمانوں سے ہی پیدا ہوتاہے مزید ڈاڑھی توپی دیکھ کر نشانہ بنایا جاتا، مسلم نام معلوم ہونے پر بے دردی سے لاٹھیا برسائی جاتی ہیں ، مسلمان دیکھ کر سبزی کی ٹھیلیاں الٹتے ہوئے میڈیا میں نہ جانے کتنی تصویریں شائع ہو چکی ہیں
 الغرض مسلمان ہر طرف سے مصائب واعلام میں پِس رہاہےکوئی پرسان حال نہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب حالات اعمال بد اور برائیوں کی کثرت کا نتیجہ ہے مسلم امہ میں اتحاد واتفاق کا فقدان دین سے دوری عقائد واعمال کی خرابی ظالم حکمرانوں کے تسلط کی وجہ ہے 
لیکن مسلمان ہے کہ نہ اسکے اخلاق وکردارپر کوئی فرق نہ ہی اپنے عقائد واعمال کے اصلاح کی طرف کوئی توجہ نہ گناہوں سے توبہ استغفارکا کچھ خیال نہ ہی  رجوع الی اللہ ودعاکاکچھ احساس ، نہ اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ودرماندگی کا اقرار، نہ غیروں کے طور طریق ترک کرنےاور ان کے شعائر سے نفرت کا احساس اجاگر ہوا اور نہ ہی  اسلامی تہذیب وتمدن کے اپنانے کا کوئی شوق وجزبہ بیدار ہوا ،
 آج بھی ہمارے عقائدواعمال،  اخلا ق وکردار طریقہ زندگی جیسا تھا ویسا ہی ہے نہ ہی ہم نے ان حالات سے کوئی سبق لیا نہ ہی اس کی درستگی کی طرف کبھی کوئی توجہ دی ، نہ ہی اپنے اندر موجود خامیوں کمیوں کو دور کرنے کی کوئی ادنیٰ سی کوشش کی
     نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی سنتوں ،ان کی تعلیمات وہدایات کے نور سے ہماری زندگی کا ہر پہلوہر وقت وہر لمحہ جگمگانا چاہئے تھا لیکن افسوس کہ آج بھی ہماری زندگی کے شب وروز اسلامی تعلیمات وہدایات کی روشنی سے محروم ہیں ،
 اخلاق حسنہ سے ہم ناآشنا، اعمال خیر سے دوری ، صلہ رحمی کے بجائےقطع رحمی ہمارا شیوہ،  آپسی ناچاکی اور خاندانی افتراق گھرگھر کی کہانی ہے، دوسروں کی حق تلفی تو عام بات ہے  بہن بیٹی کو وراثت وحصہ تو ایک داستان پارینہ بن چکا ہے (حد تو یہ کہ مسلمان اب یہ بھی نہیں جانتا کہ ان کا وراثت میں کچھ حق وحصہ بھی ہے ) زکاة وصدقات یاتو دینا ہی چھوڑ دیا یاپھر اس کو بوجھ سمجھا جانے لگا،خوش طبعی ، فرض شناسی کے احساس اور باعث برکت سمجھنے کے بجائے اسے بدلی ، کبیدگی کے ساتھ احسان کے جزبے کے ساتھ دیاجاتاہے ،
  اسی طرح جھوٹ، غیبت، بغض وعداوت ،کینہ حسد،  تو معاشرے کا جزء بن گیا ہے دھوکھے کا نام تجات رکھ دیاگیا معاملات کی درستگی اور معاشرت کا کہیں وجود ہی نہیں جوّا سٹّا شراب،  نشہ کی لت سے نوجوان طبقہ سرمست ہے ، فحش وبےحیائی زناتو بالکل عام ہوچکا ہے ، جہیز کی لعنت کو نہ یہ کی خوشدلی سے قبول کیا جاتاہے بلکہ اس کے حصول پر فخر محسوس کیا جاتا ہے حد تو یہ ہے کہ جہیز میں طرح طرح کے سامانوں کا مطالبہ کیا جاتاہے اور قرآن اور قرآنی تعلیمات تو دن بدن ناپید ہوتی جارہی ہے دنیاوی وعصری علوم جس کے فوائد وثمرات صرف دنیوی زندگی تک محدود ہیں اس کے حصول کی دُھن میں دین کی اعلی تعلیم تو کیا اس کی بنیادی اور واجبی تعلیم سے بھی خاندان کے خاندان محروم ہیں غور فرمائیں کہ نیکیوں اور اچھایئوں کے قبیل کی کونسی چیز ہے جس پر آج ہمارا معاشرہ کارپابند ہے اور برایئوں بدیوں میں سے کونسی چیز ہے جس سے ہم محفوظ  ہیں نتیجہ یہ کہ ہر برائی میں ہم آگے  اور ہراچھائی سے آج ہم دور ہیں
اور یہ سب اللہ کی ناراضگی خفگی کے اسباب ہیں اسی وجہ آج مسجدیں بند ہیں تراویح اورختم قرآن کا کوئ صحیح نظم نہیں عید کی نماز کی بندش کا آج ہی سےاعلان کردیا گیا کسی طرح کی مذہبی تقریب پر روک لگا دی گئی ہے حتیٰ کہ حرمیں شریفین سے بھی محروم کردیئےگئے
اب اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ہم ہوش مندی کا مظاہرہ کریں ، ہم احتساب کریں اپنا بھی اپنے اہل خانہ وافراد خاندان کا اور اپنے معاشرے کا بھی جائزہ لیں ، انفرادی طور پر بھی اجتماعی طور پر بھی اپنے عقائد واعمال ،اخلاق وکردار کی اصلاح ودرستگی کی فکر کریں
 برائیوں بداعمالیوں سے پرہیز کریں ، اللہ کو ناراض کرنے والے ہر کام سے توبہ واستغفار کریں برائیوں سے بچنے کا عزم کریں خود بھی اور اپنےاپنے افرادخاندان کو آمادہ کریں،
معاشرےکو بھی حالات کی سنگینی سے باخبر کریں اور
معاشرے میں پھیلنے پنپنےوالی تمام برائیوں کے خاتمے کی تدابیر اختیار کریں زیادہ سے زیادہ صدقہ وخیرات کریں اللہ کے حضور روئیں گڑگڑائیں قبل اسکے کہ توبہ کا دروازہ بھی بند ہوجائے
اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو