غربا:مساکین اور ضرورت مندوں کی مدد کیجئے
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نئ دہلی:8/مئی 2020 آئی این اے نیوز
رمضان المبارک کو حدیث میں شہر مواساۃ یعنی غم خواری کا مہینہ کہا گیا ہے،رمضان المبارک میں ہمیں اپنی عبادتوں کے اہتمام کے ساتھ غربا،مساکین اور ضرورت مندوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے، ہر آدمی اس بات کا خیال رکھ لے کہ اس کا پڑوسی بھوکا نہ سوۓ تو ہر آدمی کی ضرورت کی تکمیل کی شکل بن جائے گی، مال کی زکوٰۃ بے حساب نہیں ، حساب لگا کر نکالیے فطرے کی رقم ضرورت مندوں تک پہونچا ئے، عطیہ کی رقم سے اپنے پڑوسی غیر مسلم بھایئوں کا بھی خیال رکھئے، یہ شرعی اور انسانی تقاضہ ہے، ان خیالات کا اظہار معروف اسلامی اسکالر ،نامور عالم دین مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ و ہفت روزہ نقیب کے مدیر محترم نے ایک اخباری اعلانیہ میں کیا ،انہوں نے کہا کہ اس وقت کڑوڑوں لوگ کورونا کی وجہ سے پریشان ہیں ،عالمی سطح پر لاکھوں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ،ہندوستان میں بھی یہ مرض تیزی سے اپنے بازو پھیلا رہا ہے،لاک ڈاؤن نے کڑوڑوں لوگوں کو بے روزگار کردیا ہے، لوگ بھوکے مر رہے ہیں،ایسے میں اپنی جمع پونجی کو عید کی مارکیٹنگ پر صرف کرنا عقلمندی نہیں ہے،عقلمندی یہ ہے کہ مارکیٹنگ سے گریز کریں،عید سادگی سے منائں اور اس سے بچی رقم کو ضرورت مندوں میں تقسیم کردیں تاکہ ان کی بنیادی ضرورت پوری ہوسکے ، اس طرح آپ بازاروں کی بھیڑ سے بچ کر اپنے کو مرض سے محفوظ رکھ سکیں گے اور دوسروں کی صحت کو بھی متأثر کرنے سے بچ سکیں گے،یعنی ثواب بھی ملے گا اور طبی نقطہ نظر سے امراض سے حفاظت کی بھی شکل بنے گی، اس لئے ہمیں ہر حال میں یقینی بنانا چاہیے کہ عید کی فطری خوشی ہم دوسروں کی مدد کرکے حاصل کریں گے،اور ہمارے قائدین خصوصاً امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم نے جو گائیڈ لائن دیا ہے، اس سے سرمو انحراف نہیں کریں گے۔
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نئ دہلی:8/مئی 2020 آئی این اے نیوز
رمضان المبارک کو حدیث میں شہر مواساۃ یعنی غم خواری کا مہینہ کہا گیا ہے،رمضان المبارک میں ہمیں اپنی عبادتوں کے اہتمام کے ساتھ غربا،مساکین اور ضرورت مندوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے، ہر آدمی اس بات کا خیال رکھ لے کہ اس کا پڑوسی بھوکا نہ سوۓ تو ہر آدمی کی ضرورت کی تکمیل کی شکل بن جائے گی، مال کی زکوٰۃ بے حساب نہیں ، حساب لگا کر نکالیے فطرے کی رقم ضرورت مندوں تک پہونچا ئے، عطیہ کی رقم سے اپنے پڑوسی غیر مسلم بھایئوں کا بھی خیال رکھئے، یہ شرعی اور انسانی تقاضہ ہے، ان خیالات کا اظہار معروف اسلامی اسکالر ،نامور عالم دین مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ و ہفت روزہ نقیب کے مدیر محترم نے ایک اخباری اعلانیہ میں کیا ،انہوں نے کہا کہ اس وقت کڑوڑوں لوگ کورونا کی وجہ سے پریشان ہیں ،عالمی سطح پر لاکھوں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ،ہندوستان میں بھی یہ مرض تیزی سے اپنے بازو پھیلا رہا ہے،لاک ڈاؤن نے کڑوڑوں لوگوں کو بے روزگار کردیا ہے، لوگ بھوکے مر رہے ہیں،ایسے میں اپنی جمع پونجی کو عید کی مارکیٹنگ پر صرف کرنا عقلمندی نہیں ہے،عقلمندی یہ ہے کہ مارکیٹنگ سے گریز کریں،عید سادگی سے منائں اور اس سے بچی رقم کو ضرورت مندوں میں تقسیم کردیں تاکہ ان کی بنیادی ضرورت پوری ہوسکے ، اس طرح آپ بازاروں کی بھیڑ سے بچ کر اپنے کو مرض سے محفوظ رکھ سکیں گے اور دوسروں کی صحت کو بھی متأثر کرنے سے بچ سکیں گے،یعنی ثواب بھی ملے گا اور طبی نقطہ نظر سے امراض سے حفاظت کی بھی شکل بنے گی، اس لئے ہمیں ہر حال میں یقینی بنانا چاہیے کہ عید کی فطری خوشی ہم دوسروں کی مدد کرکے حاصل کریں گے،اور ہمارے قائدین خصوصاً امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم نے جو گائیڈ لائن دیا ہے، اس سے سرمو انحراف نہیں کریں گے۔
