*مردہ کردار..آہ صفورا......*
شاداب راہی محمدی
7376254435
"یہ عزم تھا تمہارا "بہت ہوا ناری پہ وار اب کی بار مودی سرکار"...
بہت ظالم اور روح فرسا مناظر ہے۔تمسخر اڑانے کی اساس ہر زاویے سے کار فرما ہے۔معاشرتی رویوں میں بہت بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ہر سنجیدہ فکر شخص کے لئے یہ لیل و نہار ایک وبال جان سے کم نہیں ہے۔سماجی عادلانہ مزاج پر ایک کاری ضرب ہے۔سیاسی سطح پر مسلمانوں کی عزت وآبرو کا مزاق ہے۔امت مسلمہ کی باہمی آویزش کو ہوا دینا روشن دماغ کے لئے قاتلانہ حملہ ہے
مردہ کردار نے ہر مسلم ماں بہن کی اہمیت وقدر کو گدلا کرنے کی کوشش کی ہے۔اذہان وقلوب سے ہمدردی اور اخوت کو روندنے کا کام کیا ہے۔اس درندگی کو ہر نظر سے اوجھل کرنے کی ناکام پہل اور سعی کی ہے۔آج کی ہر صفورا کے لئے آسمان والے کو برات نازل کرنے کا چیلینج کیا ہے۔عورت کی نفسیات اور پاکدامنی کو حصار اوردائرے میں لانے کی بے لگام جستجو کی ہے۔مرد محافظ کا لقب لیکر اہلیان حکومت نے صفورا جیسی ہر ماں بہن کی قدر وقیمت کو بےقیمت بیچ دینے کا عزم کیا ہے۔بیشتر اقوال وافعال بدبودار کردار کی نا آسودگی کا اظہار کیا ہے۔راسخ تعصباتِ مسلم خواتین کا اعلان کیا ہے۔
غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
اہل دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے......
یہ عزم تھا تمہارا "بہت ہوا ناری پہ وار اب کی بار مودی سرکار۔۔۔۔۔۔۔انسانی تاریخ کے باب میں ان خیالات کی حقیقت ضرور لکھی جائے گی۔پر سوال یہ ہے کیا لکھی جائے گی؟مانا کہ آج کی مقبول تصویر صفورا کی بد قسمتی، تین ماہ کا حمل اور تہاڑ جیل ہے پر اس وحشت وبربریت کو کل نوک قلم کون دے گا؟ مورخین اس یاد کو کس خاک ابواب میں ڈالینگے کہ "دنیا ایک وبا سے نمٹنے کو پوری طاقت لگا رکھی تھی اور ہماری زمین پر بے بسی کے ساتھ ظالمیت کی انتہا عروج کو تھی؟موجودہ تہذیبی دور میں کیوں پرانی تصاویر دنیا نظروں کے سامنے رقاص بنی ہوئ ہے؟کیوں زور اور طاقت کے سہارے مظلوموں پر بالا دستی قائم کی جارہی ہے؟بیٹیاں باپ کے آنگن کی پھول ہے۔لاڈو بھائ کی محبت و انسیت ہے اور شوہر کی بیش قیمتی سرمایہ بھی۔کیوں سر عام یوں بہن بیٹیوں کی عفت کو داغدار کر رہے ہیں۔۔۔اور اس مردہ کردار کے ذریعے"مرد عظیم"بننے کی آرزو اور تمنا ہے۔
عورت کو آپ نے قریب سے دیکھا ہوگا ماں نے آپ کو جنم دیا۔پالا پوسا بڑا کیا۔کیا فرق ہے آپ کی اور ہماری ماں میں۔کیا فرق ہے آپ کی بہن اور صفورا بہن میں۔کیا آپ اور ہم اپنی پہلی حاملہ بیٹی کو یہ سزا دینا گوارا کرینگے۔عورتوں کی ترقی وطن کے لئے قابل عتاب نہیں۔عورتیں بڑے اختیارات کی مالک ہیں۔لیکن زیر کرنے کا یہ طریقہ آپ کا بالکل ناقابل تلافی ہے۔
تاریخ نے کئ ایک المناک باب تحریر کئے اور آپ کی یہ ہمت و جذبہ اسی قابل ہے۔تخریب اور طاقت کی زور دائمی کہاں کسی کو ملی ہے۔اس کارکردگی سے آپ کیا حاصل کرینگے۔عقل ودانش کا پوٹری دینے والا کس قدر بھیانک حساب کرے گا۔آخرکار اس مردہ کوکھ سے کیا کچھ جنم دینے کی خواہنش ہے۔اب اور کتنا انسانی فطرت کا مسخرا کرینگے۔ان جرائم بطون سے وطن کے لئے آپ کیا جنم دے رہے ہیں۔آپ نے اس عہد کے باب میں ایک اضافہ ضرور کردیا کہ انسانیت کو آہستہ آہستہ محرومیوں اور ذلتوں کی پستیوں میں گرا دیا ہے۔
یہ ہم نے جانا ہے قوم مسلم اس وطن عزیز میں معاشرتی نئے محاصل اور فوائد میں حصہ نہیں لے سکتے۔پر جینے کے حقوق کے برابر یا اس سے زیادہ قربانیاں ہماری بھی ہے۔بے چہرہ اور بے وسیلہ زندگی کی بھیک ہم کیوں مانگیں؟متحرک اور چوکس طبقہ بننا کس جرم میں آتا ہے؟افراد کو عزت واختیار کا حق کیا نہیں ملنی چاہئے؟کیا ہم اپنے گھر اور مکان کے لئے پرسکون آواز بھی نہیں اٹھا سکتے؟ہم آپ کی اقتدار میں شراکت دار نہیں صحیح وطن کی مٹی میں ہمیں شامل کیوں نہیں مانتے؟ہم اپنے تمام حقوق سے محروم کب اور کیوں کر ہوگئے؟؟
یہ چند سوالات کا جواب زندہ کردار سے حل ہونگے۔محکوم او مطیع بنانے میں جبر کا کوئ رول نہیں۔نفرت کی آگ سے انقلابات کو ہی جنم دی جا سکتی ہے۔آپ نے خوب دیکھا ہے ایک شاہین باغ کی تحریک سمندری موجوں کی طرح ہر چار سو پھیل گئیں۔۔غیر منصفانہ اقدام کا زوال لازمی اور یقینی ہے۔ہر فرد وطن کی حقوق اور حمایت میں کھڑا ہونا ہی اصل دیش بھکتی ہے۔
آپ کو منہ نہیں لگایا تو ۔۔۔۔۔
آپ بہتان پر اتر آئے ۔۔۔۔۔۔۔
شاداب راہی محمدی
7376254435
"یہ عزم تھا تمہارا "بہت ہوا ناری پہ وار اب کی بار مودی سرکار"...
بہت ظالم اور روح فرسا مناظر ہے۔تمسخر اڑانے کی اساس ہر زاویے سے کار فرما ہے۔معاشرتی رویوں میں بہت بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ہر سنجیدہ فکر شخص کے لئے یہ لیل و نہار ایک وبال جان سے کم نہیں ہے۔سماجی عادلانہ مزاج پر ایک کاری ضرب ہے۔سیاسی سطح پر مسلمانوں کی عزت وآبرو کا مزاق ہے۔امت مسلمہ کی باہمی آویزش کو ہوا دینا روشن دماغ کے لئے قاتلانہ حملہ ہے
مردہ کردار نے ہر مسلم ماں بہن کی اہمیت وقدر کو گدلا کرنے کی کوشش کی ہے۔اذہان وقلوب سے ہمدردی اور اخوت کو روندنے کا کام کیا ہے۔اس درندگی کو ہر نظر سے اوجھل کرنے کی ناکام پہل اور سعی کی ہے۔آج کی ہر صفورا کے لئے آسمان والے کو برات نازل کرنے کا چیلینج کیا ہے۔عورت کی نفسیات اور پاکدامنی کو حصار اوردائرے میں لانے کی بے لگام جستجو کی ہے۔مرد محافظ کا لقب لیکر اہلیان حکومت نے صفورا جیسی ہر ماں بہن کی قدر وقیمت کو بےقیمت بیچ دینے کا عزم کیا ہے۔بیشتر اقوال وافعال بدبودار کردار کی نا آسودگی کا اظہار کیا ہے۔راسخ تعصباتِ مسلم خواتین کا اعلان کیا ہے۔
غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
اہل دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے......
یہ عزم تھا تمہارا "بہت ہوا ناری پہ وار اب کی بار مودی سرکار۔۔۔۔۔۔۔انسانی تاریخ کے باب میں ان خیالات کی حقیقت ضرور لکھی جائے گی۔پر سوال یہ ہے کیا لکھی جائے گی؟مانا کہ آج کی مقبول تصویر صفورا کی بد قسمتی، تین ماہ کا حمل اور تہاڑ جیل ہے پر اس وحشت وبربریت کو کل نوک قلم کون دے گا؟ مورخین اس یاد کو کس خاک ابواب میں ڈالینگے کہ "دنیا ایک وبا سے نمٹنے کو پوری طاقت لگا رکھی تھی اور ہماری زمین پر بے بسی کے ساتھ ظالمیت کی انتہا عروج کو تھی؟موجودہ تہذیبی دور میں کیوں پرانی تصاویر دنیا نظروں کے سامنے رقاص بنی ہوئ ہے؟کیوں زور اور طاقت کے سہارے مظلوموں پر بالا دستی قائم کی جارہی ہے؟بیٹیاں باپ کے آنگن کی پھول ہے۔لاڈو بھائ کی محبت و انسیت ہے اور شوہر کی بیش قیمتی سرمایہ بھی۔کیوں سر عام یوں بہن بیٹیوں کی عفت کو داغدار کر رہے ہیں۔۔۔اور اس مردہ کردار کے ذریعے"مرد عظیم"بننے کی آرزو اور تمنا ہے۔
عورت کو آپ نے قریب سے دیکھا ہوگا ماں نے آپ کو جنم دیا۔پالا پوسا بڑا کیا۔کیا فرق ہے آپ کی اور ہماری ماں میں۔کیا فرق ہے آپ کی بہن اور صفورا بہن میں۔کیا آپ اور ہم اپنی پہلی حاملہ بیٹی کو یہ سزا دینا گوارا کرینگے۔عورتوں کی ترقی وطن کے لئے قابل عتاب نہیں۔عورتیں بڑے اختیارات کی مالک ہیں۔لیکن زیر کرنے کا یہ طریقہ آپ کا بالکل ناقابل تلافی ہے۔
تاریخ نے کئ ایک المناک باب تحریر کئے اور آپ کی یہ ہمت و جذبہ اسی قابل ہے۔تخریب اور طاقت کی زور دائمی کہاں کسی کو ملی ہے۔اس کارکردگی سے آپ کیا حاصل کرینگے۔عقل ودانش کا پوٹری دینے والا کس قدر بھیانک حساب کرے گا۔آخرکار اس مردہ کوکھ سے کیا کچھ جنم دینے کی خواہنش ہے۔اب اور کتنا انسانی فطرت کا مسخرا کرینگے۔ان جرائم بطون سے وطن کے لئے آپ کیا جنم دے رہے ہیں۔آپ نے اس عہد کے باب میں ایک اضافہ ضرور کردیا کہ انسانیت کو آہستہ آہستہ محرومیوں اور ذلتوں کی پستیوں میں گرا دیا ہے۔
یہ ہم نے جانا ہے قوم مسلم اس وطن عزیز میں معاشرتی نئے محاصل اور فوائد میں حصہ نہیں لے سکتے۔پر جینے کے حقوق کے برابر یا اس سے زیادہ قربانیاں ہماری بھی ہے۔بے چہرہ اور بے وسیلہ زندگی کی بھیک ہم کیوں مانگیں؟متحرک اور چوکس طبقہ بننا کس جرم میں آتا ہے؟افراد کو عزت واختیار کا حق کیا نہیں ملنی چاہئے؟کیا ہم اپنے گھر اور مکان کے لئے پرسکون آواز بھی نہیں اٹھا سکتے؟ہم آپ کی اقتدار میں شراکت دار نہیں صحیح وطن کی مٹی میں ہمیں شامل کیوں نہیں مانتے؟ہم اپنے تمام حقوق سے محروم کب اور کیوں کر ہوگئے؟؟
یہ چند سوالات کا جواب زندہ کردار سے حل ہونگے۔محکوم او مطیع بنانے میں جبر کا کوئ رول نہیں۔نفرت کی آگ سے انقلابات کو ہی جنم دی جا سکتی ہے۔آپ نے خوب دیکھا ہے ایک شاہین باغ کی تحریک سمندری موجوں کی طرح ہر چار سو پھیل گئیں۔۔غیر منصفانہ اقدام کا زوال لازمی اور یقینی ہے۔ہر فرد وطن کی حقوق اور حمایت میں کھڑا ہونا ہی اصل دیش بھکتی ہے۔
آپ کو منہ نہیں لگایا تو ۔۔۔۔۔
آپ بہتان پر اتر آئے ۔۔۔۔۔۔۔
