اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: ہمارا ہیرو راجہ داہر یا محمد بن قاسم؟ از قلم: انس بجنوری

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 8 May 2020

ہمارا ہیرو راجہ داہر یا محمد بن قاسم؟ از قلم: انس بجنوری

ہمارا ہیرو راجہ داہر یا محمد بن قاسم؟

از قلم: انس بجنوری

دس رمضان آتے ہی صوبہ سندھ کے کچھ نام نہاد سادات راجہ داہر کی موت اور ذلت آمیز شکست کاناقابل یادگار دن بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں،اسے اپنا قابل فخر ہیرو اور بے مثال فاتح گردانتے ہیں۔۔
تاریخ سے چشم پوشی برت کر راجہ داہر کو حضرت حسین علیہ السلام کا مددگار تک کہا جاتا ہے،بنی امیہ کے بغض میں جل بھن کر ایک خطرناک ظالم حکمراں کو اپنا ہیرو تسلیم کرلینا آخر کونسی محبت اہلبیت ہے؟
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ راجہ داہر ایک غاصب اور ظالم حکمراں تھا،جس کے یہاں چھوت چھات اور قبائلانہ امتیاز کا رواج تھا،پورا سندھ اس کی ماتحتی میں رہ کر غلامی کی زندگی گزار رہا تھا وہ ہمارا ہیرو نہیں انسانیت کا دشمن تھا،انسانی آزادی کا دشمن تھا۔۔۔
راجہ داہر کی روحانی اولاد کی چیخیں سن سن کر دماغ مفلوج ہوچکا ہے،عرب کا نوجوان سپہ سالار محمد بن قاسم اسلامی تاریخ کا ایک بے مثال ہیرو اور جرآت مند سپہ سالار ہے،جو فاتحانہ وار سندھ میں داخل ہوا اور ظلم و ستم کی چکی میں پستی انسانیت کو اسلامی امن کے ماتحت لاکھڑا کیا،آج برصغیر میں روشن اسلامی شمعوں کا بانی محمد بن قاسم ہے۔۔
اسی طرف نسبت کرکے سندھ کو باب الاسلام قراردیا جاتا ہے۔۔۔۔۔مگر حیرت ہوتی ہے ان نام نہاد دانش ور اور خود ساختہ سادات پر جو اہل بیت کا دم بھرکے ایک بےمثال فاتح کو بزدل اور غاصب کہتے ہیں جو بنی امیہ کے بغض میں اوندھے منھ گہرے کنویں میں غوطے لگاتے ہیں جن کا کام ہمیشہ تاریخ کو مسخ کرکے پیش کرنا ہے۔۔۔۔۔

اموی خلافت کے جس دور کے بارے میں ہمارے ہاں ایک طبقہ پروپیگنڈا کرتا ہے تو در حقیقت وہ ایسا دور تھا جب دین اسلام کی سرحدیں عرب و فارس سے آگے بڑھ رہی تھیں اور مجاہدین اسلام اللہ رسول محمد کا علم تھامے تاریخ کے چند بہترین سپہ سالاروں کی قیادت میں یورپ، افریقہ اور ایشیا کی سرحدوں کو چھو رہے تھے۔

اب یہ پروپیگنڈا کرنا ہمدردیاں سمیٹنے کی خاطر یا محض بنو امیہ سے حسبی و نسبی اختلاف کی بنیاد پر تاریخی حقائق کو مسخ کر کے یہ کہنا کہ محمد بن قاسم کو سندھ میں اہل سادات کی سرکوبی کے لیے بھیجا گیا تھا ایسا بہتان ہے جس پر پوری اسلامی تاریخ شرمندہ ہونے کے ساتھ ماتم کناں ہے۔

خلیفہ وقت ولید بن عبد الملک نے اپنے دور حکومت میں صرف محمد بن قاسم کو ہی سندھ نہیں بھیجا تھا بلکہ اپنے چار بہترین نوجوان سپہ سالاروں کو مختلف ٹاسک دیے تھے جن میں  قتیبہ بن مسلم کو آرمینیا، موسی بن نصیر کو شمالی افریقہ، طارق بن زیاد کو سپین اور محمد بن قاسم کو سندھ/ایشیا میں بھیجا اسلام کا جھنڈا گاڑھنے کی خاطر اور بفضلِ خدا سارے ہی کامیاب رہے۔

موسی بن نصیر نے 698 میں شمالی افریقہ جس میں موجودہ تیونس مراکش اور دیگر ممالک شامل ہیں کو فتح کیا۔
 710 میں قتیبہ بن مسلم نے ثمرقند و بخارا کو فتح کرتے ہوئے آرمینیا کو مشرف بہ اسلام کیا۔
 طارق بن زیاد نے 711 میں تمام تر رکاوٹوں کو روندتے ہوئے کشتیاں جلاتے ہوئے سپین کی تاریخی فتح حاصل کی۔
محمد بن قاسم  712 میں سندھ داخل ہوا اور ملتان تک کے سارے علاقے فتح کر کے دین محمد کے نقشے میں شامل کیے۔

حقیقت میرے یا آپ کی خواہش سے نہیں بدل سکتی اور نہ ہی کسی کی پسند ناپسند سے اور حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر کے دور خلافت کے بعد اگر سب سے زیادہ علاقے فتح ہوئے ہیں اور دین اسلام پھیلا ہے تو وہ اموی خلافت کا دور تھا حالانکہ در حقیقت وہ خلافت نہیں دور ملوکیت کا آغاز تھا۔
بنی امیہ کی دور ملوکیت میں اسلام کی سرحدیں مسلسل پھیل رہی تھیں اور دنیا جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہی تھی فتوحات مل رہی تھیں۔۔۔۔پھر آپسی خانہ جنگی جو امویوں سے ہوتی ہوئی فاطمیوں اور عباسیوں تک پہنچی اور یہاں تک خدا نے عربوں کی ان بد اعمالیوں پر اپنا فیصلہ سنا دیا جس میں پہلے بطور عذاب ان پر تاتاری مسلط کیے جنہوں نے کروڑوں مسلمانوں کو قتل کیا اسلامی تہذیب کے مراکز کو کھوپڑیوں کے میناروں میں بدلا اور اسکے بعد پھر خلافت عربوں سے چھین کر ترکوں کو عطا کر دی۔

اب یہ ہے تقریباً چھے سو سال کا بہت مختصر خلاصہ جس میں اسلام کا سنہرا دور بھی گزرا ہے علم و تحقیق اور مثالی واقعات کے اعتبار سے،۔۔۔۔۔
تاریخ میں جس کا جو کریڈٹ بنتا ہے اسے دینا چاہیے بجائے اسکے کہ ہم اپنے فرقوں کی محبت میں اندھے ہو کر تاریخی حقائق کو مسخ کرنا شروع کر دیں۔ یہ حق ہے کہ اہل سادات پر ظلم ہوا مگر اتنا نہیں جتنا بیان کیا جاتا ہے۔۔۔۔اسکی آڑ میں آپ اموی دور حکومت کی اسلام کے پھیلاؤ کے لیے مستحکم تاریخی کردار کو نہیں جھٹلا سکتے اور نہ ہی محمد بن قاسم کی فتوحات کو تاریخ سے مٹا سکتے ہیں۔۔۔
رنگ و نسل اور وطنیت کا بت پھر سے جنم لے چکا ہے جسے پاش پاش کرنا ہوگا۔۔۔