*حضرت مولانا مفتی الیاس صاحب مظاہری چمپارنیؒ اپنی تصنیف لطیف ’’صحیح بخاری کے ایک سوپچاس عبرت آمیزواقعات‘‘ کی روشنی میں*
✍🏻اثر خامہ: محمد عبدالرحمن مغربی چمپارن،بہار
اس کارگاہ عالم میں قسم قسم کی مخلوقات خدا کی خدائی کا مظہر ہیں، حیوانات، نباتات، چرندو پرند، ان مخلوقات میں حضرتِ انسان کو جو رفعت و منز لت، فضیلت و برتری عطا کی گئی ہے، وہ صرف اور صرف علم کی وجہ سے ہے، جب خائق کائنات نے حضرت آدم ؑ کو پیدا فرمایا اور خلعت خلافت ارضی سے سرفراز فرمایا، چناںچہ انہیں علم وآگہی کی دولت سے مالامال فرمایا اور فرشتوں پر ان کی فضیلت علم کی وجہ سے ہی فرمائی اور پھر فرشتوں نے بہ حکم خدواندی حضرت آدمؑ کے کمالات کا اعتراف کرتے ہوئے سرتسلیم خم کیا، جس کی بنا پر حضرت انسان کی عزت وعظمت میں چارچاند لگے، گویا کہ حضرت انسان کی فضیلت علم کی وجہ سے، جو علم وعمل، تعلیم وتعلم سے بے خبر ہوتے ہیں، انہیں معاشرہ اور سوسائٹی قدرومنزلت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی،پھر انہیں انسانوں میں سے جو علم وعمل سے وارفتگی اور فرزانگی رکھتے ہیں، وہ سب کے نزدیک محبوب، سب کے نزدیک پسندیدہ اور سب کے نور نظر ہوتے ہیں، لوگ ان کے مداح، ان کے دیوانے، ان کے عاشق اور گرویدہ ہوتے ہیں، ان کی مجلس میں چند لمحات کی حاضرباشی سے زندگی کا رنگ وآہنگ بدل جاتا ہے۔اسلامی ہدایات، قرآنی پیغامات، نبوی فرمودات سے نشانِ منزل پاتے ہیں اور اس پر چل کر فوز وفلاح اور سعادت دارین حاصل کرسکیں، پھر جب علم وعمل کا پیکرشمع محفل ہوتا ہے، تو عوام الناس کو راہِ حق دکھلاتا ہے، پھر وہی خداترس فرد بشر کسی مسند درس پر جلوہ فگن ہوتا ہے، توعبارتوں میں پنہاں حکمت کے جواہرپاروں سے تشنگان علوم نبویہ کو بہرہ ور کرتا ہے، ان عظیم شخصیات اور قدآور ہستیوں میں جو جوار رحمت میں پناہ گزیں ہوگئے اور شب وروز، صبح وشام جن کی تصنیفات وتالیفات سے امت مسلمہ اپنی علمی تشنگی بجھا رہی ہے، ان میںایک نمایا ں نام حضرت مولانا مفتی محمد الیاس صاحب مظاہری چمپارنی رحمہ اللہ، شیخ الحدیث جامعہ حمیدیہ پانولی ،ــــضلع بھروچ ،گجرات انڈیا ،بانی و مہتمم جامعہ زکریا ڈھاکہ، ضلع مشرقی چمپارن، بہار کی تھی۔
*چمپارن ایک مردم ساز اور مردم خیززمین:*
یوں تو چمپارن کی زرخیز زمین نے نہ معلوم کتنے اساطین علم، شہسواران علم وادب، مفکرین، مدبرین کی کھیپ تیار کی، جس سرزمین نے اپنے بطن سے کتنے تواضع وانکساری، حلم وبردباری، خردمندی وہوش مندی کے پیکر، سراپا اخلاق حسنہ اور گوناگوں اوصاف حمیدہ سے متصف افراد نکالے، جنھوں نے اس جہاں رنگ وبو میں علمی وادی خوشبو سے معطر کیا، درس وتدریس کے میدان سے دعوت وتبلیغ اور تصنیف وتالیف کے میدان تک نمایاں کام انجام دیا۔
*دورۂ حدیث سے فراغت اور مسند حدیث پر جلوہ نمای:*
حضرت مولانا مفتی محمدالیاس صاحب مظاہریؒ اسی سرزمین کے باشندہ تھے، آپؒ ایشیاء کے عظیم الشان میکدہ مظاہر العلوم سے فراغت حاصل کی اور دین متینکی خدمت میں مصروف ہوگئے، چناچہ آ پ نے فراغت کے بعد ایک ز مانہ تک درس دیا ، کچھ عرصہ بعد بہ مشیت ایزدی بخاری شریف کی درس آپ سے متعلق ہوا ، آپ نے بہ خوشی اسے قبول کیا اور درس دیتے رہے ، آپ کا درس نہایت ہی عمدہ، معلو مات سے پر ہوتا، آپ کے بعض احباب وتلامذہ کا اصرار ہوا کہ آپ ــصحیح بخاری شریف کے واقعات کو رقم فرمائیں، چناںچہ آپ نے کتاب تالیف کی اور اس کا نام ’’صحیح بخاری شریف کے ایک سوپچاس عبرت آمیز واقعات‘‘ رکھا اور تشنگان علوم نبویہ اور عوام الناس، بالخصوص ائمہ وخطبائے دین خوب خوب فائدہ اٹھارہے ہیں۔
*صحیح بخاری شریف کے ایک سو پچاس عبر ت انگیز واقعات:خصوصیات وایک مطالعہ:*
’’صحیح بخاری شریف کے ایک سو پچاس عبر ت آمیز واقعات‘‘ نامی کتاب، علوم ومعارف، موعظت و نصیحت سے لبریز ہے،جس کا انداز نہایت ہی سلیس اور زبان سہل ہے، ایک دیہاتی بھی پڑھ لے اور مستفید ہو، مزید یہ کہ حوالہ جات کا پورے طور پر اہتمام کیا گیا ہے، حدیث نمبر، صفحہ نمبر کتاب کے اعتبار ووقار میں اضافہ کیا ہے، ہر واقعہ کے بعد اس کا خلاصہ، فائدہ اور اس واقعہ سے مستفاد درس عبرت کا تذکرہ ہے۔ نیز اس کتاب کے بارے میں مفکر گجرات ،محقق وقت حضرت مولانا عبداللہ صاحب کاپوروی ؒ سابق رئیس فلاح دارین تر کیسر ، گجرات ، تصدیق و تقریظ کے تحت رقم طراز ہیں :
’’ قرآن مجید نے امم سابقہ کے بہت سے عبرت انگیز قصے نقل فرمائے ہیں،اور رسول اللہ ﷺ نے بھی مختلف مواقع میں صحابہ ؓ کے سامنے قصص و حکایات بیان فرمائی ، اسی طرح اولیاء امت نے بھی قصص و حکایات کے ذریعہ اصلاح کا کام کیاہے ’ شیخ سعدی ؒ علامہ جلال الدین رومی ؒ وغیرہم کی کتابیں اس کی عمدہ مثالیں ہیں اور حضرت جنید بغدادی ؒ نے صحیح فرمایا : کہ حکایتیں اللہ کے لشکروںمیں سے ایک لشکر ہیں ،جن سے مریدین کے دلوں کو تقویت حاصل ہوتی ہے ،متعلمین کی تعلیم و تربیت میں حکایات و قصص بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں ، اللہ جزائے خیر عطا فرمائے مولانامحمد الیا س صاحب مظاہری کو جو کئی سالوں سے جامعہ حمیدیہ پانولی میں شیخ الحدیث ہیں ، آپ صحیح بخاری شریف سے حکایا ت جمع کر کے مع اس کے ترجمہ و تشریح شائع کر رہے ہیں ، تا کہ امت کے ہر طبقہ کے لیے نافع ہو ‘‘۔
دیکھئے : صحیح بخاری شریف کے ایک سو پچاس عبرت آمیز واقعات ،مط،انڈیا ،جامعہ زکریا ڈھاکہ مشرقی چمپارن بہار ، سن طباعت، ۱۴۳۰ ھ مطابق ۲۰۱۰ ء ( ج ؍ ۱ ص؍ ۲۶۔۲۷)
اس اقتباس سے اس کتاب کی اہمیت وافادیت خوب واضح ہوگئی ،دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے اور مصنف کو اجر جزیل عطا فرمائے او ران کی جملہ خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین ثم آمین!
مصنف کتاب کی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے۳؍مئی۲۰۲۰ء، ۹؍رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ بروز اتوار دہلی کے اپولواسپتال میں اپنی جان، جانِ آفریں کے حوالہ کردیا۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ! اور یہ شعر، ان پر بجا صادق آتا ہے: ؎
جو تم بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو ہم وفا کر چلے
رحمہ اللہ رحمۃ الأبرار ورفع درجاتہ فی الصالحین والأخیار
✍🏻اثر خامہ: محمد عبدالرحمن مغربی چمپارن،بہار
اس کارگاہ عالم میں قسم قسم کی مخلوقات خدا کی خدائی کا مظہر ہیں، حیوانات، نباتات، چرندو پرند، ان مخلوقات میں حضرتِ انسان کو جو رفعت و منز لت، فضیلت و برتری عطا کی گئی ہے، وہ صرف اور صرف علم کی وجہ سے ہے، جب خائق کائنات نے حضرت آدم ؑ کو پیدا فرمایا اور خلعت خلافت ارضی سے سرفراز فرمایا، چناںچہ انہیں علم وآگہی کی دولت سے مالامال فرمایا اور فرشتوں پر ان کی فضیلت علم کی وجہ سے ہی فرمائی اور پھر فرشتوں نے بہ حکم خدواندی حضرت آدمؑ کے کمالات کا اعتراف کرتے ہوئے سرتسلیم خم کیا، جس کی بنا پر حضرت انسان کی عزت وعظمت میں چارچاند لگے، گویا کہ حضرت انسان کی فضیلت علم کی وجہ سے، جو علم وعمل، تعلیم وتعلم سے بے خبر ہوتے ہیں، انہیں معاشرہ اور سوسائٹی قدرومنزلت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی،پھر انہیں انسانوں میں سے جو علم وعمل سے وارفتگی اور فرزانگی رکھتے ہیں، وہ سب کے نزدیک محبوب، سب کے نزدیک پسندیدہ اور سب کے نور نظر ہوتے ہیں، لوگ ان کے مداح، ان کے دیوانے، ان کے عاشق اور گرویدہ ہوتے ہیں، ان کی مجلس میں چند لمحات کی حاضرباشی سے زندگی کا رنگ وآہنگ بدل جاتا ہے۔اسلامی ہدایات، قرآنی پیغامات، نبوی فرمودات سے نشانِ منزل پاتے ہیں اور اس پر چل کر فوز وفلاح اور سعادت دارین حاصل کرسکیں، پھر جب علم وعمل کا پیکرشمع محفل ہوتا ہے، تو عوام الناس کو راہِ حق دکھلاتا ہے، پھر وہی خداترس فرد بشر کسی مسند درس پر جلوہ فگن ہوتا ہے، توعبارتوں میں پنہاں حکمت کے جواہرپاروں سے تشنگان علوم نبویہ کو بہرہ ور کرتا ہے، ان عظیم شخصیات اور قدآور ہستیوں میں جو جوار رحمت میں پناہ گزیں ہوگئے اور شب وروز، صبح وشام جن کی تصنیفات وتالیفات سے امت مسلمہ اپنی علمی تشنگی بجھا رہی ہے، ان میںایک نمایا ں نام حضرت مولانا مفتی محمد الیاس صاحب مظاہری چمپارنی رحمہ اللہ، شیخ الحدیث جامعہ حمیدیہ پانولی ،ــــضلع بھروچ ،گجرات انڈیا ،بانی و مہتمم جامعہ زکریا ڈھاکہ، ضلع مشرقی چمپارن، بہار کی تھی۔
*چمپارن ایک مردم ساز اور مردم خیززمین:*
یوں تو چمپارن کی زرخیز زمین نے نہ معلوم کتنے اساطین علم، شہسواران علم وادب، مفکرین، مدبرین کی کھیپ تیار کی، جس سرزمین نے اپنے بطن سے کتنے تواضع وانکساری، حلم وبردباری، خردمندی وہوش مندی کے پیکر، سراپا اخلاق حسنہ اور گوناگوں اوصاف حمیدہ سے متصف افراد نکالے، جنھوں نے اس جہاں رنگ وبو میں علمی وادی خوشبو سے معطر کیا، درس وتدریس کے میدان سے دعوت وتبلیغ اور تصنیف وتالیف کے میدان تک نمایاں کام انجام دیا۔
*دورۂ حدیث سے فراغت اور مسند حدیث پر جلوہ نمای:*
حضرت مولانا مفتی محمدالیاس صاحب مظاہریؒ اسی سرزمین کے باشندہ تھے، آپؒ ایشیاء کے عظیم الشان میکدہ مظاہر العلوم سے فراغت حاصل کی اور دین متینکی خدمت میں مصروف ہوگئے، چناچہ آ پ نے فراغت کے بعد ایک ز مانہ تک درس دیا ، کچھ عرصہ بعد بہ مشیت ایزدی بخاری شریف کی درس آپ سے متعلق ہوا ، آپ نے بہ خوشی اسے قبول کیا اور درس دیتے رہے ، آپ کا درس نہایت ہی عمدہ، معلو مات سے پر ہوتا، آپ کے بعض احباب وتلامذہ کا اصرار ہوا کہ آپ ــصحیح بخاری شریف کے واقعات کو رقم فرمائیں، چناںچہ آپ نے کتاب تالیف کی اور اس کا نام ’’صحیح بخاری شریف کے ایک سوپچاس عبرت آمیز واقعات‘‘ رکھا اور تشنگان علوم نبویہ اور عوام الناس، بالخصوص ائمہ وخطبائے دین خوب خوب فائدہ اٹھارہے ہیں۔
*صحیح بخاری شریف کے ایک سو پچاس عبر ت انگیز واقعات:خصوصیات وایک مطالعہ:*
’’صحیح بخاری شریف کے ایک سو پچاس عبر ت آمیز واقعات‘‘ نامی کتاب، علوم ومعارف، موعظت و نصیحت سے لبریز ہے،جس کا انداز نہایت ہی سلیس اور زبان سہل ہے، ایک دیہاتی بھی پڑھ لے اور مستفید ہو، مزید یہ کہ حوالہ جات کا پورے طور پر اہتمام کیا گیا ہے، حدیث نمبر، صفحہ نمبر کتاب کے اعتبار ووقار میں اضافہ کیا ہے، ہر واقعہ کے بعد اس کا خلاصہ، فائدہ اور اس واقعہ سے مستفاد درس عبرت کا تذکرہ ہے۔ نیز اس کتاب کے بارے میں مفکر گجرات ،محقق وقت حضرت مولانا عبداللہ صاحب کاپوروی ؒ سابق رئیس فلاح دارین تر کیسر ، گجرات ، تصدیق و تقریظ کے تحت رقم طراز ہیں :
’’ قرآن مجید نے امم سابقہ کے بہت سے عبرت انگیز قصے نقل فرمائے ہیں،اور رسول اللہ ﷺ نے بھی مختلف مواقع میں صحابہ ؓ کے سامنے قصص و حکایات بیان فرمائی ، اسی طرح اولیاء امت نے بھی قصص و حکایات کے ذریعہ اصلاح کا کام کیاہے ’ شیخ سعدی ؒ علامہ جلال الدین رومی ؒ وغیرہم کی کتابیں اس کی عمدہ مثالیں ہیں اور حضرت جنید بغدادی ؒ نے صحیح فرمایا : کہ حکایتیں اللہ کے لشکروںمیں سے ایک لشکر ہیں ،جن سے مریدین کے دلوں کو تقویت حاصل ہوتی ہے ،متعلمین کی تعلیم و تربیت میں حکایات و قصص بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں ، اللہ جزائے خیر عطا فرمائے مولانامحمد الیا س صاحب مظاہری کو جو کئی سالوں سے جامعہ حمیدیہ پانولی میں شیخ الحدیث ہیں ، آپ صحیح بخاری شریف سے حکایا ت جمع کر کے مع اس کے ترجمہ و تشریح شائع کر رہے ہیں ، تا کہ امت کے ہر طبقہ کے لیے نافع ہو ‘‘۔
دیکھئے : صحیح بخاری شریف کے ایک سو پچاس عبرت آمیز واقعات ،مط،انڈیا ،جامعہ زکریا ڈھاکہ مشرقی چمپارن بہار ، سن طباعت، ۱۴۳۰ ھ مطابق ۲۰۱۰ ء ( ج ؍ ۱ ص؍ ۲۶۔۲۷)
اس اقتباس سے اس کتاب کی اہمیت وافادیت خوب واضح ہوگئی ،دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے اور مصنف کو اجر جزیل عطا فرمائے او ران کی جملہ خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین ثم آمین!
مصنف کتاب کی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے۳؍مئی۲۰۲۰ء، ۹؍رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ بروز اتوار دہلی کے اپولواسپتال میں اپنی جان، جانِ آفریں کے حوالہ کردیا۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ! اور یہ شعر، ان پر بجا صادق آتا ہے: ؎
جو تم بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو ہم وفا کر چلے
رحمہ اللہ رحمۃ الأبرار ورفع درجاتہ فی الصالحین والأخیار
