اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: رمضان المبارک دعاء کی قبولیت کا مہینہ ہے مولانا ضیاء الرحمن رتنپوری

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 6 May 2020

رمضان المبارک دعاء کی قبولیت کا مہینہ ہے مولانا ضیاء الرحمن رتنپوری

رمضان المبارک دعاء کی قبولیت کا مہینہ ہے مولانا ضیاء الرحمن رتنپوری
مدھوبنی :6/مئی 2020
دنیا کی ہر چیز اللہ تعالی کے تابع ہے دن ہفتے اور مہینے تقسیم کئے گئے ویسے تو ہر دن اللہ  کا ہی ہے لیکن اللہ تعالی نے کچھ دن کچھ راتیں کچھ مہینوں کو فضیلت بخشی ہے جن میں عبادت کرنے کا ثواب زیادہ ہوتا ہے اور دعا قبول کی جاتی ہیں اس میں سے ماہ ماہ رمضان ہے جس میں دعاقبول ہوتی ہے رمضان المبارک کا پورا مہینہ قبولیت دعا کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے اس لئے اس ماہ مقدس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ جب کوئی بندہ دعاکرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے یا اگر دعا قبول نہ ہو تو اس کے بدلے کوئی دوسری نعمت دی جاتی ہے یا اس پر سے کوئی مصیبت ٹال دیتی ہے یا پھر آخرت کے لئے ذخیرہ کردی جاتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ رمضان کے ہر شب وروز میں جہنم کے قیدی چھوڑتے جاتے ہیں اور ہر مسلمان کی ہر شب وروز میں دعا ضرور قبول ہوتی ہے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہو تی ہے ایک روزہ دار کی افطار کے وقت دوسری عادل بادشاہ کی اور تیسرے مظلوم کی ان خیالات کا اظہار مولانا محمد ضیاء الرحمن رتن پوری نےکہا کہ جب کوئی بندہ اللہ تعالی سے نہیں مانگتا  تو اس پر اللہ ناراض ہو تا ہے ساری دنیا میں ایسا کوئی نہیں جو سوال نہ کرنے پر ناراض ہو تا ہو یہاں تک کہ والدین بھی بچوں کے ہر وقت مانگنے سے چڑھ جاتے ہیں مگر اللہ تعالی  سے دعا نہ کرنا تکبر کی علامت ہے اور مانگنے پر اللہ تعالی خوش ہوتا ہے اور بندہ جو مانگتا ہے اپنی رحمت سے اسے عطا کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا اللہ  کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بڑی نہیں ہر بشر محتاج ہے اور زمین و آسمان کے سارے خزانے اللہ تعالی ہی کے قبضے میں ہیں وہی مانگتے والوں کو عطا کرتا ہے اور ہمارے یہاں مسلمانوں ۵۰ ۶۰ فیصد طبقہ وہ ہے جو معمولی درجہ میں قرآن پاک کو ہاتھ لگاتا ہے اس سے کہیں زیادہ وقت لا یعنی مشاغل میں کھیل کود اور غیبت وفحش گوئی میں گزار تا ہے  لیکن پھر بھی اس کی پرواہ نہیں ہوتی ہے  بلک غور سے دیکھا جایےتو کم از کم ان سے روزوں میں کراہت تو آہی جاتی ہے اس لئے کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اس وقت خاص طور پر موقع کو غنیمت سمجھیں اور اپنے آپ کو تلاوت قرآن اور تدبر قرآن میں مشغول رکھیں اللہ ہم سب کو اس کی توفیق دے اور غیر ضروری چیزوں سے محفوظ فرمائے آمین