اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *حضرت خواجہ معین الدین چشتی نقشبندی ؒ کی سیرت و شخصیت : اور ہندوستانی چینل اینکرکا بدعنوانی کا الزام سراسر جھوٹ مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کی گھناؤنی کوشش اورہندوستانی مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش* ✍🏻از قلم : عبد الرحمن چمپارنی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 18 June 2020

*حضرت خواجہ معین الدین چشتی نقشبندی ؒ کی سیرت و شخصیت : اور ہندوستانی چینل اینکرکا بدعنوانی کا الزام سراسر جھوٹ مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کی گھناؤنی کوشش اورہندوستانی مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش* ✍🏻از قلم : عبد الرحمن چمپارنی

*حضرت خواجہ معین الدین چشتی نقشبندی ؒ  کی سیرت و شخصیت : اور ہندوستانی چینل اینکرکا بدعنوانی کا الزام سراسر جھوٹ مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کی گھناؤنی کوشش اورہندوستانی مسلمانوں کو  بدنام کرنے کی سازش*
 ✍🏻از قلم : عبد الرحمن چمپارنی
اس کی امیدیں قلیل ، اس کے مقاصد جلیل-ا س کی ادا دل فریب ، اس کی نگہ دل نواز
ہمارا ملک ہندوستان ساتویں صدی میں ظلمت و ظلالت ، کفرو شرک ، بدعت و خرافات کے دور سے گذر رہا تھا ، ہر چہار جانب ،ہر سو افر ا تفری کا ماحول تھا ، حضرت انسان  اپنے پرودگارسے دوری و بعدی اختیار کر چکا تھا ، مسلمان برائے نام کا تھا ، اسلامی تعلیمات سے یکسر ناواقف و نا بلد تھا ، کفر وشرک عروج پر تھا ، انسا ن حیوان سے  بھی بدتر ہوچکا تھا ، انسانیت نام کی بھی کوئی چیز نہ رہ گئی تھی ، توا للہ تعالی نے اپنے دستور کے مطابق  اس زمانہ کی ہم آہنگی سے لیس ایک ایسی شخصیت کا
وجود فرمایا ، جسے دنیا*قطب العارفین شیخ المشائخ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نقشبندی* کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے ۔
*آپ ؒ کی ولادت* : 
آپ ؒ ۱۴؍ رجب المرجب ماہ اپریل ۱۱۴۳ء بہ روز دوشنبہ صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ، آپ کا شجرۂ عالیہ بارہ واسطوں سے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ ، سے جا ملتا ہے ۔
 *حضرت خواجہ چشتی نقشبندی  ؒ متنوع وصفات کے حامل*
آپؒ حلم وبردباری ، تواضع وانکساری ، شجاعت وبہادری ، فیاضی و دریا دلی میں یکتائے زمن تھے ، دین حنیف کی طرف لو گوں کو بلانے اور اللہ کے بندوں کو اللہ سے ربط وتعلق قائم کرنے کا سلیقہ و طریقہ ، اللہ تعالی نے خاص طور  پر آپ    ؒ کو عطا کیا تھا ،لوگ آپ ؒ کو  دیکھتے ہی اگر مسلمان ہوتے تو تائب ہوجاتے، اور  اگرغیر مسلم ہوتے تو آپ ؒ کے دست مبارک پر مسلمان ہوجاتے ، اور اسلامی ہدایات و تعلیمات پر عمل پیر ا ہوجاتے ، ایسا لگتا کہ صدیوں پرانا مسلمان ہیں،
*نگہ بلند ، سخن دل نواز ، جاں پر سوز*
  خدائے قدیر نے  حضرت خواجہ صاحب  کو بیدار مغز اور باتوفیق بنا کر پیدا کیا تھا ، تا کہ وہ ہندی مسلمانوں کو تلاطم ہائے مصیبت میں گھری ہوئی کشتی کے چیدہ سعادت مند نا خداؤ ں میں سے ایک ہوں ۔ خدا انھیں ایسے زبردست اوصاف سے نواز ا تھا ، جن میں معاصر علماء و قائدین میں سے کوئی ان کا شریک و سہیم نہ تھا ۔
*آپ کی نور ایمانی  اور فرزندان توحید کا حلقہ بگوش اسلام ہونا*
آپ ؒ کو اللہ تعالی نے ایک ملکۂ خاص عطا کیا تھا ، جس سے آج وہ زیر زمین دفن ہونے کے باوجود کرۂ ارض پر چلنے والے ہر عام وخاص کے زبان زد ہیں ، آپ ؒ کی منور ، حسین و جمیل اور نور ایمانی سے معمور چہرے کو دیکھ کر نہ معلوم کتنے  لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے ،  جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ، مگر اس بارے میں اندازے سے شیخ الحدیث  مولانا زکریا کاندھلوی صاحب فضائل اعمال لکھتے ہیں : 
                       *کہ آپ ؒ ہندوستان  کے امام الطریق تھے ،آٖپ ؒ ہی سے ہندوستان میں علوم معرفت کا افتتا ح ہوا ،اور سلسلہ چشتیہ ہندوستان میں آپ ہی سے پھیلا ، اور ہندوستان میں نوے لاکھ آدمی آپ ؒ کے ہاتھ پر اسلام لائے ، آپ ؒ  کا نسب گیارہ پشت پر حضرت اما م حسین ؓ سے جا ملتا ہے ،
آپ ؒ کے کمالا ت بحر متناہی ہیں ، حتی کہ کہتے ہیں کہ جس پر نظر ڈالتے  تھے ،  صاحب معرفت ہوجاتا تھا  ، علوم ظاہریہ و باطنیہ دونوں  میں کمال حاصل تھا"
-دیکھئے : مشائخ چشت  :  مصنف  شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کاندھلوی ؒ  ص؍ ۱۶۵-
ناشر: مکتبہ شیح الاسلام بہادرآباد 
                                                                اس اقتباس سے یہ بات بے غبار ہوگئی کہ آٖپ ؒ  نے کسی بھی شخص کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے نہ ہی مجبور کیا ہے ، اور نہ ہی جنگ وجدال ، بلکہ وہ خو د آپ کے اخلاق و اطورسے متاثر ہوکر اور اسلامی تعلیمات کا دلدادہ ہوکر بہ توفیق الہی مسلمان ہوئے ہیں۔

*امانت و دیانت داری کا پیکر*
آپ ؒ زہد وتقوی ، صدق گوئی و صدق بیانی ، امانت داری اور دیانت داری کے پیکر مجسم تھے ، جو ایک حقیقی معنوں میں ایک سچے مؤمن کی صفت  ہے ، اور اسوہ ٔ نبوی ﷺ  بھی  چناچہ آپ ؒ کی دیانت واری و امانت داری  کے بارے میں علامہ عبد الحق محدث دہلوی ؒ رقم طراز ہیں :  ‘‘ آپ ؒ بر صعیر ہندو پاک میں بڑے بڑے مشائخ کے  سردار اور سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں ، بیس ؍ ۲۰ سال تک سفر وحضر میں خواجہ عثمان نے اپنے ساتھ رکھا آپ رحمتہ االلہ علیہ ان کے سونے کے کپڑوں کی نگرانی کرتے تھے ، اس کے بعد  انہوں نے نعمت  خلافت عطاء کی اور آپ عبادت میں مشغول ہوگئے، ۔ آپ پتھورا رائے کے دور حکومت میں اجمیر ( ہندوستان ) تشریف لائے ۔
  *دیکھیے : اخبار الاخبار ( اردو ) حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی  ؒ ، مترجمین : حضرت مولانا سبحان محمود صاحب   مولانا محمد فاضل صاحب  اشاعت : ۲۰۰۴  ، مط: اکبر بک سیلرز اردو بازار لاہورص؍ ۵۹*
 اسی طرح اس اقتباس ثانی سے بھی یہ بات واشگا ف ہوگئی کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نہایت ہی دیانت دار اور امانت دارشخص تھے ، آپ ؒ نہ چور تھے اور نہ ہی چوری ، لٹیری ، غصب  سےواقف تھے ۔
*ڈی وی چینل ‘‘ نیوز ۱۸ ‘‘ کے اینکر کی دریدہ دہی اور ہتک آمیزی مسلم دشمنی و تعصب پسندی کی طرف غماز*
افسو س ! کہ ہمارے ملک میں ڈی وی چینل ’’ نیوز ۱۸ ‘‘ کے اینکر امیش دیوگن نے ایک دن قبل اپنے ڈی چینل پر کرررہے ڈیبٹ میں جرأت مندانہ اور بیباکانہ انداز میں تہمت لگاتے ہوئے ، اورکذب  بیانی  کرتے ہوئے ہم مسلمانوں کے اولیاء کرام میں سے سلسلہ چشتیہ کے ایک بزرگ خواجہ معین الدین اجمیری ؒ چشتی کے بارے میں کہا ہے : ( نعوذ باللہ )خواجہ معین الدین چشتی ؒ ہندوستان کے ہندوؤ ں کو زبردستی اسلام لانے پر مجبور کیے ہیں اور مزید یہ کہ وہ لٹیرے اور ڈاکو تھے ،
*صحافت پر بدنما داغ ۔ ہندوستانی گودی میڈیا کے رہین منت*
حالانکہ حقیقت  اور نفس الامری ایسا نہیں ہے  بلکہ اس طرح کا جھوٹی الزام عائد کرنے والےخو د اس طرح کے بیماریوں کے شکارہیں ، وہ چند پیسے اور روپییے کے لالچ میں  حقیقت پسندی کو پس پشت ڈال دیئے ہیں ، چناچہ آپ  ا سکا اندازہ لگا سکتے ہیں ، کرونا کو ہندوستان میں مسلمان بنادیا گیا ، اوردہلی فسادکا ذمہ رار مسلمانوں کو ٹھراکر سلاخوں کے پچھے قید و بند میں محبوس کردیا گیا ، ایک  حاملہ  خاتون بہن صفورا زرگر کو اور کالے قانون مسلم مخالف بل کے خلاف صدائے حق بلند کرنے ولے آئین ہند کی پاسداری کرنے والوں کو جیل میں ٹھوس دیا گیا ، اوران کی ضمانت کی عر ضیا ں یہ کہہ کر خارج کر دی گئی کہ *جو آگ سے کھیلتا ہے ، اسے چنگاڑی سے گذرنا پڑتا ہے،
*دہلی فساد چارج شیٹ داخل فسادی کا نام ہی غائب*
اس سے بھی سب واقف ہیں کہ ایک ہفتہ قبل  فروری کے مہینے میں ہورہےدہلی فساد کے چارج شیٹ داخل کیا گیا  جس  میں ا س فسادی کا نام ہی نہیں ، جس کے اشتعال انگیز بیان اور دھمکی کے بعد فساد مچا ، اس دن ۲۳؍ فروری کے چارج شیٹ مبہم طریقے سے رقم کیا گیا  ایک طرفہ اقلیتوں پر الزام عائد کرکے فیصلہ گیا گیا ، یہ ہے ہمارے ملک کی گودی میڈیا اور پولیس کی رہین منت
 یہ مسلمانوں پر ظلم نہیں تو اورکیا ہے ؟کیا یہ ہی سب کا وکاس سب کا ساتھ ہے ؟
 *ہمارے کرنے کے کام*
اس حالت میں مسلمانوں پر یہ ضروی ہے کہ وہ اس اینکر کے خلاف اپنے اپنے اسٹیٹ میں دستور ہند کے مطابق ایف آئی آ ر درج کرایں ، وہ دن دور نہیں کہ یہ ظالم جس طرح ہمارے بے پروائی ، اور ڈھیل دینے کی وجہ سے علمائے کرام ، مدارس اسلامیہ ، طلبائے کرام ، تبلیغی جماعت اور اولیائے کرام کو نشانہ سادھا ، (نعوذ باللہ ) انبیا ئے کرام اور شعائر اسلام کے بارے میں گستاخیاں کرنے لگیں ، اس لئے زبان پر لگام دینا ضروی ہے ، مسلمانوں کو ان کے ان حرکات و سکنات سے گھبرانے کی قطعی ضروت نہیں ، اللہ سے ڈرے اور امت مسلمہ کے احوال کی درستگی تا حین حیات اسلام پر قائم دائم رہنے کی دعائیں فرمائیں، اور مرے اس حالت میں کے اللہ ہم سے راضی ہو ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین   

*آسودۂ ساحل تو ہے مگر ، شایدیہ تجھے  معلوم نہیں-                     ساحل سے بھی موجیں اٹھتی ہیں ، خاموش بھی طوفاں ہوتے ہیں*