اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: جونپور کے بھدیٹھی گاوں سانحہ کی جوڈیشل انکوائری ہو : راشٹریہ علماء کونسل بغیر جانچ کے یکطرفہ ایک طبقہ کے خلاف مقدمہ، گرفتاری اور کاروائی انصاف نہیں بلکہ ظلم ہے:طلحہ رشادی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 14 June 2020

جونپور کے بھدیٹھی گاوں سانحہ کی جوڈیشل انکوائری ہو : راشٹریہ علماء کونسل بغیر جانچ کے یکطرفہ ایک طبقہ کے خلاف مقدمہ، گرفتاری اور کاروائی انصاف نہیں بلکہ ظلم ہے:طلحہ رشادی


جونپور کے بھدیٹھی گاوں سانحہ کی جوڈیشل انکوائری ہو : راشٹریہ علماء کونسل

بغیر جانچ کے یکطرفہ ایک طبقہ کے خلاف مقدمہ، گرفتاری اور کاروائی انصاف نہیں بلکہ ظلم ہے:طلحہ رشادی


جونپور: 18/جون 2020 آئی این اے نیوز 
پچھلے دنوں ضلع جونپور کے بھدیٹھی گاوں میں آم توڑنے و بکری چرانے جیسے معمولی تنازعہ کو جس طرح سے فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا وہ قابل مذمت ہے۔ بچوں کے معمولی تنازع کو سیاسی مفاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے جان بوجھ کر فرقہ پرست طاقتوں نے ایک سازش کے تحت طول دیا اور پورے علاقے کا ماحول خراب کیا۔ حد تو یہ ہے کہ انتظامیہ کے ذریہ بغیر جانچ کے یکطرفہ مقدمہ درج کیا گیا اور صرف مسلمانو کی گرفتاری کی جا رہی ہے جو کہ انصاف نہیں بلکہ ظلم ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پورے واقعہ کی ہائی کورٹ کے جج کی نگرانی میں منصفانہ جانچ ہونی چاہیئے اور سچ سامنے آنے تک اس معاملہ میں مزید کوئی کارواہی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس پورے سانحہ کو لے کر بہت سارے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مذکورہ باتیں راشٹریہ علماء کونسل کے قومی ترجمان ایڈوکیٹ طلحہ رشادی نے اخبار کو جاری پریس ریلیز میں کہیں۔ طلحہ رشادی نے کہا کہ دلت و مسلم بچوں میں آپس میں معمولی تنازعہ ہوا تھا مگر لوکل انتظامیہ نے وقت رہتے اس پر قابو نہیں کیا۔ جس سے کئ چھپر نذرآتش ہوئے اور دونوں طرف سے درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔ اپنی کمی کو چھپانے کے لئے پولس انصاف سے کام لینے کے بجائے یکطرفہ 50 سے زائد مسلمانوں پر نامزد مقدمہ درج کر کئ درجن افراد کو گھروں میں گھس کر عورتوں، بچوں اور بزرگوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے ناحق گرفتار کر لیا اور جیل بھیج دیا۔ ظلم پر ظلم تو یہ کہ ان افراد کو بھی نہیں بخشا جن کا اس معاملے سے دور دور تک کوئ واسطہ بھی نہ رہا۔ گاوں میں آج بھی ڈر خوف کا ماحول ہے اور مسلم طبقہ کے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ یکطرفہ کارواہی انصاف نہیں بلکہ انصاف کا قتل ہے۔ گاؤں کے مسلم طبقہ کا کہنا ہے کہ ہمارے لوگ ہی مار بھی کھاۓ اور جیل بھی گئے جبکہ دلت بستی میں آگ مسلمانو نے نہیں بلکہ ادھر کے لوگوں نے ہی لگائ ہے جس کی ویڈیو بھی منظر عام پر آچکی ہے جس میں ایک نوجوان خود کہہ رہا ہے کہ ہم نے آگ لگا کر غلطی کردی۔ تو وہیں میڈیا میں بھی کسی نورعالم کا نام مین ملزم کے طور پر سامنے آیا پر پورے گاؤں میں ایک ہی نورعالم ہے وہ بھی ملک سے باہر ہے. ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ پورا سانحہ حکومت میں پیٹھ جمائے فرقہ پرست طاقتوں کی منصوبہ بند سازش کا نتیجہ ہے ورنہ بغیر جانچ کے اتنی جلدبازی میں یکطرفہ کاروائ انتظامیہ نہ کرتی۔طلحہ رشادی نے بتایا کہ راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر مولانا عامر رشادی مدنی صاحب کو اس تصادم و یکطرفہ گرفتاری کی خبر ملتے ہی کونسل فورا حرکت میں آگئ، صوبہ کے اعلی افسران سے رابطہ کر بے قصوروں کی گرفتاریوں پر روک لگانے، گاؤں کی حفاظت کے لئے پولیس فورس بڑھانے و معاملے کی غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کیا اور گاؤں و علاقہ کے حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لئے تمام عمل کیے گئے۔ الحمدللہ گرفتاریوں پر روک لگانے میں کونسل کو کامیابی بھی ملی۔ اس کے باوجود کونسل آج بھی پورے معاملے پر نظر بنائے ہوئے ہے، گاوں والوں کے برابر رابطہ میں ہے۔ ان شاء اللہ ہر ممکنہ مدد کر مظلوموں کو انصاف دلانے کے لئے ہمیشہ تیار ہے کیونکہ کونسل کا وجود ہی ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، مظلوموں کو انصاف دلانا ہے۔ طلحہ رشادی نے کہا کہ راشٹریہ علماء کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ وائرل ہو رہی ویڈیو کو ثبوت بنا کر پورے معاملے کی ہائی کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں جانچ کرائ جائے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو اور انتظامیہ پر لوگوں کا بھروسہ قائم رہے، بے قصور گرفتار کئے گئے افراد کو جلد رہا کیا جائے، دبش کے نام پر گھروں میں گھس کر عورتوں، بچوں، بزرگوں کے ساتھ کسی بھی طرح کی بدتمیزی نہ ہو۔ امن و امان بحال کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جائے۔