حکومت ڈاکٹر کفیل اور خالد سیفی سمیت تمام بے قصور نوجوانوں کو فورا رہا کرے، عطاء الرحمن ندوی
انصاف کی گہار ہم سب کو مل کر لگانے کی ضرورت ہے۔
فتحپور بارہ بنکی:15/جولائی 2020 آئی این اے نیوز
کچھ طاقتیں ملک کے امن، انسانیت اور قدیم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کردینا چاہتی ہیں، یہ طاقتیں دراصل ملک اور اس کی قدیم روایت کو نقصان پہنچار ہی ہیں، وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ تمام انصاف پسند متحدہ طور پر ظلم کیخلاف آواز اٹھائیں، تمام بے قصور افراد کی رہائی کا مطالبہ کریں ،بھائی چارہ کو مضبوط کرنے اورمظلوموں کے لیے انصاف دلانے کیلئے ہمیں پوری قوت و طاقت سے لڑنا ہو گا
مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا عطاء الرحمن ندوی بلھروی نے موجودہ حالات کے پیش نظر اپنے ایک جاری بیان میں کیا
انھوں نے کہا کہ آج اقلیتوں کیخلاف یکطرفہ کارروائی کرکے، فرضی مقدمات میں پھنسا کر گرفتار کرکے انکے حقوق صلب کرنا چاہتی ہے شائد انہیں یہ نہی معلوم کی مسلمان ایک زندہ قوم ہے اور زندہ قوموں کو پریشانی ہوتی ہے مگر وہ اس پریشانی سے نکلنے کی راہ بھی نکالتی ہے
مولانا عطاء الرحمن ندوی نے شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے بعد پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے بے قصور افراد کو جلد از جلد رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیکڑوں بچوں کی جانیں بچانے والے محب وطن ڈاکٹر محمد کفیل کو شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کرنے پر جیل میں ڈال دیا گیا، اور آج انہیں سخت تکلیفوں کا سامنا ہے اسی طرح خالد سیفی مظلوموں کیلئے ایک بڑا سہارا تھے انہیں دہلی فسادات کے الزام میں جیل میں ڈال کر پولیس کے وحشیانہ تشدد اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، ان کے دونوں پیر تک توڑ دیے گئے، بے شمار نوجوان جیلوں میں بند ہیں،صوبائی حکومت کی ایماء پر پولیس کی یکطرفہ کارروائ کے خلاف تمام سیاسی اور ملی جماعتوں کو آگے آنے کی سخت ضرورت ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم باطل سے نہ خوفزدہ ہوں اور نہ مرعوب، بلکہ متحدہ طور پر ظلم کیخلاف آواز بلند کریں،
انھوں نے کہا کہ تمام انصاف پسندوں کی ذمہ داری ہے چاہے وہ کسی بھی منصب پر فائز ہوں انسانیت کی بنیاد پر مظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے کھڑے ہو جائیں، مؤثر انداز میں متحد ہوں، ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھیں،جن کی بدولت ثمرات سامنے آئیں اور اہداف پورے ہو سکیں اور مظلوموں کی دل کی آواز بن جائیں،مظلوم کوئی بھی ہو انسانیت کو پیش نظر رکھ اسکو انصاف دلانے کی ہر ممکن جدوجہد کریں
مولانا عطاء الرحمن ندوی نے مسلمانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ موجودہ حالات میں تمام مسلمان خصوصا آپس کے جھگڑوں کا باعث بننے والے اسباب کو جڑ سے نکال پھینکیں۔ باہمی عداوت سے نکل کر اخوت کی جانب ، دلی کدورت سے صاف دلی کی جانب، منہ موڑنے کے بجائے دل جوڑنے کی جانب آئیں، ایک دوسری کی کوتاہیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے باہمی اتحاد و اتفاق کی راہ ہموار کریں۔ گروہ بندی اور تعصب سے بالا تر ہو کر سلف صالحین والی اسلامی اخوت ، ایمانی محبت کی روح اپنائیں، توبہ استغفار کیساتھ اللہ سے تعلق مضبوط کریں، اللہ سے تعلق ہی تمام مسائل کا حل ہے اور عبادات کا اہتمام کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کی محنت کو زندہ کریں، نیز عالم اسلام اور خصوصاً وطن عزیز کے لئے دعاؤں کا اہتمام کریں
انصاف کی گہار ہم سب کو مل کر لگانے کی ضرورت ہے۔
فتحپور بارہ بنکی:15/جولائی 2020 آئی این اے نیوز
کچھ طاقتیں ملک کے امن، انسانیت اور قدیم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کردینا چاہتی ہیں، یہ طاقتیں دراصل ملک اور اس کی قدیم روایت کو نقصان پہنچار ہی ہیں، وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ تمام انصاف پسند متحدہ طور پر ظلم کیخلاف آواز اٹھائیں، تمام بے قصور افراد کی رہائی کا مطالبہ کریں ،بھائی چارہ کو مضبوط کرنے اورمظلوموں کے لیے انصاف دلانے کیلئے ہمیں پوری قوت و طاقت سے لڑنا ہو گا
مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا عطاء الرحمن ندوی بلھروی نے موجودہ حالات کے پیش نظر اپنے ایک جاری بیان میں کیا
انھوں نے کہا کہ آج اقلیتوں کیخلاف یکطرفہ کارروائی کرکے، فرضی مقدمات میں پھنسا کر گرفتار کرکے انکے حقوق صلب کرنا چاہتی ہے شائد انہیں یہ نہی معلوم کی مسلمان ایک زندہ قوم ہے اور زندہ قوموں کو پریشانی ہوتی ہے مگر وہ اس پریشانی سے نکلنے کی راہ بھی نکالتی ہے
مولانا عطاء الرحمن ندوی نے شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے بعد پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے بے قصور افراد کو جلد از جلد رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیکڑوں بچوں کی جانیں بچانے والے محب وطن ڈاکٹر محمد کفیل کو شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کرنے پر جیل میں ڈال دیا گیا، اور آج انہیں سخت تکلیفوں کا سامنا ہے اسی طرح خالد سیفی مظلوموں کیلئے ایک بڑا سہارا تھے انہیں دہلی فسادات کے الزام میں جیل میں ڈال کر پولیس کے وحشیانہ تشدد اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، ان کے دونوں پیر تک توڑ دیے گئے، بے شمار نوجوان جیلوں میں بند ہیں،صوبائی حکومت کی ایماء پر پولیس کی یکطرفہ کارروائ کے خلاف تمام سیاسی اور ملی جماعتوں کو آگے آنے کی سخت ضرورت ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم باطل سے نہ خوفزدہ ہوں اور نہ مرعوب، بلکہ متحدہ طور پر ظلم کیخلاف آواز بلند کریں،
انھوں نے کہا کہ تمام انصاف پسندوں کی ذمہ داری ہے چاہے وہ کسی بھی منصب پر فائز ہوں انسانیت کی بنیاد پر مظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے کھڑے ہو جائیں، مؤثر انداز میں متحد ہوں، ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھیں،جن کی بدولت ثمرات سامنے آئیں اور اہداف پورے ہو سکیں اور مظلوموں کی دل کی آواز بن جائیں،مظلوم کوئی بھی ہو انسانیت کو پیش نظر رکھ اسکو انصاف دلانے کی ہر ممکن جدوجہد کریں
مولانا عطاء الرحمن ندوی نے مسلمانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ موجودہ حالات میں تمام مسلمان خصوصا آپس کے جھگڑوں کا باعث بننے والے اسباب کو جڑ سے نکال پھینکیں۔ باہمی عداوت سے نکل کر اخوت کی جانب ، دلی کدورت سے صاف دلی کی جانب، منہ موڑنے کے بجائے دل جوڑنے کی جانب آئیں، ایک دوسری کی کوتاہیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے باہمی اتحاد و اتفاق کی راہ ہموار کریں۔ گروہ بندی اور تعصب سے بالا تر ہو کر سلف صالحین والی اسلامی اخوت ، ایمانی محبت کی روح اپنائیں، توبہ استغفار کیساتھ اللہ سے تعلق مضبوط کریں، اللہ سے تعلق ہی تمام مسائل کا حل ہے اور عبادات کا اہتمام کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کی محنت کو زندہ کریں، نیز عالم اسلام اور خصوصاً وطن عزیز کے لئے دعاؤں کا اہتمام کریں
