حسن الہاشمی کا بیان جاہلانہ معاندانہ وغیرذمہ دارانہ ہے
بقلم: کفیل احمد ندوی۔
عملیات وجھاڑپھوک کے کاروبارسے وابستہ حسن الھاشمی(مقیم دیوبند)صاحب کے جاھلانہ معاندانہ وغیرذمہ دارانہ بیان واقدام کی بھرپورمذمت ہونی چاہٸے ، انہوں نے شہرت کے حصول کی خاطر اورمولاناسعد صاحب سے عنادوتعصب اوربغض کی وجہ سے تبلیغی جماعت مولاناسعدصاحب اوردیگرذمہ داران جماعت کے خلاف انتہاٸ منفی ومضر بیان جاری کیا ، اورملت میں انتشاروتفرقہ بپاکرنے کی مذموم کوشش کی ،اورمرکزنظام الدین کے بارے میں سنگین قسم کی غلط فہمیاں پیداکیں ، ہمارے نزدیک حسن الھاشمی صاحب ، اوربریلوی مکتب فکرکے متشدد مولوی ھاشمی میاں میں کوٸ فرق نہیں ، حسن الھاشمی صاحب ساکنِ دیوبند کی طرف سے حضرت جی مولانامحمدسعد صاحب مدظلہ پر انتہاٸ بھونڈے الزامات لگاۓ گۓ ہیں اورموصوف نے موجودہ سارے حالات ، اورحکومت کی تبلیغ وجماعت مخالف کاررواٸیوں کاٹھیکراصرف مولاناسعد صاحب پرپھوڑاہے ، گویاکہ حالات کی خرابی اورمسلمانوں کے اقتصادی باٸیکاٹ اورلنچنگ کی تازہ مہم میں حکومت ومیڈیاکی کارستانیوں ، اورکٹرہندٶوں کی مسلم واسلام دشمنی کاکوٸ دخل نہ ہو۔ حسن الھاشمی صاحب نے اس حقیقت کونظراندازکردیاکہ مولاناسعدص مدظلہ کی آڈیوکےساتھ چھیڑچھاڑکی گٸ تھی،انہوں نے دھلی کی سرکاری انتظامیہ سے مرکز میں اجتماع کی اجازت بھی لی تھی ،اورکوروناکی حالت پیداہونے کے بعد مرکزکےذمہ داران نے دھلی کی سرکاری انتظامیہ سے جماعتوں کوانکےوطن پہونچانے کے لۓ بسوں کےانتظام کی بھی باربار تحریری گزارش کی تھی ، لیکن انتظامیہ نےایک منصوبہ کےتحت بسوں کاانتظام نہیں کیا اورجماعتوں کومرکزہی میں رکے رہنے اورمرکزسے باہرنہ نکلنے کے احکام جاری کۓ ، فرقہ پرست گودی میڈیاکوجب اپنے آقاٶں کی طرف سے اشارہ ہوا تومرکزنظام الدین اورمولاناسعدصاحب کامیڈیاٹراٸل شروع کردیا ، حسن الھاشمی صاحب سے بہترتواسدالدین اویسی صاحب ، ابوعاصم اعظمی صاحب امانت اللہ خان ص ، سیدسعادت اللہ حسینی صاحب ، اوردیگروہ افرادوشخصیات ہیں جنہوں نےمشکل وقت میں مرکزنظام الدین اورمولاناسعد صاحب کی بھرپورتاٸیدوحمایت کی اورمیڈیاوحکومت کی نیتوں پرجاٸزسوالات کھڑے کۓ ، اورمرکزکےخلاف حکومت کی ساری کاررواٸیوں کوظالمانہ معاندانہ غیرجمہوری واسلام مخالف قراردیا،یہ بات سنجیدگی سے سوچنے کی ہیکہ کیاکوٸ عالمی سطح کاداعی ومبلغ اورایک قدیم عالمی جماعت کاموجودہ امیراعلی وذمہ دار اپنی ہی جماعت کوخود ختم کرسکتاہے؟کیاوہ اپنی ہی جماعت کے خلاف حکومت کےساتھ ملکرسازش کرسکتاہے؟مولاناسعد صاحب مدظلہ کے والد ، دادا ، بھاٸیوں اورانکے خاندان کے دوسرے بہت سے اکابرین ،اورانکے خاندان کی دیگرعبقری ومثالی شخصیات کی بہترین صلاحتیں،اورپوری پوری عمریں تبلیغی جماعت کوبام عروج تک پہونچانے میں صرف ہوٸ ہیں ، اورانکے خاندان کےاکابرین نے پورے اخلاص،کڑھن دردوسوز وتقوی،اورایمانی غیرت وحمیت،اوردعوتی بصیرت کےساتھ کام کیا بےاورنظیرقربانیاں پیش کی ہیں ، توکیاایسے مخلص متقی وپرہیزگاراسلاف کاجانشین اپنے ہی آباٶاجدادکےذریعہ برپاکردہ کام وجماعت کےبارے میں براسوچ سکتا اورسازش کرسکتاہے ، عقل کہتی ہیکہ یہ ناممکن ہے،ایسے میں حسن الھاشمی اورمحموددریابادی جیسے لوگوں کےبیانات کی کوٸ حیثیت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔اس طرح کے بے ہودہ الزامات وہی لگاسکتاہے جسکی نیت میں فتورہو،جسکے اندرعنادوتعصب سرایت کرگیاہو،جوجہل کامجموعہ ہو،اورجوصرف اپنے کوحق پر اوردوسروں کوباطل پرسمجھنے کے مرض میں مبتلاہو۔
حسن الھاشمی صاحب نے اگلے اقدام کے انتظار کی بات کہی ہے ، معلوم نہیں اگلااقدام کیاہوگا،ممکن ہیکہ مولاناسعد صاحب کے کفرکااجتماعی فتوےصادرکرواٸیں ، یاپھانسی پرچڑھادینے کاحکم دیں،انہوں نے لیٹرپیڈ میں جس فرضی جماعت کاذکرکیاہے اسکے تحت وہ ہرطرح کی گھناٶنی حرکت کرسکتے ہیں،اللہ انکے شروروفتن اورغلط عزاٸم سے دعوت وتبلیغ کی عالمی محنت کی حفاظت فرمائے
بقلم: کفیل احمد ندوی۔
عملیات وجھاڑپھوک کے کاروبارسے وابستہ حسن الھاشمی(مقیم دیوبند)صاحب کے جاھلانہ معاندانہ وغیرذمہ دارانہ بیان واقدام کی بھرپورمذمت ہونی چاہٸے ، انہوں نے شہرت کے حصول کی خاطر اورمولاناسعد صاحب سے عنادوتعصب اوربغض کی وجہ سے تبلیغی جماعت مولاناسعدصاحب اوردیگرذمہ داران جماعت کے خلاف انتہاٸ منفی ومضر بیان جاری کیا ، اورملت میں انتشاروتفرقہ بپاکرنے کی مذموم کوشش کی ،اورمرکزنظام الدین کے بارے میں سنگین قسم کی غلط فہمیاں پیداکیں ، ہمارے نزدیک حسن الھاشمی صاحب ، اوربریلوی مکتب فکرکے متشدد مولوی ھاشمی میاں میں کوٸ فرق نہیں ، حسن الھاشمی صاحب ساکنِ دیوبند کی طرف سے حضرت جی مولانامحمدسعد صاحب مدظلہ پر انتہاٸ بھونڈے الزامات لگاۓ گۓ ہیں اورموصوف نے موجودہ سارے حالات ، اورحکومت کی تبلیغ وجماعت مخالف کاررواٸیوں کاٹھیکراصرف مولاناسعد صاحب پرپھوڑاہے ، گویاکہ حالات کی خرابی اورمسلمانوں کے اقتصادی باٸیکاٹ اورلنچنگ کی تازہ مہم میں حکومت ومیڈیاکی کارستانیوں ، اورکٹرہندٶوں کی مسلم واسلام دشمنی کاکوٸ دخل نہ ہو۔ حسن الھاشمی صاحب نے اس حقیقت کونظراندازکردیاکہ مولاناسعدص مدظلہ کی آڈیوکےساتھ چھیڑچھاڑکی گٸ تھی،انہوں نے دھلی کی سرکاری انتظامیہ سے مرکز میں اجتماع کی اجازت بھی لی تھی ،اورکوروناکی حالت پیداہونے کے بعد مرکزکےذمہ داران نے دھلی کی سرکاری انتظامیہ سے جماعتوں کوانکےوطن پہونچانے کے لۓ بسوں کےانتظام کی بھی باربار تحریری گزارش کی تھی ، لیکن انتظامیہ نےایک منصوبہ کےتحت بسوں کاانتظام نہیں کیا اورجماعتوں کومرکزہی میں رکے رہنے اورمرکزسے باہرنہ نکلنے کے احکام جاری کۓ ، فرقہ پرست گودی میڈیاکوجب اپنے آقاٶں کی طرف سے اشارہ ہوا تومرکزنظام الدین اورمولاناسعدصاحب کامیڈیاٹراٸل شروع کردیا ، حسن الھاشمی صاحب سے بہترتواسدالدین اویسی صاحب ، ابوعاصم اعظمی صاحب امانت اللہ خان ص ، سیدسعادت اللہ حسینی صاحب ، اوردیگروہ افرادوشخصیات ہیں جنہوں نےمشکل وقت میں مرکزنظام الدین اورمولاناسعد صاحب کی بھرپورتاٸیدوحمایت کی اورمیڈیاوحکومت کی نیتوں پرجاٸزسوالات کھڑے کۓ ، اورمرکزکےخلاف حکومت کی ساری کاررواٸیوں کوظالمانہ معاندانہ غیرجمہوری واسلام مخالف قراردیا،یہ بات سنجیدگی سے سوچنے کی ہیکہ کیاکوٸ عالمی سطح کاداعی ومبلغ اورایک قدیم عالمی جماعت کاموجودہ امیراعلی وذمہ دار اپنی ہی جماعت کوخود ختم کرسکتاہے؟کیاوہ اپنی ہی جماعت کے خلاف حکومت کےساتھ ملکرسازش کرسکتاہے؟مولاناسعد صاحب مدظلہ کے والد ، دادا ، بھاٸیوں اورانکے خاندان کے دوسرے بہت سے اکابرین ،اورانکے خاندان کی دیگرعبقری ومثالی شخصیات کی بہترین صلاحتیں،اورپوری پوری عمریں تبلیغی جماعت کوبام عروج تک پہونچانے میں صرف ہوٸ ہیں ، اورانکے خاندان کےاکابرین نے پورے اخلاص،کڑھن دردوسوز وتقوی،اورایمانی غیرت وحمیت،اوردعوتی بصیرت کےساتھ کام کیا بےاورنظیرقربانیاں پیش کی ہیں ، توکیاایسے مخلص متقی وپرہیزگاراسلاف کاجانشین اپنے ہی آباٶاجدادکےذریعہ برپاکردہ کام وجماعت کےبارے میں براسوچ سکتا اورسازش کرسکتاہے ، عقل کہتی ہیکہ یہ ناممکن ہے،ایسے میں حسن الھاشمی اورمحموددریابادی جیسے لوگوں کےبیانات کی کوٸ حیثیت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔اس طرح کے بے ہودہ الزامات وہی لگاسکتاہے جسکی نیت میں فتورہو،جسکے اندرعنادوتعصب سرایت کرگیاہو،جوجہل کامجموعہ ہو،اورجوصرف اپنے کوحق پر اوردوسروں کوباطل پرسمجھنے کے مرض میں مبتلاہو۔
حسن الھاشمی صاحب نے اگلے اقدام کے انتظار کی بات کہی ہے ، معلوم نہیں اگلااقدام کیاہوگا،ممکن ہیکہ مولاناسعد صاحب کے کفرکااجتماعی فتوےصادرکرواٸیں ، یاپھانسی پرچڑھادینے کاحکم دیں،انہوں نے لیٹرپیڈ میں جس فرضی جماعت کاذکرکیاہے اسکے تحت وہ ہرطرح کی گھناٶنی حرکت کرسکتے ہیں،اللہ انکے شروروفتن اورغلط عزاٸم سے دعوت وتبلیغ کی عالمی محنت کی حفاظت فرمائے
