اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: یہ کیسی تصویر بنا دی تم نے ہندوستان کی۔۔۔۔۔۔ از_ محمد افضل اعظمی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 4 July 2020

یہ کیسی تصویر بنا دی تم نے ہندوستان کی۔۔۔۔۔۔ از_ محمد افضل اعظمی

یہ کیسی تصویر بنا دی تم نے ہندوستان کی۔۔۔۔۔۔
                     از_ محمد افضل اعظمی

وطن عزیز ہندوستان اپنی تاریخ میں کئی ادوار سے گزرا ہے ایک دور تھا جب اس ملک پر رجواڑوں کا قبضہ تھا مختلف علاقوں میں مختلف راجہ عوام پر حکومت کرتے تھے۔ اس کے بعد اس ملک پر مسلمانوں کی آمد ہوئی مسلم بادشاہوں نے اس ملک میں اپنی حکومت قائم کی اور ہندوستان کی تعمیر و ترقی کے لئے کافی کام کئے۔ ایک لمبے عرصے تک ہندوستان میں حکومت کرتے رہے۔ مسلم بادشاہوں کے بعد کا دور انگریزوں کا ہے انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے زریعہ تجارت کی غرض سے اس ملک میں داخل ہوئےاور اس ملک پر حکومت کرنے کا خواب دیکھا ۔ہندوستانیوں کے آپسی نااتفاقی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے  مختلف سازشیں چلیں اور اپنے خواب کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس ملک پر قابض ہونے کے بعد ہندوستانیوں پر ظلم کرنے لگے۔ جب ظلم کی انتہا ہوگئی تو ہندوستانیوں نے وطن عزیز کو انگریزوں سے آزاد کرنے اور ایک جمہوری ملک بنانے کا خواب دیکھا بلآخر وطن عزیز کو ہندوستانیوں نے جدوجہد اور قربانیوں کے عوض اس ملک کو آزاد کرالیا۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک بنا جمہوری ملک بننے کے بعد مجاہدین آزادی نے ہندوستانیوں کو یقین دلایا کی اب سب ہندوستانیوں کے حقوق کی حفاظت ہوگی اور سب کو یکساں حقوق ملے نگے لہذا ہندوستانی آئین میں ان وعدوں کا خیال رکھا گیا۔وطن عزیز کو جمہوری ملک بنے سات(۷) دہائیاں گزر چکی ہیں کیا ہندوستان کے غریب ،کمزور اور بچھڑے ہندوستانیوں کو حقوق مل رہا ہے؟؟؟
اس وقت ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کرونا بیماری سے پریشان ہے وطن عزیز میں اس پریشانی کا شکار سب سے زیادہ ہندوستان مزدور ہوئے ہیں جو اپنے پیٹ کے لئے اپنے گھر بار کو چھوڑ کر دوسرے صوبصوں میں کام کرنے کے لئے گئے تھے۔ وطن عزیز کےمفاد پرست سیاست کے بازی گروں نے ایسے وقت میں بھی ہندوستانیوں کو بھوک سے مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا اور سیاسی چال چلتے رہے۔جب مزدورں کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ بچا تو اپنے بیوی ،چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ پیدل، ٹرک اور دوسرے زرائع سے ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ کا سفر کرنے لگے۔ سیاسی پارٹیوں کے پاس اپنی سیاسی ریلیاں کرنے کے لئے تو پیسے ہیں مگر بھوکی مر رہی عوام کے لئے کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ سرکاری اسکیموں اور بجٹوں کا اعلان تو ہوتا ہے مگر عوام تک پہنچتے پہنچتے کچھ فیصد ہی بچتا ہے سرکاری حکام عوام کے بجٹ سے اپنا بینک بھرتے ہیں یہ صورتحال ہے ان نیتاؤں اور سرکاری حکاموں کی جو ہندوستان کے آئین پر حلف لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔
پٹرول ، ڈیزل اور کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔ملک کی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ سرکاریں تعلیم اور روزگار دینے کے بجائے صرف لمبے لمبے مستقبل کا خواب دکھا رہی ہے ۔ایک تو مہنگائی کی مار دوسرے غریب عوام کے پاس روزگار کی کمی ایسی صورتحال میں عوام کیا کرے۔ انھی چیزوں سے پریشان ہر سال سیکڑوں کسان پھانسی لگاتے ہیں۔۔۔۔
ایک طرف ملک کی عوام کی یہ صورتحال ہے تو دوسری طرف ملک کے لئے سرحدوں پر لڑرہے نوجوان مارے جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔ ایسے مواقع پر جب ملک مختلف پریشانیوں سے گزر رہا ہے۔ کچھ میڈیا اپنی دکانیں چلانے کے لئے  ملک میں نفرت پھیلانے والے ڈبیٹ اور حکومتوں کی چاپلوسی کررہے ہیں۔ جب ملک کرونا جیسی مہلک بیماری سے پریشان ہے ایسے میں سیاسی لیڈروں، میڈیا اور سرپسندوں کو ہندو مسلمان نظر آجاتا ہے۔ ہندوستانیوں میں نفرت پھیلانے کے لئے کبھی تبلیغی جماعت پر ڈبیٹ کیا جاتا ہے اور ان پر ملک میں کرونا پھیلانے کا الزام لگایا جاتا ہے تو کبھی مندر مسجد پر ڈبیٹ شروع ہوجاتی ہے تو کبھی بزرگوں اور سادھوں پر ڈبیٹ ہونے لگتی ہے جبکہ میڈیا کو حکومتوں سے تعلیم ،روزگار، کسانوں اور غریب عوام کے سوالات کرنے چاہئے، دہلی میں مسلمانوں پر ایک طرفہ کاروائی اور گرفتاریاں ہو رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بہر کیف وطن عزیز کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے ایسے میں حکومتوں، سرکاری اداروں اور ہندوستانی عوام کو ملکی مفاد میں کام کرنے، آپس میں بھائی چارہ اور امن کو فروغ دینے، حکومتوں کو تعلیم اور روزگار کے لئے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ میڈیا کو حکومتوں کے گن گانے کے بجائے عوام کی آواز کو بلند کرنے، سرکاری اداروں میں کام کرنے والوں کو ایمان داری سے کام کرنے اور کرپشن سے بچنے کی ضرورت ہے۔