اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: ہماری باتیں،، اور ہمارا کردار،،، از✍ احتشام الحق، مظاہری، کبیر نگری،

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 9 July 2020

ہماری باتیں،، اور ہمارا کردار،،، از✍ احتشام الحق، مظاہری، کبیر نگری،

ہماری باتیں،، اور ہمارا کردار،،، 


                            از✍
   احتشام الحق، مظاہری، کبیر نگری،



قارئین کرام!  آج میں اِس حساس موضوع پر اپنے تاثرات پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں؛ حساس موضوع اس لئے ہے، کیونکہ اپنا اور اپنی برادری (مسلمانوں ) کے کردار و عمل کا جائزہ لینا میرے خیال میں آسان کام نہیں۔ یہ بات تو سب پر عیاں ہے کہ آج ہم نہایت پُرآشوب دور سے گزر رہے ہیں، کرۂ ارض پر کہیں بھی نگاہ ڈالیں، مسلمانوں کا چاہے وہ امیر ہو کہ غریب یا پھر متوسط، کسی نہ کسی زاویہ سے بُرا حال ہے۔ اس کا ایک سبب ہمارے، گندے کردار  ہیں،ہمیں اپنے کردار پر توجہ دینے کی ضرورت ھے , اس لئے کہ امت مسلمہ کو کردار کی عزمت ہی سکھلائی گئی ھے اور ان کا کردار ہی انکو باقی لوگوں سے ممتاز اور نمایا کرتا ھے , جس شخص کی خاموشی فائدہ نھیں دیتی اس کی تقریر بھی فائدہ نھیں دیتی , مطلب. یہ کہ جس کے کردار میں چمک نھیں اسکی گفتار بھی دلوں پر نھیں اترتی, ہواؤں میں اڑتی تتلیوں کی طرح لفظ اپنا رنگ تو جمائینگے لیکن دل میں نھیں اترینگے,لفظ وہی اترینگے جو دل سے نکلینگے ,  اذانِ بلالی تو ایسی دھوم مچا دیتی تھی کہ، جو آج اذانوں  کے اندر  نھیں ھے وہ خلوص کی کہانی تھی وہ کردار کی برکت تھی آج ہمارے کردار لٹ گئے ہیں ,

 ایک زمانہ ہوا ایک کتاب چھپی تھی ,  جس کا نام تھا (عرب کاچاند)  , اسکا مصنف تھا , سوامی لکشمن پرساد ,  اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مطہرہ پر یہ کتاب لکھی ,   کسی نے  سوامی لکشمن پرساد سے کہا کہ تو نے مسلمانوں کے نبی کی سیرت پر اتنی خوبصورت کتاب لکھی کہ جو پڑھتا ھے اسکا ایمان تازہ ہوجاتا ھے , اس کتاب کو لکھ کرکے تو خود اس نبیِ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام کیوں نھیں بنا , تو اسوقت جو سوامی نے جوب دیا وہ ہماری انکھیں کھول دینے کےلئے کافی ھے , اگر نہ سوچیں تو الگ بات ھے ، لیکن اگر سوچیں اور غور کریں تو اسکا جواب اتنا زوردار تماچہ ہے کہ صدیوں اس کی کشش نہ جائے ,

 چناچہ , اسنے کہا, کہ جب میں نے مسلمانوں کے نبی کی سیرت پر کتاب لکھنے کے لئے بڑی بڑی سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزمت کے گوشے اور آپ کی سیرت کے جمال مجھے نظر آئے تو یہ جذبہ میرے دل میں بھی پیدا ہو ا کہ میں اس آقا کا غلام بن جاؤں , لیکن جب میں موجودہ مسلمانوں کے کردار کو دیکھتا ھوں تو کہتا ھوں کہ میں ہندو ہی ٹھیک ہوں , ہمارا کردار لوگوں کے ایمان کے راستے میں رکاوٹ ہے , ایک وہ زمانہ تھا کہ امام محمد کا جنازہ اٹھتا ھے پورا بصرہ امنڈ آیا یہودی عیسائی بھی اس شہر میں رہتے تھے کہا یارو مسلمانوں کے امام کا جنازہ ھے چلو ہم بھی شامل ہوتے ھیں، لوگ ذوق و شوق کے ساتھ آگے بڑھ بڑھ کے جنازے کو کندھا دے رہے ہوتے ہیں , اسی دوران ایک یہودی نے بھی سوچا کہ چلو ہم بھی کندھا دے دیں , ہمیں تاریخ نے بتلایا کہ جیسے ہی اسکا کندھا امام کی چارپائی سے مس  ہوا لبوں پر کلمہ جاری ہوگیا , 

مسلمانوں،  ذرا غور کرو!!!!!   ہمارے بزرگوں کی لاشیں بھی کلمہ پڑھواتی تھیں , اور آج ہماری زندہ لاشیں لوگوں کے ایمان کے راستے میں روکاوٹ بنی ہوئی ھے , آج ہم کھڑے ہوکر دعوہ تو کرتے ہیں کہ ہم امریکہ سے ٹکر لینگے  سہیونی اور فسطائی طاقتوں سے ٹکر لینگے ان کو ٹکڑے ٹکڑے اور پاش پاش , کردینگے , لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا، اپنی حالت دیکھی، آج  تو ہماری مسجدوں کے بیت الخلاء و استنجاء خانوں کے گندے لوٹے بھی زنجیروں سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں آج گرمی کا موسم ھے اگر کوئی باہر کسی جگہ پر واٹر کولر میں جو گلاس  رکھتا ہے تو اسکو بھی زنجیروں سے باندھ کرکے رکھتا ھے ، ہماری مساجدوں کے اند سے جوتے اٹھائے جاتے ہیں , یہ ہے ہمارے کردار کی جھلک اور دعوہ دیکھئے !!!  کہ ہم تو فسطائی طاقتوں کو پاش پاش کردینگے , امریکہ اور فلسطین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینگے،، لفظوں سے کچھ نھیں ہوتا , ہم کواپنے کردار و عمل کا جائزہ لینا ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے طریقے کو اپنی زندگیوں میں اتارنا ہوگا، صرف ہم انکے طرف نفرت سے تھوک دیں تو انکے توپوں میں کیڑے نھیں پڑنے والے , ہمیں اسکے مقابلے میں کچھ کرنا ہوگا ہم اپنی حالت و کردار کو تو بدلنے کے لئے تیار نھیں , کیا ہم نے کبھی دیکھا کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں ذرا ہوش کے ناخون لیں،،،،  اگر ہم نے اپنے آپ کو تبدیل نہیں کیا،  تو ہم ایسے ہی فسطائیت کے تلے سسکتے ، تڑپتے،  اور کرراہتے ،  رہینگے، نفرت کی آگ ہمارے جسموں کا ایندھن بنتی رہیگی،

لہذا!!! اپنے آپ کو تبدیل کریں اور تبدیلی لائیں, اپنے اند ایک تغیر پیدا کریں ,  اور اپنی ذات کو وصف بنائیں بالخصوص جو , ذمہ دار لوگ ہیں جو وارثانِ ممبر و محراب ہیں وہ بھی اپنے کردار وعمل کا جائزہ لیں، اگر جو بات کہتے ہیں اسکے اند عمل کا زور ہو گا تو پھر بات بھی مؤثر ہو گی ، پھر تو کوئی وجہ ہی نھیں ہے کہ بات دل تک نہ پہنچے ,
از دل خیزد ,   بر دل ریزد ,,  دل سے نکلے گی دل تک پہنچے گی ,