مسجد ایا صوفیا کا قضیہ.........
تحریر: مولانا طاہر مدنی
یہ معاملہ چند روز سے موضوع بحث ہے. ترکی کی عدالت نے مسجد کی بحالی کا فیصلہ صادر کردیا اور اس کی روشنی میں ترکی حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے. اس کی حمایت اور مخالفت میں گرما گرم بحث جاری ہے. تائید بھی ہورہی ہے اور مخالفت بھی، اس تعلق سے قابل توجہ امر یہ ہے کہ گفتگو اور تحریر کا معیار برقرار رکھنا چاہیے؛ و إذا قلتم فاعدلوا؛ جب اظہار خیال کرو تو انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے.
ایک دوسرے کی نیت پر حملہ کرنا، کسی کا ایجنٹ قرار دینا، سطحی زبان استعمال کرنا اور طعن و تشنیع پر اتر جانا، مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا، مہذب سماج میں باوقار گفتگو ہوتی ہے اور آداب اختلاف کا لحاظ کیا جاتا ہے.
میرا موقف؛ قضیہ زیر بحث میں میرا موقف یہ ہے کہ ترکی کی اعلی عدالت نے بالکل صحیح فیصلہ سنایا ہے اور ترکی کی حکومت اب مسجد کی بحالی کیلئے جو عملی اقدامات کر رہی ہے، درست ہے.
ایا صوفیا ایک قدیم چرچ تھا، 1453 میں جب سلطان محمد فاتح علیہ الرحمہ نے قسطنطنیہ فتح کیا تو اسے مسجد میں بدلنے کا فیصلہ کیا اور وہاں نماز شروع ہوگئی، جس کا سلسلہ 1931 تک جاری رہا، مصطفی کمال اتاترک نے اس میں تالا لگوا دیا اور بعد میں اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا.
سلطان محمد فاتح علیہ الرحمہ نے اسے کیسے مسجد میں تبدیل کر دیا، یہ ایک اہم سوال ہے.
اس کا جواب یہ ہے کہ فتح کے بعد ان کو اس کا اختیار تھا. اس معاملے کو اس وقت دنیا میں رائج معمول کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، اقوام متحدہ کے منشور کی روشنی میں نہیں، کیونکہ یہ تو اس واقعہ کے پانچ سو سال بعد وجود میں آنے والی چیز ہے. اس وقت کی دنیا میں کیا رائج تھا؟ جنگیں ہوتی تھیں، فاتحین کو کیا اختیار حاصل ہوتا تھا، مسلمانوں کے خلاف بہت سارے معرکوں میں عیسائیوں کو فتح حاصل ہوئی، انہوں نے کیا سلوک کیا، اسی روشنی میں فیصلہ کیجئے، آپ کو الگ اختیار اور ہم کو الگ، یہ کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے. آج عیسائی کس منہ سے اعتراض کرسکتے ہیں؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے بعد خصوصی دستوں کو روانہ کیا اور متعدد صنم خانوں کو مسمار کروا دیا، آپ اس پر اعتراض کریں گے، سیرت اور احادیث کی کتابوں میں تفصیلات موجود ہیں.
قسطنطنیہ میں اس وقت بہت سارے چرچ تھے، سب کے ساتھ تو یہ نہیں ہوا، اس بات کے بھی شواھد ہیں کہ سلطان نے اس کو خریدنے کے بعد مسجد کیلئے وقف کر دیا. اگر یہ بات ثابت نہ ہو تو بھی شہر کو فتح کرنے کے بعد انہیں اس وقت کے رائج معمول کے مطابق اس کا اختیار تھا. انہوں نے تو وہاں کے عیسائیوں کے ساتھ بہت رواداری اور فراخ دلی کا ثبوت دیا. ورنہ ترکی سے ان کا صفایا ہو جاتا، جس طرح اسپین سے مسلمانوں کا صفایا ہوا اور ان کی مساجد کو چرچوں اور عجائب گھروں میں تبدیل کر دیا گیا.
مصطفی کمال اتاترک نے مسجد میں تالا لگوا کر اور بعد میں اسے میوزیم بناکر بہت غلط اقدام کیا تھا جس کی تصحیح آج 85 برس بعد قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد ہورہی ہے تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ یہ اقدام قانونی اور اخلاقی ہر لحاظ سے سے بالکل درست ہے. البتہ جن کو اس پر اعتراض ہے ان کی بات بھی صبر کے ساتھ سننا چاہیے اور سنجیدگی سے انہیں اطمینان بخش جواب دینا چاہیے. اس معاملے میں نہ تو مرعوبیت کی ضرورت ہے اور نہ ہی جذباتیت کی. دلیل کے ساتھ سنجیدہ گفتگو ہی ہمارا شعار ہونا چاہیے اور اختلاف رائے کے باوجود مل جل کر رہنے کا سلیقہ اور ایک دوسرے کے احترام کا قرینہ ہمیں آنا چاہیے.....
تحریر: مولانا طاہر مدنی
یہ معاملہ چند روز سے موضوع بحث ہے. ترکی کی عدالت نے مسجد کی بحالی کا فیصلہ صادر کردیا اور اس کی روشنی میں ترکی حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے. اس کی حمایت اور مخالفت میں گرما گرم بحث جاری ہے. تائید بھی ہورہی ہے اور مخالفت بھی، اس تعلق سے قابل توجہ امر یہ ہے کہ گفتگو اور تحریر کا معیار برقرار رکھنا چاہیے؛ و إذا قلتم فاعدلوا؛ جب اظہار خیال کرو تو انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے.
ایک دوسرے کی نیت پر حملہ کرنا، کسی کا ایجنٹ قرار دینا، سطحی زبان استعمال کرنا اور طعن و تشنیع پر اتر جانا، مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا، مہذب سماج میں باوقار گفتگو ہوتی ہے اور آداب اختلاف کا لحاظ کیا جاتا ہے.
میرا موقف؛ قضیہ زیر بحث میں میرا موقف یہ ہے کہ ترکی کی اعلی عدالت نے بالکل صحیح فیصلہ سنایا ہے اور ترکی کی حکومت اب مسجد کی بحالی کیلئے جو عملی اقدامات کر رہی ہے، درست ہے.
ایا صوفیا ایک قدیم چرچ تھا، 1453 میں جب سلطان محمد فاتح علیہ الرحمہ نے قسطنطنیہ فتح کیا تو اسے مسجد میں بدلنے کا فیصلہ کیا اور وہاں نماز شروع ہوگئی، جس کا سلسلہ 1931 تک جاری رہا، مصطفی کمال اتاترک نے اس میں تالا لگوا دیا اور بعد میں اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا.
سلطان محمد فاتح علیہ الرحمہ نے اسے کیسے مسجد میں تبدیل کر دیا، یہ ایک اہم سوال ہے.
اس کا جواب یہ ہے کہ فتح کے بعد ان کو اس کا اختیار تھا. اس معاملے کو اس وقت دنیا میں رائج معمول کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، اقوام متحدہ کے منشور کی روشنی میں نہیں، کیونکہ یہ تو اس واقعہ کے پانچ سو سال بعد وجود میں آنے والی چیز ہے. اس وقت کی دنیا میں کیا رائج تھا؟ جنگیں ہوتی تھیں، فاتحین کو کیا اختیار حاصل ہوتا تھا، مسلمانوں کے خلاف بہت سارے معرکوں میں عیسائیوں کو فتح حاصل ہوئی، انہوں نے کیا سلوک کیا، اسی روشنی میں فیصلہ کیجئے، آپ کو الگ اختیار اور ہم کو الگ، یہ کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے. آج عیسائی کس منہ سے اعتراض کرسکتے ہیں؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے بعد خصوصی دستوں کو روانہ کیا اور متعدد صنم خانوں کو مسمار کروا دیا، آپ اس پر اعتراض کریں گے، سیرت اور احادیث کی کتابوں میں تفصیلات موجود ہیں.
قسطنطنیہ میں اس وقت بہت سارے چرچ تھے، سب کے ساتھ تو یہ نہیں ہوا، اس بات کے بھی شواھد ہیں کہ سلطان نے اس کو خریدنے کے بعد مسجد کیلئے وقف کر دیا. اگر یہ بات ثابت نہ ہو تو بھی شہر کو فتح کرنے کے بعد انہیں اس وقت کے رائج معمول کے مطابق اس کا اختیار تھا. انہوں نے تو وہاں کے عیسائیوں کے ساتھ بہت رواداری اور فراخ دلی کا ثبوت دیا. ورنہ ترکی سے ان کا صفایا ہو جاتا، جس طرح اسپین سے مسلمانوں کا صفایا ہوا اور ان کی مساجد کو چرچوں اور عجائب گھروں میں تبدیل کر دیا گیا.
مصطفی کمال اتاترک نے مسجد میں تالا لگوا کر اور بعد میں اسے میوزیم بناکر بہت غلط اقدام کیا تھا جس کی تصحیح آج 85 برس بعد قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد ہورہی ہے تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ یہ اقدام قانونی اور اخلاقی ہر لحاظ سے سے بالکل درست ہے. البتہ جن کو اس پر اعتراض ہے ان کی بات بھی صبر کے ساتھ سننا چاہیے اور سنجیدگی سے انہیں اطمینان بخش جواب دینا چاہیے. اس معاملے میں نہ تو مرعوبیت کی ضرورت ہے اور نہ ہی جذباتیت کی. دلیل کے ساتھ سنجیدہ گفتگو ہی ہمارا شعار ہونا چاہیے اور اختلاف رائے کے باوجود مل جل کر رہنے کا سلیقہ اور ایک دوسرے کے احترام کا قرینہ ہمیں آنا چاہیے.....
