اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: فقہ اکیڈمی انڈیا کی دو عظیم شخصیات کی وفات سے ملت کا عظیم خسارہ: قاری محمد طیب قاسمی آنند نگر مہراج گنج :06/ستمبر 2020 آئی این اے نیوز (عبید الرحمن الحسینی)

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 5 September 2020

فقہ اکیڈمی انڈیا کی دو عظیم شخصیات کی وفات سے ملت کا عظیم خسارہ: قاری محمد طیب قاسمی آنند نگر مہراج گنج :06/ستمبر 2020 آئی این اے نیوز (عبید الرحمن الحسینی)


 فقہ اکیڈمی انڈیا کی دو عظیم شخصیات کی وفات سے ملت کا عظیم خسارہ: قاری محمد طیب قاسمی 



آنند نگر مہراج گنج :06/ستمبر 2020 آئی این اے نیوز 

(عبید الرحمن الحسینی) 

ملک کی دوعظیم شخصیات کے انتقال پردارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ مہراج گنج میں سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھتے ہوئے ایک تعزیتی نشست ادارہ کے سربراہ اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی ، جس میں مرحومین کے لئے آیات کریمہ پڑھ کر ایصال ثواب کیا گیا۔


ادارہ کے سربراہ اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ : ادھر ایک ہفتہ کے دوران اسلامک فقہ اکیڈمی کی دو عظیم شخصیات ہم سے جدا ہوگئیں،ایک حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفرپوری(سابق شیخ الحدیث ، مدرسہ رحمانیہ سپول، دربھنگہ وسابق رکن اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)جن کے جانے کا غم ابھی مندمل نہیں ہوا تھا کہ ۲ ستمبر کواسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری مولانا امین عثمانی ندوی بھی ہم سے رخصت ہوگئے۔اللہ تعالیٰ دونوں بزرگوں کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے ۔آمین۔


سربراہ اعلیٰ نے کہا کہ: ملک کی باوقار” اسلامک فقہ اکیڈمی ،،کے سکریٹری مولانا امین عثمانی کے سانحہ ارتحال سے مجھے شدید صدمہ ہوا ہے۔ مولانا اکیڈمی کے لئے دماغ کی حیثیت رکھتے تھے، وہ ملت کی بے لوث خبر گیری اور عالم اسلام کے حالات پر گہری نظر بالخصوص مسجد اقصی کی باز یافت کے ہمیشہ کوشاں رہا کرتے تھے۔ آپ نے جس طرح فکرمندی اور جاں سوزی کے ساتھ اکیڈمی کی آبیاری کی ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ و فقہ اکیڈمی کے ایک مخلص خاد م ومضبوط ستون تھے۔ آپ کی وفات پوری ملت اسلامیہ کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے۔اب علمی وفقہی دنیا میں ایسا عظیم خلا پیدا ہوگیا ہے جس کا پر ہونا بظاہر ممکن نہیں۔ آپ کی شخصیت مختلف خصوصیات و کمالات کی حامل تھی۔ کامیاب ترین انتظام کار اور عظیم ترین دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ نے آپ کو قرطاس وقلم کی بے پایاں قوت و استعداد سے بھی سرفراز کیا تھا۔ آپ ایک لمبے عرصے تک مخلص اور وفادار خادم بن کر اکیڈمی کو ا پنے خون جگر سے سینچتے رہے اور اس کی ترقیات کے لئے کوشاں اور زیادہ سے زیادہ بافیض بنانے کے لئے سرگرم عمل رہے ۔اللہ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے۔آمین۔ 


دارالعلوم فیض محمدی کے ناظم اعلیٰ جناب مولانا سعد رشید ندوی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ: بلاشبہ آج اسلامک فقہ اکیڈمی، ایک عبقری شخصیت، بلند پایہ خطیب وفقیہ سے محروم ہو گئی۔ آپ کی رحلت سے وابستگان اکیڈمی سمیت پوری علمی ورفاہی دنیا کا جو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے اللہ بہترین بدل عطا فرمائے۔ آپ کے درجات کو بلند فرمائے، اور جملہ پسماندگان بالخصوص عہدیداران جماعت کو صبر جمیل عطا فرمائے۔یقینا اللہ نے آپ کو انتظامی کاموں میں خصوصی مہارت کے ساتھ ساتھ اخاذذہن، دور رس فکر اور بے پناہ فقہی وعلمی صلاحیتوں سے نوازا تھا، خلق خدا گواہ ہے کہ علمی وفقہی خدمات اورعوامی وسماجی کاموں کی بنیا دپر ہرطبقہ بلاامتیاز مذہب وملت آپ کا گرویدہ تھا۔ توفیق خداوندی کی بنیاد پر جو آپ نے کارہائے نمایا ں خدمات انجام دی ہیں، انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔


دارالعلوم فیض محمدی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے اپنے گہرے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: مولاناامین عثمانی ندوی ایک باصلاحیت ، سنجیدہ اور دور رس عالم دین تھے، فکری موضوعات پر آپ کا قلم خوب چلتا تھا، اس میں آپ کو خصوصی امتیاز حاصل تھا، یقینا آپ کا انتقال پوری ملت اسلامیہ کے لئے عموماً اور علمی وفقہی حلقوں کے لئے خصوصاً ایک بڑا حادثہ ہے، آپ کے انتقال سے فقہ اکیڈمی سمیت تمام علمی وفقہی حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی ہے، آپ قاضی مجاہد الاسلام ؒ کے تربیت یافتہ اور قریبی تھے۔


اس تعزیتی نشست میں، مفتی احسان الحق قاسمی معاون مدیر ماہ نامہ ” احیاءاسلام ، ڈاکٹر محمد اشفا ق قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی ، مولانا شکراللہ قاسمی ، مولا محمدصابر نعمانی ، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا محمدیحیٰ ندوی، حافظ ذبیح اللہ ، مولانا مسعوداحمد صدر انجمن تحفظ سنت ، سانتھا، حافظ محمد ناظم ، محمد قاسم، ماسٹر محمد عمر خان ، ماسٹر جاوید احمد ، ماسٹر جمیل احمد ، ماسٹر صادق علی، ماسٹر فیض احمد ، ملا محمد مسلم ، وغیرہ موجود تھے۔