اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: بے مثال انسان، بے نظیر حکمران! قسط/٢ تحریر: محمد فہیم قاسمی گورکھ پوری

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 5 September 2020

بے مثال انسان، بے نظیر حکمران! قسط/٢ تحریر: محمد فہیم قاسمی گورکھ پوری



                        بے مثال انسان، بے نظیر حکمران!

                         قسط/٢

تحریر: محمد فہیم قاسمی گورکھ پوری


        اس عظیم انسان کو کیا معلوم اللہم اعز الاسلام باحد ا لرجلین اما ابن ہشام او عمر بن خطاب یہ دعائے نبوی ان کے حق میں قبول ہو چکی ہے۔ پھر اللہ کے رسول کی مجلس میں پہنچتے ہیں، اور ان کے ایمان کی خبر سن کر تکبیر کی صدا مکہ کی گلیوں اور پہاڑوں میں گونج اٹھتی ہے، پھر یہ کہا جانے لگتا ہے کہ ہم کفار کی وجہ سے گھروں میں چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے، لیکن اس شخص کے ایمان لانے کے بعد ہم نے بیت اللہ میں عبادتیں شروع کر دیں، جس نے حق اور باطل کو واضح کرکے فاروق کا لقب اختیار کر لیاہے۔

          جس نے ہجرت فرمائی تو اس شان سے کہ مکہ سے باہر نکل کر فرمایا تم میں سے کون ہے جو اپنی بیوی کو بیو ہ اور اپنے بچوں کو یتیم کرنے کا خواہش مند ہے، آئے اور مجھے روکے، مکہ کے شیر دل بہادر آگے بڑھ کر اسے روک نہ سکے۔

         جو روز بروز اسلام کو تقویت پہنچانے میں مصروف ہو گیا ہو، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان جنگ میں شانہ بشانہ کھڑا رہا ہو۔ جس کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کو قرآن مقدس نے اپنے اندر ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا ہو، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اپنا  ہوش کھو دیا ہو، اور یہ یاد ہی نہ رہا ہو کہ جو آیا ہے اسے خالق سے پھر ملاقات بھی کرنی ہے، جس نے سقیفہ بنی ساعدہ میں ابھر نے والے فتنہ کو اپنی ایمانی فراست، دانائی،عقلمندی اور ہوشیاری سے اس طرح  فرو کرکے انہیں اپنا ہمنوا بنا لیا ہو کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات ہی میں اپنے مصلی پر امامت کے لئے آگے بڑھا دیا تھا، تو جسے حضور نے اپنا قائم مقام اور اپنے دین کا امام بنا دیا ہوہم میں کون ہے جو اس کی دنیاوی امامت پر اعتراض و اعراض کرے؟ جسے خلیفہ اول نے اپنی زندگی کے ایام پورے ہونے پر یہ کہہ کر خلیفہ بنایا ہو کہ اے اللہ تیری زمین پر بسنے والے تیرے بندوں پر میں نے اس شخص کو ذمہ دار مقرر کیا ہے جو ان میں سب زیادہ اچھا تھا۔

        جس نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو رعایا کی خدمت، ان کے آرام و راحت کی فکر نے راتوں کی نیند چھین کر گلیوں گلیوں گشت کرنے پر مجبور کر دیا ہو، اور اس نے عمدہ مشروب اور کھانے سے ہاتھ روک لیا ہو کہ کیا معلوم اتنی وسیع سلطنت میں کوئی جاندار بھوکا ہو، اس خیال ہی سے قیامت کے دن کی ہولناکی اور خدائی باز پرس سے کپکپی طاری ہو جاتی ہو۔ جس نے اپنے عدل و انصاف سے اپنے ممالک محروسہ کو آفتاب سے زیادہ روشن اور چمکدار بنا دیا ہو۔ ایک واقعہ پڑھیئے اور سر دھنئے۔

        اسلامی حکومت کی جانب سے تجارتی محصول وصول کرنے کے لئے سرحدی علاقوں پر انتظام ہوا، تو فرات کے آبی راستے پر بھی چوکی قائم ہوئی، اس طرح کہ دریا میں ایک رسہ پھینک دیا جاتا تھااور کشتی آکر اس سے اٹک جاتی تھی اورمحصول وصول کرنے والے اندازہ کے موافق محصول وصول کر لیتے تھے، ایک عیسائی تاجر اسی زمانہ میں اپنا مال لے کر اسی فرات کے آبی راستے سے گزر رہا تھا، محصول کے لئے زیادہ ابن حدیرؓ مقرر تھے، انھوں نے محصول وصول کر لیا، اور اسے جانے دیا، چند دن کے بعد جب وہ تجارت سے واپس ہوا، تو پھر اس کی کشتی روک لی گئی، او راس سے محصول کا مطالبہ کیا جانے لگا، جس پر وہ کہتا رہا کہ میں نے محصول ایک بار ادا کر دیا ہے اب مجھ ہی سے دوبارہ محصول کیوں اور کیسے وصول کروگے، اس عیسائی سوداگر او رزیادؓ کے درمیان بات بڑھ گئی، تاجر نے سامان اپنے آدمیوں کے سپرد کیا، او رزیادؓ سے کہا کہ میں خود امیرالمومنینؓ کے پاس جاتا ہوں اور وہ تاجر مکہ (اس وقت حضرت عمر ؓ مکہ ہی میں تشریف فرما تھے) میں امیرالمومنین کی خدمت میں یہ کہتے ہوئے حاضر ہوا کہ میں ایک عیسائی تاجر ہوں اور پورا واقعہ کہہ سنایا، امیرالمومنین اس کے جواب میں ”کفیت“ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں، اور دوسرے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں، عیسائی تاجر اس ایک لفظ سے مطمئن نہ ہوا۔ اورخود اسی کا بیان ہے کہ میں مکہ سے مایوس یہ ارادہ کرکے لوٹ رہا تھا کہ زیادؓ کے مطالبہ کو قبول کر لوں گا، اور محصول ادا کرکے مال چھڑا لوں گا، لیکن جب میں فرات کی اس چوکی پر پہنچا تو اس خبر سے میں حیرت میں پڑ گیا کہ "کتاب عمر قد سبق الیہ" کہ زیاد ابن حدیرؓ کے پاس اس کے پہنچنے سے پہلے ہی فرمان آ چکا ہے۔ اس فرمان میں لکھا گیا تھاکہ جب تم نے ایک مرتبہ محصول وصول کر لیا ہے تو اب دوبارہ محصول لینے کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے۔ عیسائی سوداگر کا بیان ہے کہ اس خبر نے مجھے بے چین کر دیا اور اسی وقت اس نے زیاد ؓ کو مخاطب کرکے اعلان کیا "انی اشہد اللہ انی بری من النصرانیۃ وانی علی دین الرجل الذی کتب الیک ہذا الکتاب"۔ میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں عیسائی مذہب سے کنارہ کش ہوتا ہوں اور اب اس شخص کے دین پر ہوں جس نے تمہارے نام سے یہ خط لکھا ہے۔ یہ اس عظیم حکمراں اوروسیع رقبہ پر حکمرانی کرنے والے خلیفہ کی طاقت تھی جس نے دور بیٹھ کر ایک عیسائی کو نقصان سے بچا لیا اور اس کا نتیجہ جو ہونا چاہئے تھا وہ ظاہر ہوا۔  (نقوش گیلانی ص/ ۳۸)


                                           جاری۔۔۔۔۔

ٹیلیگرام چینل۔


https://t.me/sensitivestudy

واٹس ایپ۔

https://chat.whatsapp.com/GxbTLUt3AXb2B6QLrk2ba7

سینسیٹیو اسٹڈی فیس بک پیج۔

https://m.facebook.com/Sensitivestudy-102187811602183/

رابطہ لنک۔

https://wa.link/fm2uas