اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *زمیں نالاں ہے اپنا ماہ پارہ کھودیا ہم نے* محمد سلمان قاسمی بلرامپور ۔۔✍🏼

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 13 September 2020

*زمیں نالاں ہے اپنا ماہ پارہ کھودیا ہم نے* محمد سلمان قاسمی بلرامپور ۔۔✍🏼


 *زمیں نالاں ہے اپنا ماہ پارہ کھودیا ہم نے*


محمد سلمان قاسمی  بلرامپور ۔۔✍🏼


 ادارۃالمباحث الفقہیہ کے صدر. امارت شرعیہ ھند کے ناظم.  آل انڈیا جمیعت رویت ہلال کمیٹی کے جنرل سیکریٹری. جمیعت علماء ہند  مجلس عا ملہ کے موقر رکن ۔۔محسن و کرم فرماحضرت اقدس الحاج *مولانامحمد معز الدین صاحب قاسمی طاب اللہ ثراہ* 

آ ج ۔۔بتاریخ تیرہ ۱۳ ستمبر ۲۰۲۰۔۔۔ ۵۹ سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد ہم سب کو بے یارو مددگار چھوڑکر ۔۔۔  قفسِ عنصری سے آزاد ہوکر ۔۔۔اور دنیا کے جھمیلوں سے منہ موڑ کر مالک حقیقی سے جا ملے 

انا لللہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔۔۔؀


عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہیں آستیں نہیں ہے۔۔

زمیں کی رونق چلی گئی ہے افق پہ مہرِ مبیں نہیں ہے

تری جدائی پہ مرنے والے وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے 

مگر تری مرگِ نا گہاں کا مجھے اب تک یقیں نہیں ہے۔۔

مرحوم نے ۱۹۶۲ دتلوپور بلرامپور یوپی ابوالعلماء حضرت  اقدس  الحاج   مولانا عبد الحمید  صاحب مد ظلہ العالی۔۔کے یہاں آنکھ کھولی۔۔

 تعلیمی سلسلہ گہوارۂ مادر اور والد صاحب کی فیضانِ نظر کے بعد 

پشتینی گاؤں مدرسہ فیضان العلوم دتلوپور،   انجمن محمدی اترولہ،  مدرسہ فرقانیہ گونڈہ، پرتاپگڑھ امدادیہ مراد آبا اور جامع العلوم پٹکاپور کے بعد ۔۔ازہر ہند دارالعلوم دیوبند پہونچے۔۔۔۔اور وہیں سے اعلی نمبرات سے ۲۴ سال کی عمر میں سندِ فضیلت حاصل کی ۔۔۔۔۔اور دارالعلوم کے معین مدرس کے عہدے پر بِراجمان کئے گئے۔۔۔۔۔۔

بعد ازاں فدائے ملت  حضرت مولانا اسعد مدنیؒ کے حکم و ایماء پر جمیعت بلڈنگ بہادر شاہ ظفر مارگ آئی ٹی او دہلی تشریف لائے  کچھ دنوں تک  مدرسہ حسین بخش میں اعزازا  پڑھاتے رہے۔۔۔اور تادمِ حیات ۔۔جمیعت کے ایک باوقار عہدے پر منسلک رہے ۔۔۔۔۔۔۔

 نکاح سعد اللہ نگر   بلرامپور میں  ڈاکٹر سعید احمد صاحبؒ کی دخترِ نیک اختر سے ہوئی ۔۔۔۔

 خطبہِ نکاح فدائے ملتؒ نے مسجد چھتہ میں پڑھایا تھا۔۔۔

اور شادی کے ۱۶ سال بعد اولاد ہوئی۔۔۔پسماندگان میں اہلیہ ۔۔۔ایک بیٹی رقیہ اور ابوبکر سلمہما  ہیں ۔۔۔

بھائیوں میں سب سے بڑے اور والدین کے سب سے چہیتے تھے۔۔۔پیار سے لوگ  (بابو) بلاتے تھے۔۔

سارے برادران علومِ نبویہ کی ترویج و اشاعت میں ملک کے الگ الگ مدارس میں مشغول ہیں ۔۔

۱ مفتی وحید االدین صاحب صدر مفتی مدرسہ فلاح دارین ترکیسر گجرات۔۔

۲ مولانا قطب الدین صاحب قاسمی ۔۔استاذ حدیث و فقہ سراج العلوم حشمت پیٹ حیدرآباد 

۳ مفتی اسعد الدین صاحب قاسمی استاذ تفسیر و حدیث و ناظمِ تعلیمات جامعہ محمودیہ جاجمو کانپور۔۔

۴ مفتی اسجد الدین صاحب قاسمی استاذ تفسیر و ادب سراج العلوم حشمت پیٹ حیدرآباد ۔۔۔

اور ایک بھائی مولانا کمال الدین صاحب قاسمیؒ ۔۔۔   ۶ مئی ۱۹۹۹ علی گڑھ میں  ایک ٹرین حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔۔اگر انکی عمر وفا کرتی تو انکی بھی اک شان ہوتی۔۔۔؀

یہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکا 

کھلا ضرور مگر کھل کے مسکرا نہ سکا۔۔۔۔

یہ ہے خاندانی پس منظر ۔۔۔۔۔

مولانا معزالدین صاحب  مرحوم ۔۔۔ کو اللہ رب العزت نے گونا گوں صفات سے نوازا تھا ۔۔۔اکابرین کے معتمد۔۔۔درسِ نظامی کے جملہ فنون پر دستگاہ کامل ۔۔تاریخ و سیر و 

ادب اور فقہی بصیرت میں بے نظیر تھے۔۔۔ مفتی  محمد سلمان منصور پوری صاحب   کی کتاب ,,,, مسلم علماءاور عوام کا کردار,,,, تعارفی اشاریہ آپ نے لگایا تھا۔۔۔۔۔

ادبی ذوق و شوق کمال کا تھا۔۔۔۔کتنے معیاری اشعار آپکے قلم سے نکلے۔۔۔

مجھے یا د پڑتا ہے۔۔کہ ۲۰۱۸ میں راقم اپنے افتاء کے سال میں حضرت سے استفادہ کی غرض سے کئی بار انکے حجرے میں ملاقات ہوئی ۔۔۔واقعی انکا کمرہ کتابوں سے اٹا پڑا ہے۔۔۔

ایک بار باتوں باتوں میں سراجی میں ذکرکردہ سہام و حِصص یوں گنانے لگے جیسے کسی طفلِ مکتب نے حروف تہجی رٹ رکھا ہو۔۔۔  اور مجھے  ڈر ہوا کہ کچھ سوال نہ کر بیٹھیں۔


سالہا باشد کے تا یک سنگ اصلی  زآفتاب 

لعل باشد در بدخشاں یا عقیق اندر یمن۔

 

تعلیم کو مقصد بنانے پر زور دیتے اور وسیلہ معاش کے لئے کاروبار کی اہمیت  افادیت اور طریقہ کار کو سمجھاتے۔۔۔۔

حضرت خود ایک کامیاب تاجر تھے۔۔۔۔

اور جمیعت سے کوئی تنخواہ نہ لیتے۔۔۔۔

جب بھی ملتے جذبات کو بر انگیختہ اور افکار کو عروج بخش کر ذہن و دماغ کو موٹیویٹ کردیتے۔۔۔۔۔

سادہ مزاجی  ۔ ایثار۔  ہٹو بچو سے بہت دور گوشہ نشین رہتے ہوئے بھی ملک و ملت پر دقیق نظر  ۔۔۔جو بھی ملتا۔۔گرویدہ اور متاثر ہو ئے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔

اللہ رے چشم یار کی ...معجز نمائیاں 

ہر شخص کو گمان ہے کہ مخاطب ہمیں رہے۔


کچھ نِجی مشوروں اور تجاویز سے سے بھی فیضیاب کیا جسکا خا طر خواہ  فائدہ  راقم کو نظر آرہا  ہے۔۔۔۔

آتی ہی رہیگی تیرے انفاس کی خوشبو 

گلشن تری یادوں کا مہکتا ہی رہیگا۔۔۔

اللہ تعالی حضرت کے درجات بلند فرمائے  اعلی علین میں جگہ عنایت فرمائے پسماندگان اور تمام محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔۔۔آمین ۔۔۔؀

 زمیں نالاں ہے اپنا ماہ پارہ کھودیا ہم نے 

فلک روتا ہے اک روشن ستارہ کھو دیا ہم نے

چراغِ دین و دانش بجھ گیا ہندی مسلماں کا

اندھیرا چھا گیا ہر سو منارہ کھو دیا ہم نے۔

نظر جسکی عقابی تھی ارادہ تھا ہمالہ سا  

وہ اک بندہ نہیں جامع ادارہ کھو دیا ہم نے

سنائے گا ہمیں اب کون پھر ماضی کے افسانے

پیامِ حق کا تاریخی شمارہ کھودیا ہم نے۔

مسلمانوں میں اب جینے کا ہنر اب کون بانٹے گا۔

جہادِ زیست کا اک استعارہ کھو دیا ہم نے

ادھر آ بلبل صد داستاں :اور سینہ کوبی کر۔

کہ تیری ہی طرح امید و چارہ کھو دیا ہم نے 

بڑی مشکل سے آغوشِ صدف نے جسکو پالا تھا

اچانک وہ صدف کا گوشوارہ کھودیا ہم نے۔۔