اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: ے شری رام نہ بولنے پر انتہاء پسندوں نے محمد آفتاب کو جان سے مار دیا ۔ لفٹ مانگ کر گاری میں بیٹھے تھے یہ حملہ آور

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 8 September 2020

ے شری رام نہ بولنے پر انتہاء پسندوں نے محمد آفتاب کو جان سے مار دیا ۔ لفٹ مانگ کر گاری میں بیٹھے تھے یہ حملہ آور


 

ے شری رام نہ بولنے پر انتہاء پسندوں نے محمد آفتاب کو جان سے مار دیا ۔ لفٹ مانگ کر گاری میں بیٹھے تھے یہ حملہ آور

نئی دہلی: دن دہاڑے قتل اور ماب لنچنگ کا ایک اور معاملہ دہلی این سی آر میں پیش آیاہے ۔محمد آفتاب 6ستمبر اتوار کو گڑگاﺅں سے بلند شہر اپنی گاڑی سے ایک کلائنٹ کو لیکر گئے ۔ واپسی میں کچھ لوگوں نے لفٹ مانگا اور کہاکہ آگے چھوڑ دو ۔ یہ لوگ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے ۔مسلمانوں کے خلاف بولنے لگے ۔ محمد آفتا ب کو شک ہوا اور لگا کہ یہ لوگ صحیح نہیں ہیں ۔ انہوں نے فورا اپنے بیٹے کو فون لگادیا اور موبائل کالنگ پر رکھ چھوڑ دیا ۔ بیٹے صابر کو گاڑی میں بیٹھے لوگوں کی پوری آواز سنائی دے رہی تھی ۔ پانچ منٹ تک مسلمانوں کے خلاف الٹا سیدھے بولنے کے بعد گاڑی میں بیٹھے دو شخص نے محمد آفتا ب سے کہا بو لو جے شری رام ۔ جے شری رام بولو ۔ آفتا ب نے بولنے سے انکار کردیا ۔لو شراب پیو ۔ آفتا ب نے اسے بھی پینے سے انکار کردیا ۔ یہ سب باتیں آفتاب کے بیٹے صابر آفتا ب سن رہے تھے اور آڈیو بھی ریکاڈ ہورہی تھی ۔ اس کے بعد گاڑی میں بیٹھے دہشت گردوں نے آفتا ب کو مارنا شروع کردیا ۔ موبائل آن تھا اور یہ آواز آفتا ب کو سنائی دے رہی تھی ۔ کچھ دیر بعد فون کٹ گیا ۔ آفتا ب میور وہار تھانہ میں جاکر شکایت درج کرائی ۔ پولس نے لاسٹ لوکیشن کا پتہ لگایا ۔ چتارہ نام کی جگہ آخری لوکیشن تھے وہاں پر یہ لوگ گئے فورا ۔ جانے کے بعد گاڑی کی تلاش کی گئی اور بادل پور تھانے چار کیلو میٹر آگے گاڑی کھڑی مل گئی ۔ وہاں دوپولس اہلکار بھی موجود تھے ۔ صابر نے پوچھا کہ میرے والد کہاں ہیں ۔ پولس نے کہاکہ آپ کو ہسپتال جانا ہوگا ۔ ہسپتال جانے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے والد کی موت ہوچکی ہے ۔ ملت ٹائمز کو یہ جانکاری براہ راست مرحوم آفتاب کے بیٹے محمد صابر آفتاب نے دی ہے ۔

پولس اس واقعہ کو معمولی لڑائی کا و اقعہ بتارہی ہے جبکہ یہ سنگین جرم ہے ۔ صابر کا مطالبہ ہے کہ اسے ماب لنچنگ کا کیس بنایاجائے اور میر ے والد کو انصاف دیاجائے ۔ سچائی یہی ہے کہ یہ ماب لنچنگ کا کیس ہے ۔شام چھ بجے مرحوم آفتاب کی تدفین عمل میں آچکی ہے

(بشکریہ ملت ٹائمز)