اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: سونیا وہار دہلی کی مسجد منہدم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے: مولانا محمود مدنی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 10 June 2017

سونیا وہار دہلی کی مسجد منہدم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے: مولانا محمود مدنی



رپورٹ: شہاب الدین
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
نئی دہلی(آئی این اے نیوز 10/جون 2017)جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے سونیا وہار میں مسجد منہدم کرنے کے سانحے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور سرکار و انتظامیہ سے فسادیوں کے خلاف سخت کارروائی اور امن و امان کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے.
واضح ہو کہ سونیا وہار تھانے میں واقع چوہان پٹی امبے انکلیو میں گزشتہ 7/جون کو مقامی ہندو شرپسندو ں نے زیر تعمیر زکریا مسجد کی دیوار منہدم کردیا تھا، جس کے بعد مسلم اقلیت میں مایوسی اور خوف کا عالم ہے، مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ کا وفد کئی نشستوں میں حالات کا جائزہ لے چکا ہے، نیز وفد نے مسجد کے مقامی ذمہ داران خاص طور سے محمد اکبر اور امام مولانا قطب الزماں وغیرہ سے ملاقات کرکے ضروری کاغذات کا بھی معائنہ کیا ہے، کل دیر تک حاجی عبدالسمیع سلمانی کے گھر پر مسجد کے مقامی ذمہ داروں سے میٹنگ ہوئی، جہاں مولانا جاوید قاسمی ناظم اعلی جمعیۃ علماء دہلی، مولانا عبدالسبحان اور مولانا ضیاء اللہ قاسمی وغیرہ موجود تھے، اس کے علاوہ مولانا عابد قاسمی صدر جمعیۃ  علماء دہلی نے بھی متاثرہ علاقہ کا دورہ کیا ۔
آج صبح مذکورہ مسجد کے ذمہ داروں کا وفد جمعیۃ علماء ہند کا مرکزی دفتر پہنچا اور مولانا محمود مدنی کے نام ایک مکتوب پیش کیا جس میں ان سے گزارش کی گئی ہے کہ مقامی مسلمانوں کے جان ومال کی حفاظت اور اسی جگہ دوبارہ مسجد کی تعمیر نو کے لیے جمعیۃ کی جانب سے قانونی و دیگر ضروری اقدامات کیے جائیں.
محمد اکبر جنہوں نے سونیا وہار کے مسلمانوں کی پریشانی کو دیکھ کر اپنا پلاٹ مسجد کے نام کردیا تھا، انھوں نے بتایا کہ امبے انکلیو میں مسلمانوں کے ساٹھ سے ستر مکانات ہیں، اس کے باوجود وہاں کوئی مسجد نہیں تھی، ہم نے رمضان المبارک میں ہونے والی دشواری کے مدنظر یہ زمین دے دیا تھا، جہاں ایلبیسٹر ڈال کر نماز و تراویح پابندی سے ہورہی تھی، لیکن 7/جون کو شرپسندوں نے دھاوا بول کر مسجد کی دیواروں کو منہدم کردیا.
محمد اکبر نے بتایا کہ گزشتہ 28/مئی کو پردیب سنگھ نامی ایک شخص نے وہائٹس ایپ اور دیوار پمفلٹ کے ذریعے مسجد کو منہدم کرنے کی اپیل کی تھی، جس کی اطلاع بھی ہم نے پولس کو دی تھی، مگر پولس نے نامزد اطلاع کے باجود کوئی کارروائی نہیں کی، محمد اکبر نے بتایا کہ 7/جون کو ہوئے حادثہ کے بعد ہم نے ایف آئی آر درج کرائی، مگر آج تک فسادیوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی ہے، الٹے فسادی عناصر نے ہمیں نماز سے روک رکھا ہے، وہ شراب پی کر کھلے عام ہمارے محلوں میں گھوم رہے ہیں اور ہمیں جان سے مارنے اور ہمارے گھروں کو جلانے کی دھمکی دے رہے ہیں، جب کہ وہ زمین ہماری ہے، ہم نے آج سے چار سال قبل 26/لاکھ روپے میں خریدی تھی، ہم وہاں نماز پڑھتے تھے، ہم نے تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا، پھر نہ جانے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا؟
محمد اکبر نے کہا کہ آج تین دن ہوگئے خدا بہتر جانتا ہے کہ ہمارے محلے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے، نہ کوئی سوتا ہے اور نہ کوئی سحری اور افطاری ہے، ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں مگر مقامی پولس الٹے ہمیں ہی دبانے کی کوشش کررہی ہے، ان حالات میں بھی ہمیں امید ہے کہ انصاف ملے گا، ہم امن اور انصاف چاہتے ہیں، ہم اتنا چاہتے ہیں کہ ہمیں ہماری مسجد مل جائے اور ہمیں امن سے جینے دیا جائے۔
مسجد کے ذمہ داروں میں محمد اکبر، مولانا قطب الزمان ، تمنے بھائی، وکیل جوہری، مولانا منظر موجود تھے، جب کہ جمعیة کی طرف سے ایڈوکیٹ نوراللہ ، مولانا ضیاء اللہ قاسمی، قاری محمد عارف، مولانا یٰسین قاسمی، عظیم اللہ صدیقی قاسمی وغیرہ موجود رہے ۔