رپورٹ: سمیر چودھری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوبند(آئی این اے نیوز 11/اکتوبر2017) دیوبند کے مینا بازار میں دکان کے سامنے بائک کھڑی کرنے کو لے کر ہوئی کہا سنی کے بعد الگ الگ فرقوں کے دو فریق میں مارپیٹ ہو گئی، جس میں نصف افراد زخمی ہو گئے، واقعہ کے بعد افراتفری میں بازار بند ہو گیا، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں پولیس فورس موقع پر پہنچی اور حالات کنٹرول کئے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے بھی دیوبند پہنچ کر ایک فریق سے تنازعہ کی تفصیلات لی، مینار بازار میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے، شہر کے مینا بازار چوک پر واقع عامل کی چاند گارمنٹس کے نام سے دکان ہے، گزشتہ دن دوپہر رکن اسمبلی کنور برجیش کے گاؤں جڑودہ کے تین نوجوان دکان کے سامنے اپنی ایکٹیوا اسکوٹر کھڑی کرنے لگے، جس پر دکان کے مالک کے بیٹے سلمان نے اعتراض کرتے ہوئے انہیں دکان کے سامنے اسکوٹر کھڑا کرنے سے منع کیا، اس بات کو لیکر دو نوں فریق میں کہا سنی اور گالی گلوچ کے بعد مارپیٹ ہوگئی، جس میں دونوں فریق کے عامل، سلمان، دانش، عباس، دوسرے فریق کے کلدیپ اور اوم کمار زخمی ہو گئے، مارپیٹ کی وجہ سے بازار میں افراتفری مچ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مینا بازار کی دکانوں کے شٹر دھڑا دھڑ بند ہونے لگے، دو الگ الگ فرقے کے لوگوں کے درمیان ہوئی مارپیٹ کی واقعہ کی اطلاع جیسے ہی پولیس کو ملی تو افسران موقع کی طرف دوڑ پڑے، ایس ڈی ایم رام ولاس یادو، سی او سدارتھ سنگھ، انچارج انسپکٹر پنکج کمار تیاگی بھاری پولیس فورس کے ساتھ پہنچے اور حالات کو کنٹرول میں کیا۔ واقعہ کے بعد ایک طرف جہاں تاجر طبقہ کوتوالی پہنچ گیا وہیں دوسرے فریق کے افراد نے ڈاک بنگلہ پہنچ کر واقعہ کے بارے میں بی جے پی کے رکن اسمبلی کو مطلع کیا۔
دکان کے مالک عامل فریق کے لوگوں کا الزام تھا کہ جب اس نے نوجوانوں کو اپنی دکان کے سامنے اسکوٹر کھڑا کرنے سے منع کیا تو ان میں سے ایک نوجوان نے اپنے آپ کو ممبر اسمبلی کا بھتیجا بتاتے ہوئے مارپیٹ شروع کر دی، اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے کچھ دیر بعد مزید نصف درجن نوجوانوں کو بلاکر دکان میں رکھا سامان باہر پھینکا شروع کردیا اور توڑ پھوڑ کے ساتھ ہی معاملہ کو رفع دفع کرانے آئے پڑوسی دکاندار دانش کو بھی مارپیٹ کر زخمی کر دیا، جبکہ دوسرے فریق کے لوگ کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ بلا وجہ گالی گلوچ کی گئی، واقعہ کے بعد ایک مرتبہ پھر شہر میں سیاسی اور فرقہ وارانہ فضا گرم ہوگئی اور نیتاؤں کا جماوڑہ شروع ہوگیا، بی جے پی رکن اسمبلی کے علاوہ شام کو بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ راگھو لکھن پال شرما دیوبند پہنچے اور ڈاک بنگلہ پر ایک فریق سے تنازعہ کے بابت معلومات حاصل کی، وہیں کوتوالی میں فریق اول کی قیادت کرنے آئے سابق چیئرمین ضیاء الدین انصاری اور چیئرمینی کے دعویدار سلیم قریشی کے مابین ہی تناتنی ہوگئی۔ معاملہ الگ الگ فرقے کا ہونے کی وجہ سے پولیس محکمہ بھی پوری طرح الرٹ ہوگیا اور کشیدگی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات کردی گئی اور شہر کے بازاروں میں پولیس گشت شہر بڑھا دیاگیا۔ انچارج انسپکٹر پنکج تیاگی کا کہنا ہے کہ دونوں فریق کی جانب سے تحریر مل چکی ہے، تحقیقات کے بعد ضروری کارروائی کی جائے گی.
ایس ڈی ایم رام ولاس یادو نے کہاکہ موٹر سائیکل کھڑی کرنے کو لیکر دونوں فریق کے درمیان تنازعہ ہوا ہے، معاملے کو لیکر شہر میں کوئی کشیدگی نہیں ہے، کسی بھی صورت میں شہر کے ماحول کو خراب نہیں ہونے دیا جائے گا، احتیاط کے مدنظر میں بازار میں پولیس گشت بڑھا دیا گیا ہے۔