رپورٹ: یاسین صدیقی قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نئی دہلی(آئی این اے نیوز 11/اکتوبر 2017) مختلف ذرائع سے معلوم ہوا کہ حکومت ہند سفر حج کی نئی پالیسی تیار کی ہے جس میں کہا گیا کہ 45 سال سے متجاوز عمر کی خواتین بغیر محرم کے سفر حج کرسکتی ہیں، جو شریعت مطہرہ میں مداخلت ہے، جسے مسلمان کبھی برداشت نہیں کرسکتا ہے، اور یہ سب کام سوچی، سمجھی سازش کے تحت کئے جارہے ہیں، تاکہ مسلمان اپنے دین ومذہب سے دور ہوجائیں، مذکورہ خیالات کا اظہار محمد اسحاق حقی قاسمی صاحب مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم کریمیہ نئی دہلی نے کیا.
مولانا حقی نے کہا کہ موجودہ حکومت لکھنو کی بھول بھلیاں میں گشت لگارہی ہے، انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ مسلمان اپنی تمام چیزیں دین پر قربان کرسکتا ہے یہاں تک کہ اپنی جان بھی قربان کر دے گا مگر شریعت مطہرہ میں مداخلت رائے دانہ کے برابر بھی برداشت نہیں کرسکتا ہے، اگر آپ کو ہماری قربانی دیکھنی ہے تو ہمارے آباء و اجداد کے کتب سیر کا مطالعہ کرو، فرقہ پرست قوت اسلام کو مٹانے کے لئے لاکھ جدوجہد کرلیں، اس سے اسلام پر کوئی فرق نہیں آئے گا، بلکہ اسلام ہمارے ملک عزیز میں ان شاء اللہ مزید مضبوط اور مستحکم ہوگا کیونکہ:
ـــــــــــعــــــــــ
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
جتنا بھی دباؤ گے اتنا ہی یہ ابھرے گا
اس لئے حکومت سے درخواست کرونگا کہ سفر حج کی نئی پالیسی رد کریں اور شریعت کے مطابق سفرحج کا نیا مسودہ تیار کریں، عصبیت کا عینک اتار کر پھینک دیں اور صحیح فیصلہ لیں، شریعت میں مداخلت کر کے کسی مسلمان کا دل نہ دکھائیں، اللہ تعالی ظلم برداشت نہیں کرتا ہے، اللہ رب العزت صحیح سمجھ عطاء کرے اور حکومت کو شریعت مطہرہ کے مطابق عمل پیرا بنائے. آمیـــــن