رپورٹ: ایڈیٹر انچیف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لونی/غازی آباد(آئی این اے نیوز 10/اکتوبر 2017) حکومت ہند کی جانب سے نئی حج پالیسی 2018 کیلئےجو سفارشات پیش کی گئی ہیں وہ قابل مذمت ہے.
واضح ہو کہ گذشتہ دنوں حکومت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ عورتیں بلا محرم سفر حج کرسکتی ہیں جو کہ شریعت مطہرہ کی رو سے سراسر غلط ہے مذکورہ خیالات کا اظہار لونی کے نوجوان عالم و جامعہ منبع العلوم پوجاکالونی کے ناظم تعلیمات یاسین صدیقی قاسمی نے کیا.
مولانا قاسمی نے کہا کہ شرعی اصولوں کی روشنی میں خواتین اپنے خونی رشتہ والے محرم کے ساتھ ہی حج کرسکتی ہیں، وزارات حج یا مرکزی حج کمیٹی کے ذمہ داران کو نئی حج پالیسی وضع کرنے سے پہلے علماء کرام سے مشورہ لینا چاہیئے تھا تاکہ نئے پالیسی کے تحت شرعی اصولوں کی پامالی نہ ہو، نیز مولانا نے کہاکہ حج دنیا کو دکھانے کیلئے نہیں بلکہ اسلام کے ایک اہم امور کی انجام دہی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کیا جاتا ہے اسلئے حکومت کا یہ اقدام قابل مذمت ہے.
مولانا قاسمی نے اس بات پر زور دیا کہ شرعی معاملات خواہ کسی بھی شعبہ سے ہو ہر گز ترمیم نہیں کی جاسکتی، ہمارا حکومت ہند سے یہی مطالبہ ہیکہ اس پر نظر ثانی کریں اور شرعی معاملات میں مداخلت نہ کریں.