رپورٹ: حافظ محمد ذاکر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مین پوری (آئی این اے نیوز 20/اکتوبر 2017) نگر پنچایت بھوگاؤں کی صدارت کے لئے امیدواروں کی طویل فہرست ہو چکی ہے، سب کے ناموں کا خیال رکھنا پانا بہت مشکل کام ہے، آزادی ہند کے بعد سے پہلی مرتبہ دلت سماج کے لئے مخصوص ہوئی اس سیٹ پر دلت سماج کے زمرے میں آنے والی برادریوں میں سے ہر ایک برادری میں سے کم سے کم 3 سے 5 لوگ انتخابی میدان میں قسمت آزمائی کے لئے تیار ہیں، ابھی تک شوسل میڈیا پر اپنے بینر، پوسٹر، معہ فوٹو کے ساتھ 39 لوگ انتخابی میدان میں آچکے ہیں، اور مزید امیدواروں کے آنے کی امیدیں ہیں، جبکہ بھوگاؤں نگر پنچایت کی کل رائے دہندگان کی آبادی محض 30 ہزار قریب ہے، ہر امیدوار کامیابی کا پرچم لہرانے کے لئے ہی انتخابی میدان میں قسمت آزمائی کرتا ہے، مگر اتنی طویل فہرست کو دیکھ کر یہ محسوس ہورہا ہے کہ ان امیدواروں میں کچھ اپنے نام کی تشہیر چاہتے ہیں، تو کوئی امیدوار کسی امیدوار کی کامیابی میں رخنہ اندازی کے لئے انتخابی میدان میں اترا ہے، کچھ ایسا ہی حال نگر پنچایت بھوگاؤں کا ہے، بھوگاؤں نگر پنچایت دلت سماج کے لئے مخصوص ہونے کے بعد مسلم ووٹ کو فیصلہ کن تصور کیا جارہا تھا ،مگر اب ایسا نہیں ہے ،کیونکہ مسلم سماج کا ووٹ مختلف رائے ہو گیا ،ایک طرف مسلم طبقہ محلہ محمد سعید کے چھیدا لال ورما کو اپنی حمایت کا اعلان کر رہا ہے ،(واضح رہے چھیدا لال ورما اس قبل نگر پنچایت کے نائب چیئرمین رہ چکے ہیں) تو کچھ نوجوان گہار کالونی کے پرتھوی راج گہار کے لئے ووٹ مانگتے نظر آرہے ہیں،اسی کے ساتھ ساتھ دلت سماج سے مدن کمار کو بھی مسلم سماج کی جانب سے حمایت کا اعلان ہورہا ہے.
واضح رہے ابھی تک کسی سیاسی (سپا،بسپا،بھاجپا) پارٹی نے کسی بھی امیدوار کے لئے اپنا چناوی نشان یا حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے ،جبکہ بھارتی جنتا پارٹی سے ٹکٹ اور حمایت حاصل کر نے لئے ، نگیندرسنگھ بھارتی، کروڑی لال ورما، رام پرساد بالمیک مضبوط دعویدار سمجھے جارہے ہیں، اسی طرح سماجوادی پارٹی سے ،چھیدا لال ورما ، شیام سنگھ کٹھیریا ،راجیش کھٹیک ہیں،بسپا پارٹی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ، یہ خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ سپا ،بھاجپا،امیدواروں کو دعائیں(حمایت) تو دے گی مگر اپنا انتخابی نشان نہیں دے گی، اگر مذکورہ پارٹیوں نے اپنے اپنے امیدوار انتخابی میدان میں اتارے تو پھر یہ نگر پنچایت کا چناؤ ہندو مسلم کی شکل اختیار کرسکتا ہے ،بہر حال موجودہ حالات میں چھیدا لال ورما مضبوط امیداوار اس صورت میں نظر آرہے ہیں کہ مسلم اکثریت کی حمایت ان کو حاصل ہو رہی ہے.