رپورٹ: ابوالفیض خلیلی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور،اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 14/دسمبر 2017) نگر پالیکا مبارکپور کی نو منتخب چیئرپرسن حجن کریم النساء نے نگر پالیکا پہنچ کر اپنے عہدے کا چا رج لیتے ہوئے سبھی دفتروں کا معائنہ بھی کیا اور پالیکا میں پھیلی ہوئی بد انتظامی اور گندگی کو دیکھ کر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ملازمین کو انتباہ دیا کہ
نگر پالیکا کا اقتدار بدل گیا ہے اس لئے اب تم لوگ بھی بدل جاؤ نہیں تو پھر تمہیں بدل کر دوسروں کو لانا پڑے گیا، اپنی کرسی پر براجمان ہوتے ہی تین درخواستیں ان کے سامنے پیش کی گئیں جس میں ایک درخواست تو محلہ حیدرآباد واقع پانی کی ٹنکی سے متعلق تھی ،جس میں شکایت کی گئی تھی کہ اس ٹنکی کے ذریعہ حلقہ کے لوگوں کو پانی کی فراہمی زیادہ دنوں سے نہیں ہو پا رہی ہے اور بار بار شکا یت کے باوجود بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی، دو سری درخواست وا رڈ نمبر 22 کے کو نسلر عرفان احمد کی تھی اور اس میں بھی پانی کی ناقص سپلائی اور پانی کی گندگی کی ہی شکایت کی گئی تھی، اور تیسری درخواست وارڈ نمبر 21 کے کونسلر غلام رسول سامانی کی تھی اور اس میں بھی پانی کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ علاقہ میں پانی کی جو منی ٹنکی نصب ہے اس سے جو پانی سپلائی ہوتا ہے اس میں کیڑے کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں جس کی شکایت بار بار کر نے کے با وجود بھی ذمہ داروں کے کان پر جوں نہیں رینگی، ان تینوں شکایات کو سننے کے بعد چیئرپرسن کے نمائندے حاجی عبد المجید انصاری نے ملازمین کو سخت ہدا یت دی کہ پا نی، بجلی اور صفائی کا مسئلہ فوراً حل کیا جا ئے کیونکہ یہ انسانی زندگی کے بنیادی مسائل ہیں اگر انہیں ہی درست نہیں کیا جائے گا تو پھر مبارکپور کی ترقی کا کیا مطلب ہے ۔بعد میں چیئرپرسن کی ہدا یت پر حاجی عبد المجید انصاری نے پالیکا میں قائم سبھی سیکشن کا معائنہ کیا اور ملازمین کو اپنی پوری ڈیوٹی نبھاتے ہوئے ذمہ داریاں بھی وقت پر پوری کرنے کی ہدایت دی.
بعدہ جب وہ پالیکا کی بالائی منزل پر واقع میٹنگ ہال میں گئے تو وہاں گندگی اور ملبے کا انبار دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے کہ جب پالیکا کے اندر ہی اتنی گندگی رہے گی تو پھر باہر صفائی کیسے ہو پا ئے گی، لوگوں کی مانگ پر جب انہوں نے کمپیوٹر کو چنگ سینٹر کا معائنہ کرنے کا ارادہ کیا تو سینٹر کا دروازہ بند ملا اور جب ملازمین سے چابھی لانے کے لئے کہا گیا تو سب نے یہی کہا کہ چابھی ہمارے پاس نہیں ہے، مجبوراً ٹیبل کے ذریعہ کو چنگ سینٹر پر سر سری نظر ڈالی گئی تو اس میں ایک درجن سے زائد کمپیوٹر خستہ حالت میں بکھرے پڑے تھے اور اس میں گندگی کا یہ عالم تھا کہ پاؤں رکھنا بھی مشکل تھا، شاید اس کی اسی نا گفتہ حالت کی بنا پر جابھی سے لا علمی کا اظہار کیا گیا.
اس موقع پر حاجی عبد المجید انصاری نے کہا کہ پالیکا کی ایگزیکٹیو افسر پرتبھا سنگھ لکھنٔو گئی ہوئی ہیں جب وہ واپس آئیں گی تو چابھی ڈھوندھنے کی کوشش کی جائے گی اگر نہیں ملی تو تالا توڑ کر نیا تالا لگایا جا ئے گا.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور،اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 14/دسمبر 2017) نگر پالیکا مبارکپور کی نو منتخب چیئرپرسن حجن کریم النساء نے نگر پالیکا پہنچ کر اپنے عہدے کا چا رج لیتے ہوئے سبھی دفتروں کا معائنہ بھی کیا اور پالیکا میں پھیلی ہوئی بد انتظامی اور گندگی کو دیکھ کر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ملازمین کو انتباہ دیا کہ
نگر پالیکا کا اقتدار بدل گیا ہے اس لئے اب تم لوگ بھی بدل جاؤ نہیں تو پھر تمہیں بدل کر دوسروں کو لانا پڑے گیا، اپنی کرسی پر براجمان ہوتے ہی تین درخواستیں ان کے سامنے پیش کی گئیں جس میں ایک درخواست تو محلہ حیدرآباد واقع پانی کی ٹنکی سے متعلق تھی ،جس میں شکایت کی گئی تھی کہ اس ٹنکی کے ذریعہ حلقہ کے لوگوں کو پانی کی فراہمی زیادہ دنوں سے نہیں ہو پا رہی ہے اور بار بار شکا یت کے باوجود بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی، دو سری درخواست وا رڈ نمبر 22 کے کو نسلر عرفان احمد کی تھی اور اس میں بھی پانی کی ناقص سپلائی اور پانی کی گندگی کی ہی شکایت کی گئی تھی، اور تیسری درخواست وارڈ نمبر 21 کے کونسلر غلام رسول سامانی کی تھی اور اس میں بھی پانی کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ علاقہ میں پانی کی جو منی ٹنکی نصب ہے اس سے جو پانی سپلائی ہوتا ہے اس میں کیڑے کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں جس کی شکایت بار بار کر نے کے با وجود بھی ذمہ داروں کے کان پر جوں نہیں رینگی، ان تینوں شکایات کو سننے کے بعد چیئرپرسن کے نمائندے حاجی عبد المجید انصاری نے ملازمین کو سخت ہدا یت دی کہ پا نی، بجلی اور صفائی کا مسئلہ فوراً حل کیا جا ئے کیونکہ یہ انسانی زندگی کے بنیادی مسائل ہیں اگر انہیں ہی درست نہیں کیا جائے گا تو پھر مبارکپور کی ترقی کا کیا مطلب ہے ۔بعد میں چیئرپرسن کی ہدا یت پر حاجی عبد المجید انصاری نے پالیکا میں قائم سبھی سیکشن کا معائنہ کیا اور ملازمین کو اپنی پوری ڈیوٹی نبھاتے ہوئے ذمہ داریاں بھی وقت پر پوری کرنے کی ہدایت دی.
بعدہ جب وہ پالیکا کی بالائی منزل پر واقع میٹنگ ہال میں گئے تو وہاں گندگی اور ملبے کا انبار دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے کہ جب پالیکا کے اندر ہی اتنی گندگی رہے گی تو پھر باہر صفائی کیسے ہو پا ئے گی، لوگوں کی مانگ پر جب انہوں نے کمپیوٹر کو چنگ سینٹر کا معائنہ کرنے کا ارادہ کیا تو سینٹر کا دروازہ بند ملا اور جب ملازمین سے چابھی لانے کے لئے کہا گیا تو سب نے یہی کہا کہ چابھی ہمارے پاس نہیں ہے، مجبوراً ٹیبل کے ذریعہ کو چنگ سینٹر پر سر سری نظر ڈالی گئی تو اس میں ایک درجن سے زائد کمپیوٹر خستہ حالت میں بکھرے پڑے تھے اور اس میں گندگی کا یہ عالم تھا کہ پاؤں رکھنا بھی مشکل تھا، شاید اس کی اسی نا گفتہ حالت کی بنا پر جابھی سے لا علمی کا اظہار کیا گیا.
اس موقع پر حاجی عبد المجید انصاری نے کہا کہ پالیکا کی ایگزیکٹیو افسر پرتبھا سنگھ لکھنٔو گئی ہوئی ہیں جب وہ واپس آئیں گی تو چابھی ڈھوندھنے کی کوشش کی جائے گی اگر نہیں ملی تو تالا توڑ کر نیا تالا لگایا جا ئے گا.
