رپورٹ: یاسین صدیقی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دہلی(آئی این اے نیوز 7/دسمبر 2017) مرکزی حکومت میں بی جے پی کے آنے کے بعد بھیڑ کے ذریعہ ٹرینوں میں مارپیٹ کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ میں درجنوں افراد بھیڑ کے ذریعہ اپنی جان گنوا دیئے ہیں، ابھی بھی یہ سلسلہ بند نہیں ہوا، ایسا ہی کچھ گزشتہ 6/دسمبر کو دہلی آنند وہار سے وکرم شیلہ اکسپریس 12368چلی تھی بھاگلپور کیلئے بوگی نمبر s10 میں دو مولانا (مولانا طاہر، مولانا یاسین صدیقی) سوار تھے.
شرپسندوں نے مولانا کے ساتھ بدسلوکی اور دھمکی آمیز لہجہ اور گالی گلوج کیا، بوگی کے تمام لوگ تماشہ بنے رہے صرف ایک نوجوان لڑکا مکیش آگے آیا اور اس نے ہمت کرکے چھڑانے کی کوشش کی، لیکن اسکو بھی تھپڑ رسید کردیا گیا پھر مولانا یاسین صدیقی نے جی آر پی پولیس کو فون کیا اور جی آر پی پولیس نے مولانا سے کچھ تفصیلات لی اور چلے گئے بھاگلپور پہونچنے کے بعد آگے کی کاروائی کی جائے گی.
مولانا یاسین صدیقی نے بتایا کہ دہلی کے آنند وہار سے بھاگلپور جانے والی ٹرین وکرم شیلا ایکسپریس میں آج 7/ دسمبر کو تقریباً تین بجے بڑھیا بہار اسٹیشن پر کچھ شرپسندوں نے مولانا طاہر صاحب پر حملہ کردیا، جس سے مولانا کو کافی چوٹیں آئی ہیں.
موقع واردات پر موجود مولانا محمد یاسین سے فون پر ہوئی گفتگو کے مطابق پہلے کچھ شرپسند عناصر بڑی تعداد میں ہمارے سلیپر بوگی میں گھسے اور ہمارے اسلامی شناخت کو دیکھ کر پہلے گندی گندی گالیاں دیں، جس پر ہم لوگوں نے صبر و ضبط سے کام لیا، ہماری طرف سے کچھ رد عمل نہ دیکھ کر نیچے سیٹ پر بیٹھے مولانا طاہر پر اچانک حملہ کردیا اور لات گھونسے برسانے لگے، جس پر وہاں موجود دیگر مسافروں نے مولانا کو بچانے کی کوشش بھی کی تاہم مولانا کو کافی چوٹیں آئی ہیں، ایسے حالات میں سرکار سے یہ اپیل ہے کہ ریلوے میں مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانا اس کی ذمہ داری ہے اور ایسے حادثات پر کنٹرول کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرنا اس کے فرائض کا حصہ ہے.
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دہلی(آئی این اے نیوز 7/دسمبر 2017) مرکزی حکومت میں بی جے پی کے آنے کے بعد بھیڑ کے ذریعہ ٹرینوں میں مارپیٹ کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ میں درجنوں افراد بھیڑ کے ذریعہ اپنی جان گنوا دیئے ہیں، ابھی بھی یہ سلسلہ بند نہیں ہوا، ایسا ہی کچھ گزشتہ 6/دسمبر کو دہلی آنند وہار سے وکرم شیلہ اکسپریس 12368چلی تھی بھاگلپور کیلئے بوگی نمبر s10 میں دو مولانا (مولانا طاہر، مولانا یاسین صدیقی) سوار تھے.
| زیر نظر ویڈیو میں مولانا پر شرپسندوں کے حملے کو دیکھا جاسکتا ہے |
مولانا یاسین صدیقی نے بتایا کہ دہلی کے آنند وہار سے بھاگلپور جانے والی ٹرین وکرم شیلا ایکسپریس میں آج 7/ دسمبر کو تقریباً تین بجے بڑھیا بہار اسٹیشن پر کچھ شرپسندوں نے مولانا طاہر صاحب پر حملہ کردیا، جس سے مولانا کو کافی چوٹیں آئی ہیں.
موقع واردات پر موجود مولانا محمد یاسین سے فون پر ہوئی گفتگو کے مطابق پہلے کچھ شرپسند عناصر بڑی تعداد میں ہمارے سلیپر بوگی میں گھسے اور ہمارے اسلامی شناخت کو دیکھ کر پہلے گندی گندی گالیاں دیں، جس پر ہم لوگوں نے صبر و ضبط سے کام لیا، ہماری طرف سے کچھ رد عمل نہ دیکھ کر نیچے سیٹ پر بیٹھے مولانا طاہر پر اچانک حملہ کردیا اور لات گھونسے برسانے لگے، جس پر وہاں موجود دیگر مسافروں نے مولانا کو بچانے کی کوشش بھی کی تاہم مولانا کو کافی چوٹیں آئی ہیں، ایسے حالات میں سرکار سے یہ اپیل ہے کہ ریلوے میں مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانا اس کی ذمہ داری ہے اور ایسے حادثات پر کنٹرول کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرنا اس کے فرائض کا حصہ ہے.