تحریر: ریان رضوان منجیرپٹی
ــــــــــــــــــ
قارئین کرام!
فیسبک اور وٹسایپ عصر حاضر میں نشر و اشاعت کے بہترین ذرائع ہیں جہاں پل پل کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں اور دوسروں کے افکار و نظریات کو پڑھنے اور سمجھنے کا موقع بآسانی میسر ہوتا ہے، ان فوائد سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس بڑی نعمت کا بارگاہ خدا وندی میں شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے ۔ ایک وہ بھی زمانہ تھا جب محرر کچھ خامہ فرسائ کرتا تو عوام تک پہچانے میں کافی جد جہد کرتا تب کہیں جاکر اس کی تحریر لوگوں تک پہنچتی تھی لیکن اب ایسا نہیں اب کاپی قلم کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔
لیکن تاریخ گواہ ہے جب اللہ کی دی ہوئ کسی نعمت کا اس کی مرضی کے خلاف استعمال کیا جاۓ تو وہ قصہ پارینہ بن جاتی ہے پھر وہ نظروں سے دور صرف خوابوں خیالوں تک محدود ہوجاتی ہے ۔
آج میرے ہم عمر اور مجھ سے بڑے جس طرح ان کا استعمال کرتے نظر آرہے ہیں یہ انتہاہی تشویشناک ہے ۔ہمارے جوانوں کی اکثریت ان سے جڑی ہوئ ہے اور اس طرح کے فوٹو اور پوسٹ اپلوڈ کرتی ہے جسے دیکھ کر شرمندگی کا لبادہ اوڑھ کر کہیں اور کوچ کرنے کا دل کہنے لگتا ہے ۔
۔۔۔ ہمیں اس پر بھی رونا آرہا ہے کہ ہماری نئ نسل کا کوئ پرسان حال نہیں ہے ان کی شخصیت سنوارنے کیلۓ کوئ تیار نہیں ۔گاؤں قصبے یا شہر میں کوئ ایسی تنظیم یا جماعت نہیں جو بلا تفریق مذہب و ملت نوجوانوں کیلۓ خاص ہو جلسے جلوس وعظ و نصیحت کا میدان سرد ہے سال دو سال میں اگر کہیں ہوا تو وہ تعصب کے نظر ہوجاتا ہے اور اسلاف کی تعریف میں پوری رات ختم ہوجاتی ہے۔ نوجوانوں کو بیدار کرنے اور انھیں لغویات اور نازیبا حرکات اور ان کے انجام سے آگاہ کرنے کا کوئ موقع نہیں ملتا۔
میں بھی فیسبک یوز کرتا تھا اور زیادہ وقت فیسبک کی نظر کرتا تھا لیکن پچھلے دو تین مہینے سے میں نے اسے ترک کردیا لیکن کل میں نے فیسبک پر ایک نظر ڈالی جہاں مجھے اکثر دوستوں کی وال پر میچ کے اشتہارات اور کچھ تمغے نظر آۓ میں یہ نہیں کہتا کرکٹ یا کوئ بھی کھیل نا مناسب ہے ۔بلکہ میں تو یہ کہا کرتا ہوں یہ ضروری ہے۔ لیکن صرف اسی کا نا بن کے رہا جاۓ بلکہ تعلیم پر پوری قوت صرف کی جاۓ کیونکہ موجودہ احوال یہی بتا رہے بغیر تعلیم کے زندگی گزارنا دشوار ہے اور دبے پاؤں یہ بھی بتارہے ہیں اگر آپ تعلیم و تعلم سے دور رہے تو لقمئہ تر بننے کیلۓ تیار رہیں ۔
وہ دور گزرگیا جب زمین دیکھ کر شخصیت کی ناپ تول کی جاتی تھی اور وہ بھی دور گزگیا جب صرف ڈگری دیکھ لی جاتی تھی موجودہ دور پریکٹیل پر منحصر ہے آپ کی شخصیت کی ناپ تول آپ کی عملی زندگی کرے گی یہ بھی ہے اگر ابھی آپ اپنے آپ کو نہیں پہچان رہے ہیں اور یہ سوچ رہے ہیں میں اپنی نسل کو پڑھا لوں گا یہ تو گھر بیٹھے کاشمیر کی حسین وادی کا خواب دیکھنا ہے فیسبک اور وٹسایپ پر کاپی پیسٹ کرکے یا عریاں تصویریں چسپاں کرکے ہم عارضی مزہ حاصل کرسکتے ہیں لیکن فی الحقیقت ہم اپنے ذات اور اپنی نسل کو زہر ہلال پلا رہے ہیں ۔
ــــــــــــــــــ
قارئین کرام!
فیسبک اور وٹسایپ عصر حاضر میں نشر و اشاعت کے بہترین ذرائع ہیں جہاں پل پل کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں اور دوسروں کے افکار و نظریات کو پڑھنے اور سمجھنے کا موقع بآسانی میسر ہوتا ہے، ان فوائد سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس بڑی نعمت کا بارگاہ خدا وندی میں شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے ۔ ایک وہ بھی زمانہ تھا جب محرر کچھ خامہ فرسائ کرتا تو عوام تک پہچانے میں کافی جد جہد کرتا تب کہیں جاکر اس کی تحریر لوگوں تک پہنچتی تھی لیکن اب ایسا نہیں اب کاپی قلم کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔
لیکن تاریخ گواہ ہے جب اللہ کی دی ہوئ کسی نعمت کا اس کی مرضی کے خلاف استعمال کیا جاۓ تو وہ قصہ پارینہ بن جاتی ہے پھر وہ نظروں سے دور صرف خوابوں خیالوں تک محدود ہوجاتی ہے ۔
آج میرے ہم عمر اور مجھ سے بڑے جس طرح ان کا استعمال کرتے نظر آرہے ہیں یہ انتہاہی تشویشناک ہے ۔ہمارے جوانوں کی اکثریت ان سے جڑی ہوئ ہے اور اس طرح کے فوٹو اور پوسٹ اپلوڈ کرتی ہے جسے دیکھ کر شرمندگی کا لبادہ اوڑھ کر کہیں اور کوچ کرنے کا دل کہنے لگتا ہے ۔
۔۔۔ ہمیں اس پر بھی رونا آرہا ہے کہ ہماری نئ نسل کا کوئ پرسان حال نہیں ہے ان کی شخصیت سنوارنے کیلۓ کوئ تیار نہیں ۔گاؤں قصبے یا شہر میں کوئ ایسی تنظیم یا جماعت نہیں جو بلا تفریق مذہب و ملت نوجوانوں کیلۓ خاص ہو جلسے جلوس وعظ و نصیحت کا میدان سرد ہے سال دو سال میں اگر کہیں ہوا تو وہ تعصب کے نظر ہوجاتا ہے اور اسلاف کی تعریف میں پوری رات ختم ہوجاتی ہے۔ نوجوانوں کو بیدار کرنے اور انھیں لغویات اور نازیبا حرکات اور ان کے انجام سے آگاہ کرنے کا کوئ موقع نہیں ملتا۔
میں بھی فیسبک یوز کرتا تھا اور زیادہ وقت فیسبک کی نظر کرتا تھا لیکن پچھلے دو تین مہینے سے میں نے اسے ترک کردیا لیکن کل میں نے فیسبک پر ایک نظر ڈالی جہاں مجھے اکثر دوستوں کی وال پر میچ کے اشتہارات اور کچھ تمغے نظر آۓ میں یہ نہیں کہتا کرکٹ یا کوئ بھی کھیل نا مناسب ہے ۔بلکہ میں تو یہ کہا کرتا ہوں یہ ضروری ہے۔ لیکن صرف اسی کا نا بن کے رہا جاۓ بلکہ تعلیم پر پوری قوت صرف کی جاۓ کیونکہ موجودہ احوال یہی بتا رہے بغیر تعلیم کے زندگی گزارنا دشوار ہے اور دبے پاؤں یہ بھی بتارہے ہیں اگر آپ تعلیم و تعلم سے دور رہے تو لقمئہ تر بننے کیلۓ تیار رہیں ۔
وہ دور گزرگیا جب زمین دیکھ کر شخصیت کی ناپ تول کی جاتی تھی اور وہ بھی دور گزگیا جب صرف ڈگری دیکھ لی جاتی تھی موجودہ دور پریکٹیل پر منحصر ہے آپ کی شخصیت کی ناپ تول آپ کی عملی زندگی کرے گی یہ بھی ہے اگر ابھی آپ اپنے آپ کو نہیں پہچان رہے ہیں اور یہ سوچ رہے ہیں میں اپنی نسل کو پڑھا لوں گا یہ تو گھر بیٹھے کاشمیر کی حسین وادی کا خواب دیکھنا ہے فیسبک اور وٹسایپ پر کاپی پیسٹ کرکے یا عریاں تصویریں چسپاں کرکے ہم عارضی مزہ حاصل کرسکتے ہیں لیکن فی الحقیقت ہم اپنے ذات اور اپنی نسل کو زہر ہلال پلا رہے ہیں ۔
