ازقلم: محمد سلمان دھلوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت ابن المجاہدِ آزادی مجاہدِ ملت حضرت اقدس مولانا حیــات اللہ صاحب رحمہ اللہ کی اندوہناک رحلت تمام دینی‘ ملی‘ سماجی‘سیاسی حلقوں میں رنج و غم کا ماحول برپا کر گئی.
حضرت اقدس مولانا حیات اللہ صاحب قاسمی(۱۹۵۳ء)میں شہر بہرائچ میں پیدا ہوئے آپ کا خانوادہ علمی تھا اسی میں آپ کی پرورش ہوئی اور والد محترم کی نگرانی میں آپ نے مکمل علمی و عملی پیاس بجھائی اور اپنے مستقبل کو روشن کیا، آپ نے اپنا تعلیمی میدان نورالعلوم سے شروع کر کے مادر علمی ام المدارس دارالعلوم دیوبند سے تحصیل علم کی فراغت حاصل کی، آپ کو جہاں تمام علوم دینیہ میں مہارت حاصل تھی، وہیں آپ تواریخ کا ایسا گہرا علم رکھتے تھے کہ جب بھی کہیں بیان کی فرمائش کی جاتی، آپ تاریخ آزادی کواس طرح سے بیان کرتے گویا کہ سامعین کے سامنے تاریخ کے باب کو کھول کھول کر رکھ رہے ہوں تمام سامعین ہمہ جہت گوش ہوکر آپ کی بات سنتے.
آپ کی وفات شہر بہرائچ ہی نہیں بلکہ پورے ملک بالخصوص مشرقی یوپی کے لیے بہت بڑا خسارہ مانا جارہا ہے، آج مولانا رحمہ اللہ کی یادیں ستاتی رلاتی ہیں اس کی بہت اہم وجہ یہ بتاتے ہیں کہ مولانا رحمہ اللہ سیاسی حلقوں میں بہت مقبولیت رکھتے ہیں آپ نے شہر بہرائچ کو متعدد دفعہ آگ میں جھلسنے سے بچایا ہے کئی واقعات ایسے موجود ہیں جس میں مولانا نے بذات خود اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر میدان میں کود پڑتے تھے، کچھ سال قبل بہرائچ کے کسی علاقہ میں زبردست دنگا فساد ہوا، آپ فوراً وہاں پہچے اور دونوں جانب کے لوگوں کو سمجھا کر دنگا فساد کر روکا، اسی دروان آپ کر بھی ایف آئ آر درج کرلی گئی، پھر آپ نے اپنی دانشمندی اور فراصت علمی سے اس کو بھانپا اور حج تربیتی کیمپ میں حجاج کی تیاری کے دوران بہراچ کے ڈی ایم کو بلایا، اور وہیں آپ نے ساری بات کہیں کہ اگر کسی جگہ معاملہ میں صلح صفائی کرانے جاؤ تو اس کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے اور تمام ان باتوں کو مولانا رحمہ اللہ نے اسی تربیتی کیمپ میں ہی کہیں جس پر ایس ڈیم ایم بہت شرمندہ ہوا، اور مولانا کا نام فوراً خارج کروایا اور معذرت کی کہ ایف آئی آر کے دوران میں موجود نہیں تھا اس لیے آپ کا نام شامل ہوگیا اس کے لیے معذرت خواہ ہوں مولانا مسکرائے اور تمام کیس بھی ختم کرادیا"
آپ جمیعت علماء اتر پردیش کے کافی عرصہ تک صدر کے عہدہ پر فائز رہےاور اپنی آخری دم تک جمعیت کی خدمت کی اور جامعہ عربیہ مسعودیہ نورا العلوم بہرائچ کے باقاوار مہتمم رہے اور مدرسہ کو بام عروج پر پہنچایا، آپ خاندان مدنیت کے شیدائی تھے فدائےملت مولانا اسعد مدنی صاحب رحمہ اللہ سے بہت ہی خاص تعلق تھا مولانا حیات اللہ صاحب رحمہ اللہ کی درخواست پر متعدد بار مولانا اسعد مدنی صاحب رحمہ اللہ نے شہر بہرائچ کو اپنی قدوم میمنت سے شرفیت بخشی اور بہرائچ کی سر زمیں نے خود پر ناز وفخر محسوس کیا،
مولانا مرحوم کے بھائی فرمارہے تھے کہ آپ قاری صدیق صاحب باندوی رحمہ اللہ کے اس قول کے مصداق ہوئے.
قاری صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
کہ زندگی ایسی جیؤو کے دنیا رشک کرئے
اور جب جاؤ تو ایسے جاؤ کہ دنیا دیر تک ماتم کرئے
یقینا مولانا حیات اللہ صاحب رحمہ اللہ کی زندگی قابل رشک ہے آپ نے اپنی(65) سالہ زندگی میں دین کی بےشمار خدمات کی ہیں آپ نے اپنے پیچھے ایک بہت ہی بڑا قافلہ چھوڑا ہے جن میں آپ کے تین صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہیں.
اللہ پاک سے دعاء ہے کہ اللہ آپ کی ان خدمات کو قبول فرمائے. آمیــــن
آپ کی وفات کو آپ کے ایک بہت ہی عزیز دوست جناب الحاج محمد زبیر صاحب بہرائچی(مقیم حال دہلی) نے بہت ہی رنج و غم اور بہت بڑا خسارہ بتایا ہے اور گھر جاکر مولانا مرحوم رحمہ اللہ کے صاحبزادگان سے ملاقات کی اور ان کو صبر تحمل کی تلقین کی.
مولانا مرحوم رحمہ اللہ کے بڑے بھائی جناب حافظ عبید اللہ صاحب نے حاجی صاحب کہا کہ اب آپ ان کو اپنے بچے سمجھیں، جس پر الحاج محمد زبیر صاحب نے کہا کہ ان کو شروع سے ہی میں اپنے بچے مانتے ہوئے آیا ہوں اور مولانا کی وفات کے بعد میری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے اور یہی بچے ہیں جن سے حسن سلوک اور دست شفقت و محبت کے ذریعہ میں اپنے عزیز دوست مولانا حیات اللہ صاحب کی روح کو تسلی پہچا سکتا ہوں .وہاں سے نکلنے سے قبل صاحبزادگان سے معانقہ کیا اور مولانا رحمہ اللہ کے نقش قدم پر چلنے کی ہدایت کی.
ـــــــعـــــ
عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہیں آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے افق پہ مہرِ مبیں نہیں ہے
تیری جدائی میں مرنے والے وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تیری مرگ ِناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
آپ کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اتنی تھی کہ شہر بہرائچ نے مولانا رحمہ اللہ کے والد محترم مولانا کلیم اللہ صاحب نوراللہ مرقدہ کے بعد مطابق 14/جنوری بہ روز اتوار سنہ 2018 میں دیکھا ہوگا بلکہ قائلین کے مطابق اس سے کہیں زیادہ مجمع موجود تھا، آپ کی نماز جنازہ جانشین فدائے ملت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب نے پڑھائی اور جنازہ میں عوام کے ساتھ ساتھ علماء ودانشوارن کی ایک بہت بڑی جماعت نے شرکت کی.
ـــــــــعـــــــ
بڑی مدت سے بھیجتا ہے ساقی ایسا مستانہ
بدل دیتا ہے جو بگڑا ہوا دستور مئے خانہ
دعاء ہیکہ اللہ تعالی حضرت والا کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ و پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے. آمیــن
تعزیت نامہ: من جانب الحاج محـمد زبیـر صاحب بہرائچی (مقیم حال دہلی)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت ابن المجاہدِ آزادی مجاہدِ ملت حضرت اقدس مولانا حیــات اللہ صاحب رحمہ اللہ کی اندوہناک رحلت تمام دینی‘ ملی‘ سماجی‘سیاسی حلقوں میں رنج و غم کا ماحول برپا کر گئی.
حضرت اقدس مولانا حیات اللہ صاحب قاسمی(۱۹۵۳ء)میں شہر بہرائچ میں پیدا ہوئے آپ کا خانوادہ علمی تھا اسی میں آپ کی پرورش ہوئی اور والد محترم کی نگرانی میں آپ نے مکمل علمی و عملی پیاس بجھائی اور اپنے مستقبل کو روشن کیا، آپ نے اپنا تعلیمی میدان نورالعلوم سے شروع کر کے مادر علمی ام المدارس دارالعلوم دیوبند سے تحصیل علم کی فراغت حاصل کی، آپ کو جہاں تمام علوم دینیہ میں مہارت حاصل تھی، وہیں آپ تواریخ کا ایسا گہرا علم رکھتے تھے کہ جب بھی کہیں بیان کی فرمائش کی جاتی، آپ تاریخ آزادی کواس طرح سے بیان کرتے گویا کہ سامعین کے سامنے تاریخ کے باب کو کھول کھول کر رکھ رہے ہوں تمام سامعین ہمہ جہت گوش ہوکر آپ کی بات سنتے.
آپ کی وفات شہر بہرائچ ہی نہیں بلکہ پورے ملک بالخصوص مشرقی یوپی کے لیے بہت بڑا خسارہ مانا جارہا ہے، آج مولانا رحمہ اللہ کی یادیں ستاتی رلاتی ہیں اس کی بہت اہم وجہ یہ بتاتے ہیں کہ مولانا رحمہ اللہ سیاسی حلقوں میں بہت مقبولیت رکھتے ہیں آپ نے شہر بہرائچ کو متعدد دفعہ آگ میں جھلسنے سے بچایا ہے کئی واقعات ایسے موجود ہیں جس میں مولانا نے بذات خود اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر میدان میں کود پڑتے تھے، کچھ سال قبل بہرائچ کے کسی علاقہ میں زبردست دنگا فساد ہوا، آپ فوراً وہاں پہچے اور دونوں جانب کے لوگوں کو سمجھا کر دنگا فساد کر روکا، اسی دروان آپ کر بھی ایف آئ آر درج کرلی گئی، پھر آپ نے اپنی دانشمندی اور فراصت علمی سے اس کو بھانپا اور حج تربیتی کیمپ میں حجاج کی تیاری کے دوران بہراچ کے ڈی ایم کو بلایا، اور وہیں آپ نے ساری بات کہیں کہ اگر کسی جگہ معاملہ میں صلح صفائی کرانے جاؤ تو اس کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے اور تمام ان باتوں کو مولانا رحمہ اللہ نے اسی تربیتی کیمپ میں ہی کہیں جس پر ایس ڈیم ایم بہت شرمندہ ہوا، اور مولانا کا نام فوراً خارج کروایا اور معذرت کی کہ ایف آئی آر کے دوران میں موجود نہیں تھا اس لیے آپ کا نام شامل ہوگیا اس کے لیے معذرت خواہ ہوں مولانا مسکرائے اور تمام کیس بھی ختم کرادیا"
آپ جمیعت علماء اتر پردیش کے کافی عرصہ تک صدر کے عہدہ پر فائز رہےاور اپنی آخری دم تک جمعیت کی خدمت کی اور جامعہ عربیہ مسعودیہ نورا العلوم بہرائچ کے باقاوار مہتمم رہے اور مدرسہ کو بام عروج پر پہنچایا، آپ خاندان مدنیت کے شیدائی تھے فدائےملت مولانا اسعد مدنی صاحب رحمہ اللہ سے بہت ہی خاص تعلق تھا مولانا حیات اللہ صاحب رحمہ اللہ کی درخواست پر متعدد بار مولانا اسعد مدنی صاحب رحمہ اللہ نے شہر بہرائچ کو اپنی قدوم میمنت سے شرفیت بخشی اور بہرائچ کی سر زمیں نے خود پر ناز وفخر محسوس کیا،
مولانا مرحوم کے بھائی فرمارہے تھے کہ آپ قاری صدیق صاحب باندوی رحمہ اللہ کے اس قول کے مصداق ہوئے.
قاری صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
کہ زندگی ایسی جیؤو کے دنیا رشک کرئے
اور جب جاؤ تو ایسے جاؤ کہ دنیا دیر تک ماتم کرئے
یقینا مولانا حیات اللہ صاحب رحمہ اللہ کی زندگی قابل رشک ہے آپ نے اپنی(65) سالہ زندگی میں دین کی بےشمار خدمات کی ہیں آپ نے اپنے پیچھے ایک بہت ہی بڑا قافلہ چھوڑا ہے جن میں آپ کے تین صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہیں.
اللہ پاک سے دعاء ہے کہ اللہ آپ کی ان خدمات کو قبول فرمائے. آمیــــن
آپ کی وفات کو آپ کے ایک بہت ہی عزیز دوست جناب الحاج محمد زبیر صاحب بہرائچی(مقیم حال دہلی) نے بہت ہی رنج و غم اور بہت بڑا خسارہ بتایا ہے اور گھر جاکر مولانا مرحوم رحمہ اللہ کے صاحبزادگان سے ملاقات کی اور ان کو صبر تحمل کی تلقین کی.
مولانا مرحوم رحمہ اللہ کے بڑے بھائی جناب حافظ عبید اللہ صاحب نے حاجی صاحب کہا کہ اب آپ ان کو اپنے بچے سمجھیں، جس پر الحاج محمد زبیر صاحب نے کہا کہ ان کو شروع سے ہی میں اپنے بچے مانتے ہوئے آیا ہوں اور مولانا کی وفات کے بعد میری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے اور یہی بچے ہیں جن سے حسن سلوک اور دست شفقت و محبت کے ذریعہ میں اپنے عزیز دوست مولانا حیات اللہ صاحب کی روح کو تسلی پہچا سکتا ہوں .وہاں سے نکلنے سے قبل صاحبزادگان سے معانقہ کیا اور مولانا رحمہ اللہ کے نقش قدم پر چلنے کی ہدایت کی.
ـــــــعـــــ
عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہیں آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے افق پہ مہرِ مبیں نہیں ہے
تیری جدائی میں مرنے والے وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تیری مرگ ِناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
آپ کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اتنی تھی کہ شہر بہرائچ نے مولانا رحمہ اللہ کے والد محترم مولانا کلیم اللہ صاحب نوراللہ مرقدہ کے بعد مطابق 14/جنوری بہ روز اتوار سنہ 2018 میں دیکھا ہوگا بلکہ قائلین کے مطابق اس سے کہیں زیادہ مجمع موجود تھا، آپ کی نماز جنازہ جانشین فدائے ملت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب نے پڑھائی اور جنازہ میں عوام کے ساتھ ساتھ علماء ودانشوارن کی ایک بہت بڑی جماعت نے شرکت کی.
ـــــــــعـــــــ
بڑی مدت سے بھیجتا ہے ساقی ایسا مستانہ
بدل دیتا ہے جو بگڑا ہوا دستور مئے خانہ
دعاء ہیکہ اللہ تعالی حضرت والا کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ و پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے. آمیــن
تعزیت نامہ: من جانب الحاج محـمد زبیـر صاحب بہرائچی (مقیم حال دہلی)
