اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: ہر باشعور فرد، عقلِ سلیم اور فہمِ صحیح رکھنے والا انسان مدارس کی عظمت کا اعتراف کرے گا: سلمان عارف

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 15 January 2018

ہر باشعور فرد، عقلِ سلیم اور فہمِ صحیح رکھنے والا انسان مدارس کی عظمت کا اعتراف کرے گا: سلمان عارف

رپورٹ: سلمان کبیرنگری
ــــــــــــــــــــــــــــــ
بلوا سینگر/سنت کبیرنگر (آئی این اے نیوز 15/جنوری) نئی روشنی میگزین کے ایڈیٹر سلمان کبیرنگری نے کہاکہ اس وقت ہر شخص کو ملک کی سالمیت کو بنائے رکھنے اور نفرت کے ماحول کو ختم کر کے امن وسکون کو ہموار کرنے اور جمہوری حقوق کو پامال ہونے سے بچانے کی فکر کرنی چاہیئے،  انسانوں کا سچا ہمدرد ہوگا وہ ان اہم اور ضروری امور کی طرف ضرور توجہ دے گا، حالیہ دنوں میں شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین کی جانب سے مدارس کے خلاف دیا جانے والا بیان اسی قسم کا ہے، جس میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مدرسے بند کئے جائیں، کیوں کہ یہ دہشت گرد پیدا کرتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ایسی بیان بازی کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ محض حکومت کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔
نئی روشنی میگزین کے نائب ایڈیٹر سلمان عارف نے کہاکہ تحریک آزادی سے لے کر ملک میں قومی یکجہتی اور مثالی سماجی اقدار کے فروغ میں مدارس کی زریں خدمات، ان کی بہترین کاردگردی اس قسم کے احمقانہ بیانات سے متاثر نہیں ہوں گی اور ہر باشعور فرد اور عقلِ سلیم اور فہمِ صحیح رکھنے والا انسان مدارس کی عظمت کا اعتراف کرے گا۔طارق ارمان سماجی کارکن نے کہاکہ اگر انہیں واقعی مدارس سے شکایت تھی تو وہ مدارس پرالزامات لگانے سے پہلے کم از کم ان کا ایک بارجائز ہ لے کر حقیقت کا پتا لگاتے، یہاں کے پاکیزہ ماحول میں آکر بیٹھتے، طلباء سے بات چیت کرتے، مدارس کے نظام تعلیم و تربیت سے واقفیت حاصل کرتے، مدارس میں پڑھائی جانے والی کتابوں اور درسیات کی تفصیلات کا پتا لگاتے، ظاہر ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے تو انہیں حقیقت کا علم ہوجاتا اور وہ اس قسم کا زہریلا بیان نہیں دیتے۔محمد حنیف گرلس انٹر کالج کے منیجر مسیح الدین نے کہا کہ اس وقت حکومت باقاعدہ ایسے لوگوں کو اکسا رہی ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف سازش کریں، پھر میڈیا کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ہائی لائٹ کیا جاتا ہے اور قومی سطح پر مشہور کر دیا جاتا ہے تاکہ عام لوگ اور برادران وطن کے ذہنوں میں مسلمانوں اور علماء و مدارس کے تئیں بدگمانی بیٹھ جائے اور وہ ان سے نفرت کرنے لگیں ۔