ازقلم: فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی
ــــــــــــــــــــــــ
آج پورے ملک میں ایک نعرہ بڑے زور وشور سے لگایا جارہا ہے سب پڑھیں سب بڑھیں، حکومت کی طرف سے اور سماجی تنظیموں کی طرف سے پوری کوشش کی جارہی ہے، کہ ملک کے تمام باشندہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں، اور ہمارے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ تعلیمی میدان میں رات و دن ایک کرکے اپنی مستقل کو روشن بنانے میں رواں دواں ہے، تعلیم چاہے دنیاوی ہو یا دینی یقینا عمدہ چیز ہے، لیکن تعلیم تبھی کارگر اور فائدہ مند ہے، جب تعلیم کے مقاصد کے ساتھ حاصل کی جائے،
میں ایجوکیشن کا طالب علم بھی ہوں آج تعلیم کے مقاصد وغرض وغایت پر روشنی ڈالوں گا، عصری درسگاہوں میں پرائمری سے تعلیم کا آغاز ہوتا ہے، چھ سال سے گیارہ سال کے بچوں کو پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کرائی جاتی ہے، درجہ ایک سے پانچ تک کے طلباء کی تعلیم کو پرائمری سے تعبیر کیا جاتا ہے، تعلیم کا مقصد صرف روزگار نہیں ہے، جیسا کہ دور حاضر میں تعلیم کو صرف اور صرف روزگار سے جوڑا جارہا ہے، کوٹھاری آیوگ ۱۹۶۴.۶۶کے مطابق پرائمری تعلیم کے کچھ مقاصد ہیں، تعلیم تبھی کارگر ہے اور تعلیم سے تعلیم یافتہ شخص کماحقہ تبھی مستفیض ہوسکتا ہے جب ان مقاصد کو پیش نظر رکھ کر تعلیم حاصل کیا جائے، انہیں مقاصد میں عمدہ اخلاق کو فروغ دینا، اور معاشرہ کی اصلاح کی فکر کرنا، انسانیت کے جذبہ کو پیدا کرنا، ذات برادری کی مخالفت کرنا اور انسانیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے کام آنا، یقینا یہ مقاصد تو بہت اعلی ہیں، ان مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے عصری درسگاہوں کے طلباء تعلیم حاصل کرتے تو یقینا ایک صالح معاشرہ تشکیل پاتا، لیکن افسوس روزانہ نئے نئے اسکول وجود میں آرہے ہیں لیکن تعلیم کے مقاصد سے یہ ادارے کوسوں دور جاچکے ہیں، دور حاضر کے طلباء کے نزدیک بہترین ملازمت حاصل کرنا ہی تعلیم کا مقصد بن چکا ہے، افسوس توتب ہوتا ہے جب طلباء تعلیم کے ان مقاصد سے ہی ناآشنا ہوتے ہیں، ملک کی مشہور یونیورسٹی کے پروفیسر کی زبان سے جب میں نے یہ لفظ سنا، کہ یہ تعلیم کے مقاصد تو ہیں، لیکن موجودہ زمانے میں تعلیم مقاصد کے ساتھ کرنے والے نایاب ہیں تو مجھے بہت افسوس ہوا، یقینا عصری درسگاہوں کے طالب علموں کے لئے لمحہ فکریہ ہے جب تعلیم کے اس طرح زریں مقاصد ہیں، ان اخلاق سے طلباء کیوں ہیں، تعلیم کا مقصد ہی ذات برادری کی مخالفت کرنا، ذات برادری کی وجہ سے کسی سے نفرت کرنا یہ تعلیم کا مقصد ہے، تو ذات برادی اور مذہب کے نام نفرتیں کیوں بڑھ رہی ہیں، افسوس تو تب ہوتا ہے تعلیم کے مقاصد سے عاری اور خالی لوگ خود کو تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں.
آج ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ مقاصد سے آراستہ پیراستہ کریں، تب ایک صالح معاشرہ تشکیل پائے گا، اور تعلیم کو صرف ایک روزگار کے طور پر نہیں بلکہ انسانیت کے حصول کے جذبہ سے حاصل کی جائے گی.
ــــــــــــــــــــــــ
آج پورے ملک میں ایک نعرہ بڑے زور وشور سے لگایا جارہا ہے سب پڑھیں سب بڑھیں، حکومت کی طرف سے اور سماجی تنظیموں کی طرف سے پوری کوشش کی جارہی ہے، کہ ملک کے تمام باشندہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں، اور ہمارے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ تعلیمی میدان میں رات و دن ایک کرکے اپنی مستقل کو روشن بنانے میں رواں دواں ہے، تعلیم چاہے دنیاوی ہو یا دینی یقینا عمدہ چیز ہے، لیکن تعلیم تبھی کارگر اور فائدہ مند ہے، جب تعلیم کے مقاصد کے ساتھ حاصل کی جائے،
میں ایجوکیشن کا طالب علم بھی ہوں آج تعلیم کے مقاصد وغرض وغایت پر روشنی ڈالوں گا، عصری درسگاہوں میں پرائمری سے تعلیم کا آغاز ہوتا ہے، چھ سال سے گیارہ سال کے بچوں کو پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کرائی جاتی ہے، درجہ ایک سے پانچ تک کے طلباء کی تعلیم کو پرائمری سے تعبیر کیا جاتا ہے، تعلیم کا مقصد صرف روزگار نہیں ہے، جیسا کہ دور حاضر میں تعلیم کو صرف اور صرف روزگار سے جوڑا جارہا ہے، کوٹھاری آیوگ ۱۹۶۴.۶۶کے مطابق پرائمری تعلیم کے کچھ مقاصد ہیں، تعلیم تبھی کارگر ہے اور تعلیم سے تعلیم یافتہ شخص کماحقہ تبھی مستفیض ہوسکتا ہے جب ان مقاصد کو پیش نظر رکھ کر تعلیم حاصل کیا جائے، انہیں مقاصد میں عمدہ اخلاق کو فروغ دینا، اور معاشرہ کی اصلاح کی فکر کرنا، انسانیت کے جذبہ کو پیدا کرنا، ذات برادری کی مخالفت کرنا اور انسانیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے کام آنا، یقینا یہ مقاصد تو بہت اعلی ہیں، ان مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے عصری درسگاہوں کے طلباء تعلیم حاصل کرتے تو یقینا ایک صالح معاشرہ تشکیل پاتا، لیکن افسوس روزانہ نئے نئے اسکول وجود میں آرہے ہیں لیکن تعلیم کے مقاصد سے یہ ادارے کوسوں دور جاچکے ہیں، دور حاضر کے طلباء کے نزدیک بہترین ملازمت حاصل کرنا ہی تعلیم کا مقصد بن چکا ہے، افسوس توتب ہوتا ہے جب طلباء تعلیم کے ان مقاصد سے ہی ناآشنا ہوتے ہیں، ملک کی مشہور یونیورسٹی کے پروفیسر کی زبان سے جب میں نے یہ لفظ سنا، کہ یہ تعلیم کے مقاصد تو ہیں، لیکن موجودہ زمانے میں تعلیم مقاصد کے ساتھ کرنے والے نایاب ہیں تو مجھے بہت افسوس ہوا، یقینا عصری درسگاہوں کے طالب علموں کے لئے لمحہ فکریہ ہے جب تعلیم کے اس طرح زریں مقاصد ہیں، ان اخلاق سے طلباء کیوں ہیں، تعلیم کا مقصد ہی ذات برادری کی مخالفت کرنا، ذات برادری کی وجہ سے کسی سے نفرت کرنا یہ تعلیم کا مقصد ہے، تو ذات برادی اور مذہب کے نام نفرتیں کیوں بڑھ رہی ہیں، افسوس تو تب ہوتا ہے تعلیم کے مقاصد سے عاری اور خالی لوگ خود کو تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں.
آج ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ مقاصد سے آراستہ پیراستہ کریں، تب ایک صالح معاشرہ تشکیل پائے گا، اور تعلیم کو صرف ایک روزگار کے طور پر نہیں بلکہ انسانیت کے حصول کے جذبہ سے حاصل کی جائے گی.
