اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: رام لیلا میدان میں جمعیۃ اہل حدیث کی چونتیسویں کل ہند کانفرنس!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 11 March 2018

رام لیلا میدان میں جمعیۃ اہل حدیث کی چونتیسویں کل ہند کانفرنس!

نفرت کے سوداگر اپنے مذہب کے بھی وفادار نہیں، لڑائی ہندو یا مسلمان کے درمیان نہیں بلکہ فرقہ پرستی اور سیکولرزم کے درمیان ہے: مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی(آئی این اے نیوز 11/مارچ 2018) جو لوگ منافرت پھیلاتے اور مذہب کے نام پر نفرت کی سوداگری کرتے ہیں وہ اپنے مذہب کے بھی وفادارنہیں ہوسکتے اس لئے کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب نفرت اور مذہب کی بنیاد پر کئے جانے والے تشدد کی اجازت نہیں دیتا، ہر مذہب میں امن، آتشی، یکجہتی اور محبت کا پیغام موجود ہے، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی نے رام لیلا میدان میں جمعیۃ اہل حدیث کی جانب سے منعقد چونتیسویں کل ہند کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران یہ باتیں کہیں، انہوں نے پرعزم لہجہ میں کہ بھی کہا کہ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، اس کی دلیل کے طور پر مولانا مدنی نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصہ سے مذہب کے نام پر لوگوں کے ذہنوں میں منافرت اور مذہبی جنون پیدا کرنے کی ہر سطح پر سازشیں ہو رہی ہیں مگر میں پورے دعویٰ کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے اور وہ امن، محبت اور خیر سگالی کے جذبے کے ساتھ رہنا چاہتی ہے اکثریت نے کئی موقع پر یہ ثابت بھی کیا ہے،
انہوں نے مثال دی جب اخلاق کا بے رحمانہ قتل ہوا تو احتجاج میں ملک بھرکے سیکڑوں دانشوروں اور ادیبوں نے حکومت کو اپنا ایوارڈ واپس کردیا ان ایوارڈ واپس کرنے والوں کا تعلق اکثریت سے تھا، انہوں نے ایک بار پھر زور دیکر کہا کہ مختلف مذاہب کے پیروکار اپنی مذہبی علامتوں اور تشخص کے ساتھ دستور کے تحت ہی زندہ رہ سکتے ہیں، اس لئے ملک کے دستور اور سیکولرزم کے تحفظ کے لئے ہم اپنی آخری سانس تک جد و جہد کرتے رہیں گے، مولانا مدنی نے کہا کہ آج ملک بھر میں ایک کرب، گھٹن اور خوف و ہراس کا ماحول ہے، ملک میں فرقہ پرستی کا ایسا ننگا ناچ پہلے کبھی نہیں ہوا ، حالات اس وقت جس قدرتشویشناک ہیں ماضی میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ملک پوری طرح فسطائیت کی گرفت میں چلا گیا ہے، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں سکولرزم اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والی سیاسی، سماجی، تنظیمیں اور دیگر ادارے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف متحد ہوکر ان کے ناپاک عزائم کو ناکام کردیں کیونکہ اگر ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی اور عدل و انصاف سے کام نہیں لیا جائے گا، تو ملک کا شیرازہ منتشر ہوجائے گا جو اکثریت و اقلیت کے لئے ہی نہیں بلکہ ملک کے لئے بھی تباہ کن ہوگا، مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے ملک کی تعمیر وترقی اور خوشحالی کے جو حسین خواب دیکھے تھے آج فرقہ پرست لوگوں نے اپنی کم نظری اور متعصبانہ سوچ اور عمل کے ذریعہ چکنا چور کرنا شروع کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ اور بالخصوس مسلمان ، عیسائی اور دیگر اقلیتیں نیز دلت طبقات ترقی کے ثمرات سے بڑی حدتک محروم ہیں ۔
خطاب کے بعد کانفرنس میں موجود اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ آج پورا ملک عدم رواداری کے ماحول سے لرز رہا ہے اس کے خلاف اہل علم اور دیگر طبقات صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں لیکن ارباب اقتدار کے کانوں پر جون تک نہیں رینگ رہی ہے، مسجدوں اور گرجاگھروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے تحریک آزادی میں ہم کردار ادا کرنے والے مدارس کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، گئو کشی کے جھوٹے الزامات کے تحت مسلمانوں اور دلتوں کو گرفتار اور پیٹ پیٹ کر ہلاک کیا جارہا ہے، اقتدارپر فائز لوگ مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہندوں اور مسلمانوں کے درمیان مٹھی بھر فرقہ پرستوں نے خلیج پیداکردی ہے، برسر اقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے والے لیڈر اور منتخب نمائندے اور وزراء تک ایسی زبان استعمال کررہے ہیں کہ ملک میں نفرت کا ماحول بڑھتا ہی جارہا ہے ایک طرح سے مسلمانوں، عیسائیوں، اور دیگر اقلیتوں نیز دلتوں کے صبر و ضبط کا امتحان لیا جارہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
ایک صحافی کے ذریعہ پوچھے گئے سوال کے جواب میں مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارا مقصد کسی بھی پارٹی کو ٹارگیٹ کرنا نہیں ہے فرقہ پرستی کسی سیاسی جماعت میں ہو یا کسی بھی مذہب کے ماننے والوں میں ہو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ایسی سیاست کو قطعی قبول نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ ہم یہ بات مسلسل کہتے آئے ہیں کہ فرقہ پرستی کا مقابلہ فرقہ پرستی سے نہیں کیا جاسکتا ہے، مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا واضح موقف ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور آئین نے تمام مذاہب کے لوگوں کواپنے مذہب کے طورطریقہ کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی دی ہے ایسے میں سب کے لئے یکساں قانون یعنی یکساں سول کوڈ کا کیا جواز ہے ؟ انہوں نے کہا کہ آزادی سے قبل جو حکمت عملی مسلم لیگ کی تھی وہی حکمت عملی آج فرقہ پرست طاقتوں کی بھی ہے، یہ بھی مذہب کے نام پر ہندؤوں کو ورغلا کر اپنی سیاسی عزائم پورے کرنا چاہتی ہیں، مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند ملک کے ہر باشندوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے جھوٹے اور گمراہ کن پروپگنڈوں کے دام میں نہ آئیں اور ملک کے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں،  نیز اپنے آباء اجداد کی قدیم روایت کو نہ چھوڑیں، جمیۃ علماء ہند اس موقع پر ان تمام سیاسی جماعتوں سماجی تنظیموں اور اداروں سے بھی پرزور اپیل کرتی ہے کہ جو ملک میں قانون اور سیکولرزم پر یقین رکھتے ہیں، وہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں کے خلاف متحد ہوجائیں اور فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام کر دیں ۔
فرقہ پرستی اور موجودہ حالات کے تناظر میں پوچھے جانے والے ایک سوال پر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد فوراً بعد ایک طاقت ابھری تھی جو ملک کو ہندو راشٹر بنانا چاہتی تھی لیکن جمعیۃ علماء ہند کے اکابر سامنے آگئے اور اس وقت کی کانگریس قیادت سے کہا کہ ہم سے سیکولر دستور کے جو وعدے کئے گئے تھے ان کو پورا کرو، اگر ملک کی تقسیم ہوئی ہے تو اس پر تم لوگوں نے دستخط کئے ہیں ہم نے نہیں، ہم کل بھی تقسیم کے مخالف تھے اور آج بھی ہیں، ہماری بات میں اتنا وزن تھا جس کے سامنے کانگریس کی قیادت جھکی اور ملک کو سیکولر دستور میسر ہوا، جو ہر اقلیت کے لئے خدا کی رحمت ہے ۔