محمد سالم سریانوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 13/نومبر 2018) استاذ العلماء حضرت مولانا جمیل احمد قاسمی مدنی کے انتقال پر جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور کی طرف سے ایک تعزیتی اجلاس آج 12/ نومبر بعد نماز ظہر مرکزی جامع مسجد متعلق جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور میں زیر صدارت حضرت مولانا مفتی محمد امین صاحب قاسمی دامت برکاتہم شیخ الحدیث ومفتی جامعہ منعقد ہوا، پروگرام کا باقاعدہ آغاز حضرت مولانا قاری شمیم انظر صاحب مظاہری استاذ تجوید جامعہ کی قرأت سے ہوا، اس کے بعد بارگاہ رسالت میں عزیزم عبد الرحمن سلمہ متعلم جامعہ نے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا، پروگرام کی نظامت کے فرائض حضرت مولانا مفتی محمد یاسر صاحب قاسمی ناظم اعلی جامعہ عربیہ احیاء العلوم نے ادا فرمائی، اس کے بعد آپ نے تمہیدی کلمات ارشاد فرمائے، جس میں مولانا مرحوم کا مختصر تعارف پیش فرمایا اور پروگرام کو آگے بڑھایا۔
صدارتی کلمات حضرت مفتی صاحب نے پیش کیے، حضرت مفتی صاحب مولانا رح کے اجل تلامذہ میں سے ہیں، آپ نے قدرے طویل گفتگو فرمائی، جس میں مولانا مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں اور پہلوؤں پر روشنی ڈالی، جس میں بطور خاص مولانا کے صبر وتحمل، حلم وبردباری، شفقت و عنایت اور تدریسی مہارت وغیرہ پر روشنی ڈالی اور بیان کیا کہ بلاشبہ مولانا مرحوم ایک عظیم شخصیت کے حامل انسان تھے، ان کے نقوش وخطوط ہمارے لیے قابل تقلید ہیں۔
حضرت مفتی صاحب کے بیان کے بعد مولانا عبد الرب صاحب اعظمی ناظم اعلی مدرسہ انوار العلوم جہانا گنج نے مختصر خطاب فرمایا اور مولانا مرحوم کی زندگی کے کچھ پہلوؤں پر روشنی ڈالی، ان کے بعد مولانا محفوظ الرحمن صاحب ابراہیم پوری، مولانا رضوان احمد صاحب بمہوری صدر المدرسین جامعہ رشیدیہ، مولانا حافظ عبد الحی صاحب مفتاحی، ناظم اعلی مدرسہ منبع العلوم خیرآباد، مولانا عبد العظیم صاحب قاسمی اور مولانا محمود الحسن صاحب مبارک پوری نے خطاب فرمائے، ان سب حضرات نے مولانا مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اور سامعین کو روشناس کرایا، واقعی مولانا مرحوم کی زندگی مختلف خوبیوں اور بھلائیوں کا مجموعہ تھی، آپ کے انتقال سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا، اور دیار مشرق ایک عظیم عالم دین سے محروم ہوگیا، تعزیتی پروگرام صدر محترم حضرت مفتی صاحب کی دعا پر اپنے اختتام کو پہنچا۔
پروگرام میں مذکورہ حضرات کے علاوہ علاقہ کے علمائے کرام اور عام لوگ بڑی تعداد میں تشریف لائے تھے۔
واضح ہو کہ مولانا محلہ پورہ دلہن مبارک پور سے تعلق رکھتے تھے، اور تقریبا آٹھ دہائی سے زیادہ عمر پائی، آپ دو تین دن پہلے ایک پروگرام کے تعلق سے دیوبند تشریف لے گئے تھے، جہاں پر آپ کی طبیعت کچھ زیادہ خراب ہوگئی، اور وہاں کے مشہور ہاسپیٹل ڈی کے جین میں داخل کروائے گئے، لیکن کچھ افاقہ نہیں ہوا، اور بالآخر کل گزشتہ 11/نومبر بعد نماز مغرب ساڑھے سات بجے انتقال فرماگئے، اور آج وہیں دیوبند میں بعد نماز ظہر نماز جنازہ ادا کی گئی، نماز جنازہ کی امامت مولانا مفتی ابو القاسم صاحب نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے فرمائی اور مزار قاسمی میں تدفین عمل میں آئی، آپ کے پس ماندگان میں چار لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں، لڑکوں میں حضرت مولانا عارف جمیل صاحب استاذ دار العلوم دیوبند، مفتی محمد صادق صاحب صدر المدرسین مدرسہ نور الاسلام ولید پور اور حافظ محمد سالم اور محمد عاقل ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 13/نومبر 2018) استاذ العلماء حضرت مولانا جمیل احمد قاسمی مدنی کے انتقال پر جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور کی طرف سے ایک تعزیتی اجلاس آج 12/ نومبر بعد نماز ظہر مرکزی جامع مسجد متعلق جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور میں زیر صدارت حضرت مولانا مفتی محمد امین صاحب قاسمی دامت برکاتہم شیخ الحدیث ومفتی جامعہ منعقد ہوا، پروگرام کا باقاعدہ آغاز حضرت مولانا قاری شمیم انظر صاحب مظاہری استاذ تجوید جامعہ کی قرأت سے ہوا، اس کے بعد بارگاہ رسالت میں عزیزم عبد الرحمن سلمہ متعلم جامعہ نے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا، پروگرام کی نظامت کے فرائض حضرت مولانا مفتی محمد یاسر صاحب قاسمی ناظم اعلی جامعہ عربیہ احیاء العلوم نے ادا فرمائی، اس کے بعد آپ نے تمہیدی کلمات ارشاد فرمائے، جس میں مولانا مرحوم کا مختصر تعارف پیش فرمایا اور پروگرام کو آگے بڑھایا۔
صدارتی کلمات حضرت مفتی صاحب نے پیش کیے، حضرت مفتی صاحب مولانا رح کے اجل تلامذہ میں سے ہیں، آپ نے قدرے طویل گفتگو فرمائی، جس میں مولانا مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں اور پہلوؤں پر روشنی ڈالی، جس میں بطور خاص مولانا کے صبر وتحمل، حلم وبردباری، شفقت و عنایت اور تدریسی مہارت وغیرہ پر روشنی ڈالی اور بیان کیا کہ بلاشبہ مولانا مرحوم ایک عظیم شخصیت کے حامل انسان تھے، ان کے نقوش وخطوط ہمارے لیے قابل تقلید ہیں۔
حضرت مفتی صاحب کے بیان کے بعد مولانا عبد الرب صاحب اعظمی ناظم اعلی مدرسہ انوار العلوم جہانا گنج نے مختصر خطاب فرمایا اور مولانا مرحوم کی زندگی کے کچھ پہلوؤں پر روشنی ڈالی، ان کے بعد مولانا محفوظ الرحمن صاحب ابراہیم پوری، مولانا رضوان احمد صاحب بمہوری صدر المدرسین جامعہ رشیدیہ، مولانا حافظ عبد الحی صاحب مفتاحی، ناظم اعلی مدرسہ منبع العلوم خیرآباد، مولانا عبد العظیم صاحب قاسمی اور مولانا محمود الحسن صاحب مبارک پوری نے خطاب فرمائے، ان سب حضرات نے مولانا مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اور سامعین کو روشناس کرایا، واقعی مولانا مرحوم کی زندگی مختلف خوبیوں اور بھلائیوں کا مجموعہ تھی، آپ کے انتقال سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا، اور دیار مشرق ایک عظیم عالم دین سے محروم ہوگیا، تعزیتی پروگرام صدر محترم حضرت مفتی صاحب کی دعا پر اپنے اختتام کو پہنچا۔
پروگرام میں مذکورہ حضرات کے علاوہ علاقہ کے علمائے کرام اور عام لوگ بڑی تعداد میں تشریف لائے تھے۔
واضح ہو کہ مولانا محلہ پورہ دلہن مبارک پور سے تعلق رکھتے تھے، اور تقریبا آٹھ دہائی سے زیادہ عمر پائی، آپ دو تین دن پہلے ایک پروگرام کے تعلق سے دیوبند تشریف لے گئے تھے، جہاں پر آپ کی طبیعت کچھ زیادہ خراب ہوگئی، اور وہاں کے مشہور ہاسپیٹل ڈی کے جین میں داخل کروائے گئے، لیکن کچھ افاقہ نہیں ہوا، اور بالآخر کل گزشتہ 11/نومبر بعد نماز مغرب ساڑھے سات بجے انتقال فرماگئے، اور آج وہیں دیوبند میں بعد نماز ظہر نماز جنازہ ادا کی گئی، نماز جنازہ کی امامت مولانا مفتی ابو القاسم صاحب نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے فرمائی اور مزار قاسمی میں تدفین عمل میں آئی، آپ کے پس ماندگان میں چار لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں، لڑکوں میں حضرت مولانا عارف جمیل صاحب استاذ دار العلوم دیوبند، مفتی محمد صادق صاحب صدر المدرسین مدرسہ نور الاسلام ولید پور اور حافظ محمد سالم اور محمد عاقل ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)