اشرف اصلاحی اردو عربی فارسی یونیورسٹی لکھنؤ
ـــــــــــــــــــــ
علی گڑھ(آئی این اے نیوز 11/نومبر 2018) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہر سال کی طرح امسال بھی طلبہ یونین کا انتخاب عمل میں آیا، جس میں اعظم گڑھ کی سرزمین سے راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر مولانا عامر رشادی مدنی صاحب کے صاحبزادے حذیفہ عامر نے کامیابی حاصل کر اپنے اہل خانہ اور ضلع کا نام روشن کرتے ہوئے اعظم گڑھ کو آتنک کی نرسری کہنے والوں کے منھ پر زوردار طمانچہ رسید کیا ہے، اور ایک دفعہ ان دشمنوں کو پھر بتا دیا کہ اعظم گڑھ دہشتگردوں کی سرزمیں نہیں بلکہ علمائے کرام، ادیبوں، شاعروں،ڈاکٹروں ،دانشوروں اور عظیم شخصیتوں کی سرزمیں ہے، ہم اس کامیابی پر عمیق دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جس طرح پہلے قوم و ملت کے لئے دلی سے لیکر لکھنؤ اور علی گڑھ سے لیکر اعظم گڑھ تک ظلم و زیادتی اور ملک میں درپیش مسائل کے خلاف آواز اٹھاتے اور ہمیشہ میدان عمل میں رہتے تھے اسی طرح منصب پر فائز ہونے کے بعد اور مضبوطی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے، اور سرسید کے خواب کی تکمیل کریں گے۔
آپ کو بتا دیں کہ انتخاب سے ۲ دن پہلے یونین حال کی تاریخی فصیل سے سبھی امیدواروں کی فائنل اسپیچ ہوتی ہے اور اسی تقریر پر یونیورسٹی کے طلبہ امیدواروں کی قسمت لکھتے ہیں۔
امسال کے انتخاب میں یونیورسٹی کے طلبہ پچھلے سالوں سے چلی آرہی جذباتی تقریر پر ووٹ دینے کی روایت کو ختم کرتے ہوئے ہمیشہ ان کے مسائل کو حل کرانے میں اول رہنے اور کیمپس سے باہر نکل کر ملکی سطح پر آواز اٹھانے والوں کو ترجیح دیا، ورنہ کچھ امیدوار تو ایسے تھے جوتہذیب و تمدن کے اس چمن کی تاریخی فصیل سے وی سی اور پراکٹر کو قاتل کے ساتھ ہی کرسی پر آنے کے بعد ایڑیوں کے نیچے مسل دینے کی بات تک کہہ ڈالی، اور کہتے ہیں کہ ہم سرسید کے خواب کی تکمیل کریں گے، وہیں علی گڑھ کے رہنے والے سلمان امتیاز نے صدر کے عہدہ پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے ۴۴ سال کا ریکارڈ توڑ کر علی گڑھ کا نام روشن کیا ہے، کیونکہ ۱۹۷۴؍ سے کوئی علی گڑھ کا باشندہ کامیابی حاصل نہیں کرپایا تھا، حذیفہ عامر رشادی کے ساتھ ہی اعظم گڑھ کی سرزمیں سے دو اور امیدوار حمزہ سفیان نائب صدر و معاذ احمد کیبینیٹ کے عہدے پر کامیابی حاصل کی ہے.
حمزہ سفیان مولانا سفیان اصلاحی صاحب کے صاحبزادے ہیں جو علی گڑھ میں ہی مقیم ہیں، ہم ان سبھی کی کامیابی پر بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں، شاعراقبال سہیل نے سچ ہی کہا تھا کہ:
اس خطۂ اعظم گڑھ پہ مگر فیضان تجلی ہے یکسر
جو ذرہ یہاں سے اٹھتا ہے وہ نیر اعظم ہوتا ہے
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کسی کے لئے محتاج تعارف نہیں ہوگی، ۱۸۵۷؍میں سرسید احمد خاں کے بدست تعلیم ،سیاست، مذہب، ادب اور معاشرت کی خمیر سے جس کالج کا قیام عمل میں آیا تھا، اس کا نام محمڈن اینگلور اورینٹیل کالج تھا جو کہ نشیب و فراز سے منزل طے کرتے ہوئے آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ہمارے پاس سرمایہ افتخار ہے، اور اس چمن سرسید سے سیراب ہوکر ہزاروں طلبہ پورے عالم میں اعلی منصب پر فائز ہوکر علی گڑھ و سرسید کے خواب کی تکمیل کر رہے ہیں، سرسید کا خواب تھاکہ اس دانش گاہ کے فارغین دینی و عصری علوم سے لیس ہوں اور ایسے مخلصین یہاں سے پیدا ہوں جو امت کی رہبری کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی اور قیادت و سیادت کے فرائض بھی انجام دے سکیں، انہیں کے خواب کی تکمیل کے لئے صدیوں سے طلبہ کے قیادت کے ساتھ ملکی سیاست میں ایک اہم رول ادا کرنے اور قوم و ملت کے حقوق کی بازیابی کے لئے طلبہ یونین کے انتخاب ہوتے ہیں، اور منتخب افراد یونیورسٹی کے حق و حقوق سے لیکر ملک کے موجودہ حالات و درپیش مسائل پرمظبوطی کے ساتھ اپنی نمائندگی پیش کرتے ہیں اوراس کے حل کیلئے ہر ممکنہ کوشش کرتے ہیں۔
ہم دعا کرتے ہیں اللہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نومنتخبہ یونین کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے پیار و محبت بھر دے اور ایک ساتھ یونیورسٹی کے کیریکٹر کی بقا اور وہاں کے طلبہ کے مسائل سے لیکر ملک و قوم ملت کے حق میں کام کرنے کی توفیق دے۔آمین
ـــــــــــــــــــــ
علی گڑھ(آئی این اے نیوز 11/نومبر 2018) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہر سال کی طرح امسال بھی طلبہ یونین کا انتخاب عمل میں آیا، جس میں اعظم گڑھ کی سرزمین سے راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر مولانا عامر رشادی مدنی صاحب کے صاحبزادے حذیفہ عامر نے کامیابی حاصل کر اپنے اہل خانہ اور ضلع کا نام روشن کرتے ہوئے اعظم گڑھ کو آتنک کی نرسری کہنے والوں کے منھ پر زوردار طمانچہ رسید کیا ہے، اور ایک دفعہ ان دشمنوں کو پھر بتا دیا کہ اعظم گڑھ دہشتگردوں کی سرزمیں نہیں بلکہ علمائے کرام، ادیبوں، شاعروں،ڈاکٹروں ،دانشوروں اور عظیم شخصیتوں کی سرزمیں ہے، ہم اس کامیابی پر عمیق دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جس طرح پہلے قوم و ملت کے لئے دلی سے لیکر لکھنؤ اور علی گڑھ سے لیکر اعظم گڑھ تک ظلم و زیادتی اور ملک میں درپیش مسائل کے خلاف آواز اٹھاتے اور ہمیشہ میدان عمل میں رہتے تھے اسی طرح منصب پر فائز ہونے کے بعد اور مضبوطی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے، اور سرسید کے خواب کی تکمیل کریں گے۔
آپ کو بتا دیں کہ انتخاب سے ۲ دن پہلے یونین حال کی تاریخی فصیل سے سبھی امیدواروں کی فائنل اسپیچ ہوتی ہے اور اسی تقریر پر یونیورسٹی کے طلبہ امیدواروں کی قسمت لکھتے ہیں۔
امسال کے انتخاب میں یونیورسٹی کے طلبہ پچھلے سالوں سے چلی آرہی جذباتی تقریر پر ووٹ دینے کی روایت کو ختم کرتے ہوئے ہمیشہ ان کے مسائل کو حل کرانے میں اول رہنے اور کیمپس سے باہر نکل کر ملکی سطح پر آواز اٹھانے والوں کو ترجیح دیا، ورنہ کچھ امیدوار تو ایسے تھے جوتہذیب و تمدن کے اس چمن کی تاریخی فصیل سے وی سی اور پراکٹر کو قاتل کے ساتھ ہی کرسی پر آنے کے بعد ایڑیوں کے نیچے مسل دینے کی بات تک کہہ ڈالی، اور کہتے ہیں کہ ہم سرسید کے خواب کی تکمیل کریں گے، وہیں علی گڑھ کے رہنے والے سلمان امتیاز نے صدر کے عہدہ پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے ۴۴ سال کا ریکارڈ توڑ کر علی گڑھ کا نام روشن کیا ہے، کیونکہ ۱۹۷۴؍ سے کوئی علی گڑھ کا باشندہ کامیابی حاصل نہیں کرپایا تھا، حذیفہ عامر رشادی کے ساتھ ہی اعظم گڑھ کی سرزمیں سے دو اور امیدوار حمزہ سفیان نائب صدر و معاذ احمد کیبینیٹ کے عہدے پر کامیابی حاصل کی ہے.
حمزہ سفیان مولانا سفیان اصلاحی صاحب کے صاحبزادے ہیں جو علی گڑھ میں ہی مقیم ہیں، ہم ان سبھی کی کامیابی پر بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں، شاعراقبال سہیل نے سچ ہی کہا تھا کہ:
اس خطۂ اعظم گڑھ پہ مگر فیضان تجلی ہے یکسر
جو ذرہ یہاں سے اٹھتا ہے وہ نیر اعظم ہوتا ہے
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کسی کے لئے محتاج تعارف نہیں ہوگی، ۱۸۵۷؍میں سرسید احمد خاں کے بدست تعلیم ،سیاست، مذہب، ادب اور معاشرت کی خمیر سے جس کالج کا قیام عمل میں آیا تھا، اس کا نام محمڈن اینگلور اورینٹیل کالج تھا جو کہ نشیب و فراز سے منزل طے کرتے ہوئے آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ہمارے پاس سرمایہ افتخار ہے، اور اس چمن سرسید سے سیراب ہوکر ہزاروں طلبہ پورے عالم میں اعلی منصب پر فائز ہوکر علی گڑھ و سرسید کے خواب کی تکمیل کر رہے ہیں، سرسید کا خواب تھاکہ اس دانش گاہ کے فارغین دینی و عصری علوم سے لیس ہوں اور ایسے مخلصین یہاں سے پیدا ہوں جو امت کی رہبری کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی اور قیادت و سیادت کے فرائض بھی انجام دے سکیں، انہیں کے خواب کی تکمیل کے لئے صدیوں سے طلبہ کے قیادت کے ساتھ ملکی سیاست میں ایک اہم رول ادا کرنے اور قوم و ملت کے حقوق کی بازیابی کے لئے طلبہ یونین کے انتخاب ہوتے ہیں، اور منتخب افراد یونیورسٹی کے حق و حقوق سے لیکر ملک کے موجودہ حالات و درپیش مسائل پرمظبوطی کے ساتھ اپنی نمائندگی پیش کرتے ہیں اوراس کے حل کیلئے ہر ممکنہ کوشش کرتے ہیں۔
ہم دعا کرتے ہیں اللہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نومنتخبہ یونین کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے پیار و محبت بھر دے اور ایک ساتھ یونیورسٹی کے کیریکٹر کی بقا اور وہاں کے طلبہ کے مسائل سے لیکر ملک و قوم ملت کے حق میں کام کرنے کی توفیق دے۔آمین
