اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: پانچ رياستوں كا انتخابی نتيجہ يا 2019ء كا سيمی فائنل!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 13 December 2018

پانچ رياستوں كا انتخابی نتيجہ يا 2019ء كا سيمی فائنل!

امكانات وتوقعات

از: عبدالمنان قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گزشتہ چند مہينوں سے پانچ رياستوں كے انتخابات كی گہما گہمی تھی، چناؤ كے ليے مختلف پارٹياں طبع آزمائی كررہی تھيں، ہر ہر پارٹی اپنے اپنے اعلاميے اور منشور كے تحت عوام كو رجھانے اور اپنی طرف مائل كرنے ميں مصروف تھی۔ عام ووٹروں اور كسانوں كے ساتھ ہمدردی كا اظہار كيا گيا، خوش حالی لانے اور بد حالی وبے روزگاری كے خاتمے كا اعلان كيا گيا، كسانوں كے قرضے معاف كرنے اور پيداوار كی صحيح قیمت دینے كا راگ الاپا گيا، قيامِ امن وامان، جان ومال اور عزت وآبرو كے تحفظ كی قوس قزاحی باتيں كی گئيں، مجرموں اور ظالموں كو بخشا نہ جانے كا
اور مظلوموں، بے كسوں اور غريبوں كے ساتھ تعاون باہمی اور نيك جذبات كا اظہار كيا گيا، ‘‘سب كا ساتھ، سب كا وكاس’’ كے فلك شگاف نعرے بلند كيے گئے۔ اور ديكھتے ہی مختلف مراحل سے گزرتے ہوے ووٹنگ كے ايام ختم ہوگئے، چناؤ هوگيا اور آج بروز منكل (۱۱۔۱۲۔۲۰۱۸) نتيجہ بھی سامنے آگيا.
نتيجے كے اعلان سے پہلے تک ‘‘اونٹ كس كروٹ بيٹھے گا’’ كسی كو معلوم نہيں تھا۔ قياس آرائياں جاری تھيں، ايگزٹ پول كے آنكڑے اور تخمينے بدلتے رہے، نيوز چينلوں نے اپنے اپنے حساب سے كسی كو ‘‘ہيرو’’ اور كسی كو ‘‘زيرو’’ دكھانے كا عمل مستمر ركھا، طرح طرح كی خبريں گردش كرتی رہيں، سياسی پنڈتوں كے تخمینے اخبارات كی زينت بنتے رہے، مختلف ٹی وی چينلس كے خاص پروگراموں ميں موجوده اليكشن كو موضوع بحث بنايا گيا؛ ليكن جب آج ووٹوں كی گنتی كا عمل شروع ہوا، تو سب كی آنكھيں پھٹی كی پھٹی ره گئيں، رزلٹ نے سب كچھ صاف شفاف آئينہ كی طرح پيش كرديا۔ سارے تخمینے اور آنكڑے دھرے كے دھرے ره گئے اور وه نتیجہ سامنے آيا، جس كی كسی كو توقع نہيں تھی۔ پانچ رياستوں ميں سے تن بڑي رياستيں جنھيں بی جے پی كا گڑھ كها جاتا تھا، جهاں سے پارليمانی اليكشن كی ہارجيت كا نقشہ تيار هوتا هے، ۲۰۱۳ء ميں بھی بی جے پی نے يہيں سے اپنی جيت كا آغاز كيا تھا اور ۲۰۱۴ء ميں پارليمانی اليكشن ميں اپنی نماياں ترين كاميابی كا جھنڈا لہرايا تھا، آج وہی رياستيں بی جے پی كے ہاتھ سے نكل كر كانگريس كے كھاتہ ميں آگئيں۔ ۲۰۱۹ء كا سيمی فائنل كہے جانے والے ان پانچ رياستوں كے انتخاب كو بڑی اہميت دي گئی تھی اور آئنده سال ہونے والے پارليمانی انتخابات كو اس سے جوڑ كر ديكھا جارہا تھا۔ خاص طور پر بی جے پی اور كانگريس كے درميان خوب جملے بازياں رہيں، ايك دوسرے پر خوب نشانے سادھے گئے۔
اگرچہ كانگريس نے پانچ رياستوں ميں سے تن رياستوں پر اپنی فتح كا جھنڈا لہرا ديا ہے، اور بی جے پی كو چاروں شانے چت كرديا ہے؛ ليكن اگر اسے ۲۰۱۹ء كے تناظر ميں ديكھا جائے، تو كانگريس كے ليے بہت بڑا لمحۂ فكريہ بھی ہے كہ بقيہ دو رياستوں ميں اس كا صفايا ہوگيا ہے۔ ميزورم جہاں كانگريس حكومت ميں تھی، اس اليكشن ميں اس كے موجوده وزير اعلی اپنی دونوں سيٹوں كو بچانے ميں ناكام رہے، ديگر اميدواروں كی كاركردگی بھی قابل ذكر نهيں رہی۔ اسی كے ساتھ ساتھ تلنگانہ جهاں كانگريس مكمل حكومت بنانے كا دعوی كررہی تھی، وه چند سيٹوں پر سمٹ كر ره گئی۔
اس جيت كا سہرا كانگريس كے صدر راہل گاندھی كے سر جاتا هے، جو مسلسل جدوجہد كے ساتھ اپنی تصوير بدلنے ميں كامياب هوے ہيں، اور انھوں نے جس تيزي سے لوگوں كا اعتماد حاصل كيا هے، يه قابل ستائش هے۔ سال بھر پهلے جس كانگريس كو بی جے پی اپنا حريف تسليم كرنے سے بھی انكار كرہی تھی، آج مكمل ايك سال كی مختصر ترين مدت صدارت ميں راہل گاندھی جی نے كانگريس كو نه صرف بی جے پی كا حريف ثابت كرديا هے، بل كه اسے اس كے گڑھ ميں كراری شكست سے دوچار كرديا هے۔ راہل گاندھی نے جس چابك دستی، معامله فهمی اور عقل مندی سے انتخابی ريليوں كو خطاب كيا هے اور اپنے كاركنان كے درميان گھل مل كر رهے هيں، كسانوں اور غريبوں تك پہونچے هيں، ان كے دكھ درد كو سنا هے اور ان كے مداوا كی حتی الامكان يقين دہانی كرائی هے، اگر يه چيزيں باقی رهتی هيں، عوام الناس كی اميدوں كو بروئے كار لانے ميں يه حكومت كامياب هوتی هے اور كانگريس كے كاركنان ميں يه جوش وولوله برقرار رهتا هے، تو پھر ۲۰۱۹ء كے پارليمانی انتخابات ميں واضح طور پر مقابله ‘‘مودی به مقابله راہل’’ هوگا اور يه كہنا خلاف عقل هوگا كه راہل گاندھی جی ميں وه سمجھ نهيں هے، جو مودی جی ميں هے۔ راہل گاندھی نے وه كردكھايا هے، جس كا كوئی تصور بھی نهيں تھا اور انھوں نے يه ثابت كرديا هے كه وه هندوستان كے سب سے عظيم عهده كو سنبھالنے كے ليے مكمل طور پر تيار ہيں.