اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: کانگریس کو سلام،بی،جے،پی کو بائے بائے!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 13 December 2018

کانگریس کو سلام،بی،جے،پی کو بائے بائے!

تبریز فراز محمد غنیف
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ ایک مصدقہ صداقت ہے کہ اس وقت ملک کی سیاسی سرگرمیاں جس تیزی کے ساتھ رواں دواں ہیں وہ قابل غور ہے ایسے میں اہل وطن کو چاہیے کہ جس  لیڈر کا بھی انتخاب کرے سوچ سمجھ کر کرے، کون کتنا عوام الناس کے لئے مفید ہے یا غیر مفید یہ تمام باتیں اس چیز کی طرف اشارہ کر رہی ہیں جو ابھی حالیہ دنوں میں پانچ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے یہ آشکارا کر دیا
کہ اب ہم بی،جے، پی کی چرب زبانی غلط بیانی اور احمقانہ جملے بازی کے زد میں نہیں آسکتے اب بی،جے،پی کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اور کانگریس کی اسکے برعکس  جس کا نتیجہ مدھیہ پردیش ، تلنگانہ،چھتیس گڑھ ، راجستھان،میزورم ،نے صاف ظاہر کر دیا ہے کی بی، جے، پی کو 2019 کے لوک سبھا الیکشن کہی نہ کہی لے ڈوبے گی اور اپنے کشتی کو ساحل پر لگانا مشکل ثابت ہوسکتی ہے اور ثابت ہوگی بھی کیوں نہیں؟ کیوں کے مدھیہ پردیش میں 230 سیٹوں میں بی، جے، پی صرف 104 پر قبضہ جماپائے وہی کانگریس نے اپنے جھنڈے  لہراتے ہوئے 116 سیٹوں پر جیت کا پرچم لہرا کر اپنی حکومت قائم کی اور بی، جے، پی کو مدھیہ پردیش سے دفع کیا وہی اگر تلنگانہ کی ہم بات کریں تو 119 سیٹوں پر چناؤں لڑی گئی اور بی، جے ،پی نے 1 سیٹ اپنے نام کیا اور کانگریس نے 22 سیٹیں اپنے نام کرکے آگے کا راستہ ہموار کیا دوسری طرف ٹی آر ایس کو 87 پر کامیابی ملی دوسری جماعت کو 9 سیٹیں حاصل ہوئیں اور یہی حال راجستھان میں بھی دیکھنے کو ملا 199 سیٹوں میں بی، جے، پی  71 ہی سیٹ حاصل کر پائی کانگریس نے 103 سیٹیں اپنی جھولی میں ڈال کر بی، جے، پی کو انگوٹھا دیکھایا  اور راجستھان سے مودی لہر کو بھگایا دوسری جماعت نے 25 سیٹیں درج کی اور حکومت کانگریس کے ہاتھ میں سونپ دی وہی چھتیس گڑھ میں 90 سیٹوں پر لڑائی لڑی گئی اس لڑائی میں بی، جے، پی 18 پر اپنا سکہ جمانے میں دیکھی گئ تو کانگریس نے اس سکیں کو پھیک کر 62 پر  اپنا الم لہراکر اپنا قائد خود سے انتخاب کرنے کا فیصلہ لیا اور دوسری جماعت کو  10 پر کامیابی ملی اب میں پورے وثوق کے ساتھ کہ سکتا ہوں کی اگر یہی حال رہا تو اس میں کوئی تشکیک و ارتیاب نہیں کہ 2019 کا لوک سبھا الیکشن کانگریس کے نام رہے گا اور ملک عزیز ہندوستان میں دہشت و بربریت  ظلم و استبداد کی تمام جڑو کو اندھیروں کے ان گہری وادی میں پھیک دیا جائے گا جہاں سے بی، جی، پی کا اجالا لگ بھگ ناممکن نظر آئے گا اور اہل چمن کے اندر امن  و امان کی فضاء قائم کی جائیں گی ایسے میں ہم کانگریس کو سلام کہتے ہے اور بی، جے ،پی کو بائے بائے.