اشرف اصلاحی اردو عربی فارسی یونیورسٹی لکھنؤ
ـــــــــــــــــــــــــ
مکرمی....
عالمی شہرت یافتہ مدرستہ الاصلاح کے سابق نائب ناظم مولانا احمد محمود اصلاحی صاحب کا بدھ کو 90 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا مرحوم اعظم گڑھ کے ایک گاؤں بکھرا میں 1929 میں پیدا ہوئے۔ ابھی کچھ ماہ ہی کے تھے کہ والدہ کا انتقال ہوگیا بچپن میں ہی والدین کا سایا سر سے اٹھ جانے کی وجہ سے دادا حافظ نور محمد صاحب نے آپ کی پرورش و پرداخت اعلی تعلیم یافتہ گاؤں طوی میں کی۔چونکہ آپ کے دادا جان ان دنوں اپنے گھر پر گاؤں کے بچوں کو مفت تعلیم دیتے تھے جس کی وجہ سے آپ نے ابتدائ تعلیم گھر پر دادا جان سے ہی حاصل کی۔اور بچپن میں ہی قرآن شریف حفظ کر گاؤں کے ایک پرائمری اسکول میں داخلہ لیا۔پھر اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے 1940 میں مدرستہ الاصلاح سرائے میر کا رخ کیا، 1950 میں اصلاح سے تعلیم ترک کرنے کے بعد آپ نے کتابت و طباعت کا کام شروع کیا اور ذریعہ معاش بنانے کے لئے قصبہ سرائمیر میں کوثر پریس کے نام سے طباعت کی دکان کھول لی۔
آپ کی علمی ذہانت،قابلیت اور مدرسے سے دلی لگاؤ کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ مدرسہ نے 1978 میں آپ کو مدرستہ الاصلاح کا نائب ناظم منتخب کیا۔آپ نے اپنے گائوں طوی میں 1960 میں مدرسہ محبوبیہ اسلامیہ کے نام سے ایک مکتب کا قیام کیا۔ علاقہ میں تعلیم نسواں کے لئے مدرسہ و معقول انتظام نا ہونے کی صورت میں 1989 میں جامعتہ الطیبات کے نام سے نسواں اسکول کی بنیاد رکھی۔آپ جماعت اسلامی کے اہم رکن بھی تھے جس کی وجہ سے ایمرجنسی کے زمانہ میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں، آپ اردو، عربی و فارسی زبان میں مہارت رکھتے تھے، ادب پر آپ نے متعدد کتابیں و کہانیاں لکھیں۔ امثال آصف الحکیم کا منظوم ترجمہ کیا اور انور اعظمی کے دیوان کا مقدمہ لکھ لوگوں کو ان کی شاعری سے متعارف کروایا۔ آپ اسلامی،اخلاقی اور ملت کے نونہالوں کی شخصی تعمیر میں نمایا کردار ادا کرنے کے لئے نظمیں لکھتے جو ماہنامہ رسالہ نور میں برابر شائع ہوتی۔ آپ ایک اچھے کاتب کے ساتھ ساتھ خطیب و مقرر بھی تھے۔ آپ کو کتابوں کے جمع کرنے، مطالعہ کرنے اور اخبار بینی کا شوق تھا۔ اپنی صلاحیت کے مطابق قوم و ملک کی ترقی کے لئے ہر ممکنہ مدد کی۔ آپ سادہ لوح تھے، نہایت سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔
12 دسمبر بروز بدھ کو مولانا مرحوم طویل علالت کے بعد 90 سال کی عمر پاکر اس دار فانی سے کوچ کر مالک حقیقی سے جا ملے۔ جمعرات کو 10 بجے مدرستہ الاصلاح پر ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور مدرستہ الاصلاح کی قبرستان میں ہی نم آنکھوں سے تدفین ہوئی، آپ کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں و ایک بیٹا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ مدرسے کے حق میں مولانا مرحوم کا نعم البدل عطا کرے اور مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبر جمیل نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین
ـــــــــــــــــــــــــ
مکرمی....
عالمی شہرت یافتہ مدرستہ الاصلاح کے سابق نائب ناظم مولانا احمد محمود اصلاحی صاحب کا بدھ کو 90 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا مرحوم اعظم گڑھ کے ایک گاؤں بکھرا میں 1929 میں پیدا ہوئے۔ ابھی کچھ ماہ ہی کے تھے کہ والدہ کا انتقال ہوگیا بچپن میں ہی والدین کا سایا سر سے اٹھ جانے کی وجہ سے دادا حافظ نور محمد صاحب نے آپ کی پرورش و پرداخت اعلی تعلیم یافتہ گاؤں طوی میں کی۔چونکہ آپ کے دادا جان ان دنوں اپنے گھر پر گاؤں کے بچوں کو مفت تعلیم دیتے تھے جس کی وجہ سے آپ نے ابتدائ تعلیم گھر پر دادا جان سے ہی حاصل کی۔اور بچپن میں ہی قرآن شریف حفظ کر گاؤں کے ایک پرائمری اسکول میں داخلہ لیا۔پھر اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے 1940 میں مدرستہ الاصلاح سرائے میر کا رخ کیا، 1950 میں اصلاح سے تعلیم ترک کرنے کے بعد آپ نے کتابت و طباعت کا کام شروع کیا اور ذریعہ معاش بنانے کے لئے قصبہ سرائمیر میں کوثر پریس کے نام سے طباعت کی دکان کھول لی۔
آپ کی علمی ذہانت،قابلیت اور مدرسے سے دلی لگاؤ کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ مدرسہ نے 1978 میں آپ کو مدرستہ الاصلاح کا نائب ناظم منتخب کیا۔آپ نے اپنے گائوں طوی میں 1960 میں مدرسہ محبوبیہ اسلامیہ کے نام سے ایک مکتب کا قیام کیا۔ علاقہ میں تعلیم نسواں کے لئے مدرسہ و معقول انتظام نا ہونے کی صورت میں 1989 میں جامعتہ الطیبات کے نام سے نسواں اسکول کی بنیاد رکھی۔آپ جماعت اسلامی کے اہم رکن بھی تھے جس کی وجہ سے ایمرجنسی کے زمانہ میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں، آپ اردو، عربی و فارسی زبان میں مہارت رکھتے تھے، ادب پر آپ نے متعدد کتابیں و کہانیاں لکھیں۔ امثال آصف الحکیم کا منظوم ترجمہ کیا اور انور اعظمی کے دیوان کا مقدمہ لکھ لوگوں کو ان کی شاعری سے متعارف کروایا۔ آپ اسلامی،اخلاقی اور ملت کے نونہالوں کی شخصی تعمیر میں نمایا کردار ادا کرنے کے لئے نظمیں لکھتے جو ماہنامہ رسالہ نور میں برابر شائع ہوتی۔ آپ ایک اچھے کاتب کے ساتھ ساتھ خطیب و مقرر بھی تھے۔ آپ کو کتابوں کے جمع کرنے، مطالعہ کرنے اور اخبار بینی کا شوق تھا۔ اپنی صلاحیت کے مطابق قوم و ملک کی ترقی کے لئے ہر ممکنہ مدد کی۔ آپ سادہ لوح تھے، نہایت سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔
12 دسمبر بروز بدھ کو مولانا مرحوم طویل علالت کے بعد 90 سال کی عمر پاکر اس دار فانی سے کوچ کر مالک حقیقی سے جا ملے۔ جمعرات کو 10 بجے مدرستہ الاصلاح پر ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور مدرستہ الاصلاح کی قبرستان میں ہی نم آنکھوں سے تدفین ہوئی، آپ کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں و ایک بیٹا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ مدرسے کے حق میں مولانا مرحوم کا نعم البدل عطا کرے اور مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبر جمیل نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین
