اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: میر باقی کے ذریعے تعمیر کرائی گئی بابری مسجد کے انہدام کے 26 برس مکمل!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 9 December 2018

میر باقی کے ذریعے تعمیر کرائی گئی بابری مسجد کے انہدام کے 26 برس مکمل!

اسماعیل عمران جونپوری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گزشتہ 26سالوں سے ہندوستان کے ایودھیا میں چھ دسمبر سے قبل ایک ایسا ماحول تیار کیا جاتا ہے جیسے پورے شہر میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہو۔جیسے جیسے سال کا آخری مہینہ دسمبر کا آتا ہے ویسے ویسے ایودھیا  پولیس انتظامیہ کی سانسیں ٹھپ ہونے لگتیں  ہیں۔اس بار ایودھیا میں دو روز پہلے ہی سے حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔ضلع کے ہر چھوٹے بڑے راستوں پر حفاظتی دستے اور بیریر نصب کرکے آنے جانے والی عوام پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے اور مشتبہ نظر آنے والے شخص کو روک کر انکی تلاشی بھی لی جارہی ہے۔جبکہ آج بھارت کے ایودھیا شہر میں تاریخی بابری مسجد کے انہدام کے چھبیس برس مکمل ہوگئے ہیں۔آج کا دن ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے پورے ملک میں' یوم سیاہ'کے طور پر منایا گیا ہے،
وہیں پر بجرنگ دل وشو ہندو پریشد ۔ وی ایچ پی اور ملک شدت پسند ہندوؤں نے  یوم شجاعت منایا ہے۔ہندوستانی دارالحکومت دہلی کے منڈی ہاؤس سے پارلیمنٹ اسٹریٹ تک لوگوں نے پیدل مارچ کیا اور جنتر منتر پر تقریبا ملک کی 16تنظیموں نے بابری مسجد کو شہید کرنے والے مجرموں کو سزادلانے و بابری مسجد کو اسکی اصل جگہ پر دوبارہ تعمیر کرنے کا  احتجاجی پروگرام میں حکومت سے مطالبہ کیا ۔آج دہلی اور ریاست اترپردیش کی راجدھانی سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں بالخصوص ایودھیا شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیۓ گئے تھے۔ایودھیا پولیس انتظامیہ نے سیکیورٹی کے اتنے سخت انتظامات کیۓ تھے کہ چپے چپے پر پولیس تعینات تھی جگہ جگہ بیریکنگ لگی ہوئی تھیں۔متنازع جگہ پر جانے  والے راستے کو بلاک کردیا گیا تھا۔یہ جگہ کو پوری طرح سے پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ساتھ ہی ساتھ دفع 144 نافذ ہے۔ حفاظتی بندوبست میں کسی طرح کی کوئی گڑی بڑی نہ ہو اس کے لئے ڈی جے پی مرکز سے آئی جی کرائم ایس کے بھگت  خود مانیٹرنگ کررہے تھے ۔سیاسی حالات کے مد نظر رکھتے ہوئے۔ 6کمپنی پی ایس سی ۔2کمپنی آر اے ایف ۔4 ایڈیشنل ایس پی ۔10 ڈی ایس پی ۔10انسپیکٹر ۔150سب انسپیکٹر و 500 پولیس اہلکار ایودھیا کی حفاظت کے لئے لگائے گئے تھے۔ایسے حالات میں آج  6دسمبر کا دن  ایودھیا میں وشو ہندو پریشد نے کارسیوک پورم میں؛ یوم شجاعت ؛کے طور پر منایا ۔اور باری مسجد ایکشن کمیٹی نے6 دسمبر کو بینی گنج اور ٹیھڑی بازار میں ؛یوم سیاہ ؛کے طور پر منایا ہے۔واضح رہے کہ سولہویں صدی میں مغل بادشاہ بابر کے سپہ سالار میر باقی کے ذریعے تعمیر کرائی گئی بابری مسجد کو شدت پسند ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دیڑھ لاکھ سے زائد کار سیوکوں نے چھ دسمبر 1992ءکو منہدم کردیا تھا۔جس کے بعد ملک کے کئی شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے تھے اور دوہزار سے زائد انسانوں کی جانیں چلی گئیں تھیں۔پھر بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا تنازعہ ملک کی مختلف عدالتوں میں ایک عرصے سے چلتا رہا۔ بابری مسجد شہید کیۓ جانے کے 18سال کے بعد 30ستمبر 2010 ءکو الہ آباد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کی زمین  کو تین فریقین میں تقسیم کرنے کا ایک فصلہ سنایاتھا۔ہائی کورٹ نے متنازعہ زمین کا ایک حصہ مسلمانوں کو ایک حصہ ہندوؤں کو اور تیسرا حصہ بھگوان رام کو دینے کا حکم صادر کیا تھا۔ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔اور فی الحال یہ معاملہ ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے جنوری2019کے پہلے ہفتے میں بابری مسجد کے معاملے پر شنوائی کی بات کہی ہے ۔وہیں پر بی جے پی کے بڑے لیڈر  اور شیوسینا بجرنگ دل کے لیڈران 2019ء میں عام انتخاب ہونے سے پہلے رام مندر کے بنانے کی بات کررہے ہیں۔جس سے 2019ء کے عام انتخاب میں ہندوؤں کا ووٹ ایک بار پھر سے رام مندر  کے نام پر زیادہ سے زیادہ مل سکے ۔لیکن اب ہندوستان کی عام عوام انکے جھانسے میں نہیں آنے والی ہے۔حالانکہ یہاں سب سے اہم بات یہ ہیکہ اس پورے معاملے سے ایودھیا کے لوگ بہت مطلب نہیں رکھتے۔ایودھیا کے سینئر صحافی مہندر ترپاٹھی کہتے ہیں ۔کئی بار تو کوئی بڑا پروگرام ہوتا ہے اور اسکی شہرت ملک بیرون ملک میں میڈیا  و شوسل میڈیا کے ذریعے ہوتی ہے تو بھی یہاں کے لوگ سوال کرتے دیکھ تے ہیں ۔کہ کچھ ہورہا ہے کیا؟موجود حالات میں ایودھیا کے ہندوؤں اور مسلمانوں کی نہ تو اس معاملے میں دلچسپی ہے اور نہ ہی وہ بہت زیادہ ان جیسے پروگراموں میں شامل ہوتے ہیں۔ بابری مسجد کے اقبال انصاری کا بھی کہنا ہیکہ باہر چاہے جتنا ہی ایودھیا کے معاملے کو لیکر نفرت پھیلا دی جائے لیکن ایودھیا کے ہندو اور مسلمان پہلے بھی بھائی چارہ سے رہتے تھے اور آج بھی رہتے ہیں۔ایودھیا میں رہنے والے ایک سادھو کہتے ہیں۔ایودھیا میں مندر بنے گا یا مسجد بنےگی
یا پھر دونوں بنے گی ۔اسے طے کرنے میں ایودھیا کے لوگوں کا کوئی کردار ہی نہیں ہے۔انھیں تو بس آۓ دن سیاسی اور سیاست سے متاثر مذہبی ہلچلوں کی مصیبتوں سے ہی دو چار ہونا پڑتاہے ۔ایک اور سینیر صحافی شرد پردھان کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ آج اس پوزیشن میں آگیا ہیکہ حکومت میں بیٹھے یا حکومت سے جڑے کچھ لوگوں نے ہندو مذہب کی تعریف تک بدل ڈالی ہے ۔وہ کہتے ہیں ۔ایسے لوگوں کی نظر میں آج وہی ہندو ہے جو ایودھیا میں رام مندر تعمیر کروانے میں یقین رکھتا ہے ۔اور مندر بھی انہیں شرطوں پر جو انکے ذریعے رکھی گئی ہوں۔وہیں پر بابری مسجد انہدام کے وقت ایودھیا میں موجود 6دسمبر1992ء کے واقعات کو کور کرچکے سینئر صحافی اروند سنگھ کہتے ہیں کی اسوقت کارسیوک کا جنون نظم و ضبط کی ساری حدیں پارکرچکا تھا۔اسی جنون کا نتیجہ تھا کی بابری مسجد پل بھر میں زمین دوز کردی گئی۔اروند سنگھ کہتے ہیں  کہ اب نہ تو لوگوں میں وہ جنون ہے نہ ہی اتنی دلچسپی ہی ہے اور نہ ہی ایودھیا میں انکے لئے کرنے کو کچھ بچا ہی ہے۔ اروند سنگھ کہتے ہیں کہ دھرم سبھا میں اتنی کوششوں کے باوجود لوگوں کی وہ بھیڑ نہیں جمع ہو پائی جسکی وی ایچ پی اور سنگھ پریوار نے امید کی تھی۔1992 کے بعد ہرسال چھ دسمبر کو وشو ہندو پریشد ایودھیا میں یوم شجاعت  مناتی ہے ۔ شروع میں بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی جیسے بی جے پی کے کئی قدآور لیڈر اس یوم شجاعت کے پروگرام میں حصہ لیتے تھے۔لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کا جوش کم ہوتا گیا اور اب تو یہ صرف رسمی پروگرام کے ہی طور پر منعقد ہونے لگا ہے۔صحافی مہندر ترپاٹھی ہنستے ہوئے کہتے ہیں کی ان پروگرام میں تو کئی بار لوگوں سے زیادہ میڈیا والوں کی بھیڑ دیکھ تی ہے یہی حال اقبال انصاری اور حاجی یعقوب کے یہاں ہونے والے یوم سیاہ کے پروگرام کا بھی ہے۔
اس موقع پرمیڈیا سے متحدہ تحریک برائے بازیابی و تعمیر نو بابری مسجد کے کنوینر او ر راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر مولانا عامر رشادی مدنی نے کہا کہ 6دسمبر 1992 کا دن ہمارے ملک کا ایک سیاہ ترین دن تھا۔
جبکہ اس حادثہ کی انکوائری کرنے والے لبراہن کمیشن نے اپنے رپورٹ میں واضح کردیا کہ مسجد کو منصوبہ بند طریقہ سے منہدم کیا گیا اور اس کے لیے ذمہ دار افراد کی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی بھی کردی ہے، اب یہ مرکزی سرکار کا کام تھا کہ اس سلسلے میں بلا تاخیر کاروائی کرتی اور متاثرین کو انصاف دلاتی۔ اس موقع پرانھوں نے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ مسجد کی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کا جو وعدہ اس وقت کے وزیر اعظم نے کیا تھا اس پرکیاآج بھی موجودہ حکومت قائم ہے؟
اسی طرح معروف عالم دین آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بابری مسجد کے انہدام کو ہندوستان کی روشن تاریخ کا ایک سیاہ باب قرار دیا اور انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب داؤ پر لگ گئی ہے اور دنیا میں ملک کی بدنامی ہورہی ہے ،بابری مسجد کا مقدمہ عدالت میں ہے تمام مسلمانوں اور تنظیموں کی طرف سے باربار یہ اعلان آچکا ہے کہ عدالت عالیہ کا فیصلہ ہرحال میں منظور ہوگا۔ اسکے باوجود حکومت کے ہی لوگوں نفرت بھرے بیان بازی کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ لکھنؤ میں سماج وادی پارٹی کے سابق لیڈر شیوپال سنگھ کی نئی پارٹی (مورچہ ) نے یوم سیاہ کے طور پر 6دسمبر کا دن منایا.
دریں اثنا آج وشو ہندو پریشد نے ایودھیا میں ایک عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کا عہد دہراتے ہوئے ملک کے مختلف مقامات پر پوجا کی ہے۔