اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: مولانا اسرارالحق قاسمی نے سادگی کے ساتھ ملک و قوم کی بیش بہاخدمات انجام دیں!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 9 December 2018

مولانا اسرارالحق قاسمی نے سادگی کے ساتھ ملک و قوم کی بیش بہاخدمات انجام دیں!

ملی گرلز اسکول، کشن گنج میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد، مختلف علماء، دانشوران اور سماجی و سیاسی رہنماؤں کا اظہار خیال.

ابوامامہ صدیقی قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کشن گنج(آئی این اے نیوز 9/دسمبر 2018) ملک کے ممتاز عالم دین وممبر پارلیمنٹ حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی کی اچانک وفات سے پورے ہندوستان کے علمی، سماجی وسیاسی حلقے میں رنج و غم کی لہر دوڑگئی ہے اورہر چہارجانب مولانا کے ایصال ثواب کے لئے تعزیتی مجلسوں کا انعقاد ہورہاہے، اسی حوالہ سے آج حضرت مولانا مرحوم کے قائم کردہ ملی گرلز اسکول کے وسیع و عریض احاطے میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیاگیا،اس موقع پرسیمانچل کی بزرگ شخصیت اور دارالعلوم بہادر گنج کے ناظم مولانا انوار عالم نے کہاکہ اتنا بڑا مجمع اس بات کی علامت ہے کہ عوام مولانا سے بے لوث محبت کرتے تھے،مولانااخلاق و کردار میں اپنی مثال آپ تھے،کسی دوسرے کو ان کی نظیر میں پیش نہیں کیاجاسکتا،ان کی شخصیت ایسی تھی کہ کوئلے کی کان میں رہ کر بھی صاف رہے،اسی طرح وہ
سیمانچل کے ایسے واحد شخص تھے جنہیں ایشیاکی عظیم درسگاہ اور ان کی مادر علمی دارالعلوم دیوبند نے رکن شوری منتخب کیا،ان کی انکساری،تواضع ،سادگی،خوش اخلاقی ہم سب کے لئے قابل تقلیدتو ہے ہی ،مگر خاص طورپر سیاست دانوں چاہئے کہ وہ مولانا کی زندگی کو اپنے لئے نمونہ بنائیں،کیوں کہ مولانا مرحوم موجودہ سیاست دانوں کے بیچ شاید واحد ایسے انسان ہوں گے جنہوں نے ممبر پارلیمنٹ رہتے ہوئے بھی نہایت سادگی سے اپنی زندگی گزاری اور ذاتی طورپر ایک پیسے کا بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔انہوں نے کہاکہ حضرت کی زندگی میں ان کے بعض سیاسی مخالفین نے ان کے خلاف بے جا طعن و تشنیع اور دشنام طرازیاں بھی کیں جنہیں مولانانے کبھی ایک لفظ نہیں کہا،ان لوگوں کو چاہئے کہ اب جبکہ حضرت اس دنیامیں نہیں رہے اپنی اس غلط حرکت پر نادم و شرمندہ ہوں اوراللہ تعالیٰ سے معافی طلب کریں۔
اس موقع پر مولانا کے خادم خاص مولانا نوشیر احمد نے مرحوم کی زندگی پر مختصر روشنی ڈالتے ہوئے قوم و ملت کے تئیں ان کی بے مثال خدمات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ حضرت نے پوری زندگی جس جدوجہد ،قربانی اور قوم و ملت کی خدمت کرتے ہوئے بسر کی،وہ ہمارے لئے سبق ہے اور ہم سب عہد کرتے ہیں کہ حضرت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین و ملت کی خدمت کریں گے۔انہوں نے کہاکہ مولانا کی وفات ہم سب کے لئے ذاتی صدمہ ہے بلکہ یہ پورے ملک کے مسلمانوں کا ذاتی صدمہ ہے،کیوں کہ مولانا نے پوری زندگی تمام مسلمانوں کی خیر خواہی اور ان کی فکر مندی میں بسر کی اور ہمیشہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے میں سرگرم رہے۔انہوں نے مولانا کو حسن اخلاق اور شرافت نفس کا پیکر قراردیتے ہوئے کہاکہ ممبر پارلیمنٹ ہونے اور سیکڑوں اداروں کے سرپرست ہونے کے باوجود حضرت نہایت سادگی کے ساتھ زندگی گزارتے تھے اور ان کے طرز عمل میں کسی قسم کی شان و شوکت کا شائبہ بھی نہیں پایاجاتا تھا، موجودہ دور میں سادگی و انکساری اور بے ریا زندگی گزارنے میں ان کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔انہوں نے کہاکہ ان کے نزدیک پورا ملک ان کا اپنا گھر تھا اور ہر جگہ پہنچنا وہ اپنے لیے فرض عین سمجھتے تھے، انتہائی جفا کش تھے، ملک کے کسی بھی کونے سے کوئی بھی ان کو ملت کے کسی معمولی سے کام کے لیے بھی مدعو کرتا تو وہ ضرور حاضری دیتے تھے، وہ ذاتی آرام و آسائش پر جسمانی تکالیف کو اہمیت دیتے تھے،ان کی زندگی کا بس ایک مقصد تھا کہ اگر ان کی ذات سے کسی کو کوئی چھوٹا سا بھی فائدہ پہنچ جائے ،تو وہ اس کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔مولاناکے صاحبزادہ مولاناسعود اسرارندوی نے کہاکہ آپ حضرات نے میرے والد محترم کے ساتھ جس محبت و احترام کا معاملہ کیا اور ان پر اعتمادکیامیں کوشش کروں گا کہ ان کی جانشینی کرتے ہوئے آپ حضرات کے اعتماد پر کھرااتروں اور والد محترم نے عوامی خدمات کا جو مضبوط سلسلہ قائم کیاتھا،اسے اسی طرح جاری و ساری رکھوں۔بائسی ودھان سبھا کے سینئرکانگریس لیڈرنثاراحمدنے حضرت کے ساتھ اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ جس طرح سے مریضوں اور غریبوں کی خدمت کرتے تھے،اسی طرح میں بھی حضرت کی اس روایت کو جاری رکھوں گا اور میں چوں کہ دہلی میں رہتاہوں تومیں وہاں حضرت کی نسبت سے مریضوں کی خدمت پہلے کی طرح ہی کرتارہوں گا ،اس میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ مولاناکے چھوٹے بھائی اور بہار کے سابق وزیر زاہدالرحمن نے کہاکہ میرے بھائی نے مجھے جوتربیت دی ہے اور جس انداز میں انہوں نے عوام اور دبے کچلے طبقے کی خدمت کی ہے اس سلسلے کوانشاء اللہ جاری رکھوں گا ۔ اجلاس میں کانگریس کے اپوزیشن لیڈروسابق مرکزی وزیرملک ارجن کھڑگے،گلبرگہ کے ایم ایل سی اقبال سرڑگی،کرناٹک کے سابق وزیر قمرالاسلام مرحوم کی اہلیہ اور جمعیۃ علماء گلبرگہ کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے محمد عبدالمقتدر الیاس نے شرکت کی اور ان کی طرف سے تعزیتی پیغام پیش کرتے ہوئے مولانا اسرارالحق قاسمی کی علمی،دینی،سماجی و سیاسی قربانیوں اور ملک و قوم کی خدمت کے لئے ان کی جدوجہد کو مثالی و تاریخی قراردیتے ہوئے کہاکہ مولانا جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور آپ کی وفات سے ہندوستانی مسلمانوں نے اپنا ایک سچا و مخلص رہنما کھو دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ مولانا کے بعض سیاسی مخالفین نے کشن گنج کے علاوہ حیدرآباد کے علاقے میں بھی مولانا کے خلاف بدزبانی کی اور بے بنیاد الزامات لگائے، مگرجب اس سلسلے میں حضرت کو پتاچلاتوآپ نے فرمایاکہ انہیں جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے، میں اپنا اوران کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرتاہوں۔ اس موقع پر دیگر مختلف علماء، ائمۂ مساجد، دانشوران اورسماجی وسیاسی رہنماؤں نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیاجن میں جناب میراۃ الحق، للت متل، وندو با بو، مفتی ابصار، مفتی اظہار، مولانا مسعود، مولانا مناظر، مفتی اطہر جاوید، قاضی عارف، اخترالایمان، محمد فہد، محمد سہیل اختر، محمد فیصل، فیضان ندوی، جناب عمران صاحب ضلع پاریشد وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
اخیر میں مولانا کے برادر خورد زاہد الرحمن اور مولانا سعود عالم ندوی ازہری نے تمام دور دراز علاقہ سے تشریف لائے مہمانوں کا شکریہ ادا کیااور مولانا انوار عالم کی رقت آمیز دعاء پر نشست کا اختتام ہوا۔