محمد صدرعالم نعمانی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سیتامڑھی(آئی این اے نیوز 9/دسمبر 2018) ملک کے معروف دینی ملی رہنما، نامور صحافی و ادیب، بہترین خطیب، کئی کتابوں کے مصنف، دارالعلوم دیوبند کے رکن شوری، جمعیت علماء ہند کے سابق جنرل سکریٹری، آل انڈیا تعلیمی ملی فاونڈیشن کے روح رواں، درجنوں مدارس ومکاتب کے سرپرست، مشہور سیاسی وسماجی رہنما اور کشن گنج بہار پارلیمانی حلقہ سے دوبار پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے کا اعجاز حاصل کر نے والے، بزرگ عالم دین، اکابر علماء ومشائخ کی یادگار،
ملت کی بے باک آواز حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی کا انتقال امت کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے، مولانا قاسمی کی بے داغ زندگی تھی، سیاست میں ہونے کے باوجود بھی آج کے سیاسی ماحول کے تعفن سے وہ پاک تھے، بہت بلند اور بالا ان کا کردار تھا، ان خیالات کا اظہار حضرت مولانا شاہ احمد نصر بنارسی سجادہ نشیں خانقاہ امدادیہ بنارس، خلیفہ مسیح الامت حضرت مولانا شاہ مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کیا ہے، انہوں نے کہا کہ مولانا قاسمی اخلاص کا پیکر تھے، خاکساری وانکساری ان کی رگوں میں تھی، وہ اسلاف کے نمونہ تھے، وہ سیاست کے اعلی مقام پر ہونے کے بعد بھی اپنے دامن کو صاف رکھے ہوئے تھے، انہوں نےکہاکہ مولانا ان سے بے پناہ محبت فرماتے تھے، میری خدمات کی بھی بہت قدر کیا کرتے تھے، جب بھی کہیں جلسے میں ملاقات ہوتی تو بڑی عقیدت ومحبت کے ساتھ ملتے اور بہت دعائیں دیتے تھے، مولانا قاسمی ملت کے محسن تھے، مولانا بہت ہی ملنسار، مخلص اور غمگسار تھے، سادگی کے ساتھ پوری زندگی بسر کی یہی وجہ ہے کہ وہ ہر طبقے میں یکساں مقبول و محبوب تھے، مولانا قاسمی دین کے داعی کی حیثیت سے اپنی حیات کے آخری شب میں بھی امت سے خطاب کرتے ہوئے قال اللہ وقال الرسول کا مزدہ سنا گئے، تہجد کی نماز ادا کرتے ہی ملک الموت نے انکی روح قبض کرلی، مولانا احمد نصر بنارسی نے مولانا قاسمی کے صاحب زادگان مولانا سعود عالم ندوی، فہد عالم اور حافظ نوشیر احمد ودیگر پسماندگان سے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی مولانا مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان پر رحم فرما کر اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطاء فرمائے، اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سیتامڑھی(آئی این اے نیوز 9/دسمبر 2018) ملک کے معروف دینی ملی رہنما، نامور صحافی و ادیب، بہترین خطیب، کئی کتابوں کے مصنف، دارالعلوم دیوبند کے رکن شوری، جمعیت علماء ہند کے سابق جنرل سکریٹری، آل انڈیا تعلیمی ملی فاونڈیشن کے روح رواں، درجنوں مدارس ومکاتب کے سرپرست، مشہور سیاسی وسماجی رہنما اور کشن گنج بہار پارلیمانی حلقہ سے دوبار پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے کا اعجاز حاصل کر نے والے، بزرگ عالم دین، اکابر علماء ومشائخ کی یادگار،
ملت کی بے باک آواز حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی کا انتقال امت کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے، مولانا قاسمی کی بے داغ زندگی تھی، سیاست میں ہونے کے باوجود بھی آج کے سیاسی ماحول کے تعفن سے وہ پاک تھے، بہت بلند اور بالا ان کا کردار تھا، ان خیالات کا اظہار حضرت مولانا شاہ احمد نصر بنارسی سجادہ نشیں خانقاہ امدادیہ بنارس، خلیفہ مسیح الامت حضرت مولانا شاہ مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کیا ہے، انہوں نے کہا کہ مولانا قاسمی اخلاص کا پیکر تھے، خاکساری وانکساری ان کی رگوں میں تھی، وہ اسلاف کے نمونہ تھے، وہ سیاست کے اعلی مقام پر ہونے کے بعد بھی اپنے دامن کو صاف رکھے ہوئے تھے، انہوں نےکہاکہ مولانا ان سے بے پناہ محبت فرماتے تھے، میری خدمات کی بھی بہت قدر کیا کرتے تھے، جب بھی کہیں جلسے میں ملاقات ہوتی تو بڑی عقیدت ومحبت کے ساتھ ملتے اور بہت دعائیں دیتے تھے، مولانا قاسمی ملت کے محسن تھے، مولانا بہت ہی ملنسار، مخلص اور غمگسار تھے، سادگی کے ساتھ پوری زندگی بسر کی یہی وجہ ہے کہ وہ ہر طبقے میں یکساں مقبول و محبوب تھے، مولانا قاسمی دین کے داعی کی حیثیت سے اپنی حیات کے آخری شب میں بھی امت سے خطاب کرتے ہوئے قال اللہ وقال الرسول کا مزدہ سنا گئے، تہجد کی نماز ادا کرتے ہی ملک الموت نے انکی روح قبض کرلی، مولانا احمد نصر بنارسی نے مولانا قاسمی کے صاحب زادگان مولانا سعود عالم ندوی، فہد عالم اور حافظ نوشیر احمد ودیگر پسماندگان سے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی مولانا مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان پر رحم فرما کر اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطاء فرمائے، اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین.