از قلم: شہاب الدین قاسمی متعلم دہلی یونیورسٹی
ــــــــــــــــــــــــــــ
آفاق عالم میں مسلمانوں کے لئے یہ وقت بڑا سخت اور پریشان کن ہے دنیا کے کسی علاقے کا آ پ دورہ کر لیجیےہر چہار جانب مسلمانوں کو لقمہ بنانے کی کوشش جاری ہےان کے مسیحا کو ہمیشہ کے لئے گہری نیند سولایا جارہا ہے، ان کے نوجوانوں کو قید بامشقت سلاخوں کے پیچھے ڈالا جا رہا ہے، اور ہمارے نام نہاد مسلم قائدین حضرات ان کے مقدموں کے ذریعہ ووٹ بینکنگ کا بازار گرم کر رہے ہیں،
جبکہ پوری دنیا کے مذاہب مسلمانوں کو روۓ زمین سے ناپید کرنے کے درپے ہیں اور یہ لوگ اس کے لیے وہ تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں جو یہ لا سکتے ہیں، آپ دنیا کے کسی خطے چلے جائیں، وہاں مسلم مخالف تنظیمیں مسلمانوں کو نیست و نابود کر نے کے لئے اپنی تمام تر طاقتیں صرف کر تی ہوئ نظرآئ گی ایسے حالات میں اسلامی ممالک کے بادشاہوں کو کس طرح تعیش کے خواب غفلت سے بیدار کر وں ماضی یاد دلا کریا مستقبل کا نقشہ بنا کر کہ زیادہ مغرور نہ ہوں ان کے بعد آپ ہی کی باری ہیں، اگر یقین نہیں ہو رہا ہے تو ایک بار تاریخ کی ورق گردانی کیجئے، ایسے میں ہادئ رہبر محسن انسانیت جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے کے پیش نظر ہر شخص ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اسلامی اور انسانی فریضہ سے پیٹھ نہ پھیریے، پھر رہنمایان قوم کی ذمہ داریاں تو اور بڑھ جاتی ہے، قائدین ملت کا دائرہ مزید بڑھ جاتاہے مگر افسوس یہ ہےکہ مسلمان جتنے غفلت میں ہے قائدین قوم اس سے زیادہ مدہوش ہیں۔اولا تو اس سے اپنے اطراف وجوانب کی خبر نہیں ،ثانیا حوس زر نے اس کے فکر وعمل کی قوتیں چھین لی ہے، رہنمائی کا دعویدار ہر شخص آرام دہ (تعیش) زندگی کے لئے قوم کی خرید وفروخت میں مصروف ہے،اپنے مفادات کے طلب میں وہ اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ قوم کی لاش پر کھڑے ہو کر بھی اس کا جذبہء منفعت ہلکا نہیں پڑتا، قوم تباہ ہو ،ہلاک وبرباد ہو بے عزت وبے نشان ہو ہمارے مخلص قائد اعظم کو اس کی ذرا بھی فکر نہیں۔وہ دونوں ہاتھوں سے روپیہ بٹور نے کو قیادت کا جزء لاینفک سمجھتا ہے، موجودہ دور کے نام نہاد مسلم قائدین سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حفاظت فرمائے،کہ شریف چہروں اور اجلے لباسوں میں رہزن دوڑ رہے ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
آفاق عالم میں مسلمانوں کے لئے یہ وقت بڑا سخت اور پریشان کن ہے دنیا کے کسی علاقے کا آ پ دورہ کر لیجیےہر چہار جانب مسلمانوں کو لقمہ بنانے کی کوشش جاری ہےان کے مسیحا کو ہمیشہ کے لئے گہری نیند سولایا جارہا ہے، ان کے نوجوانوں کو قید بامشقت سلاخوں کے پیچھے ڈالا جا رہا ہے، اور ہمارے نام نہاد مسلم قائدین حضرات ان کے مقدموں کے ذریعہ ووٹ بینکنگ کا بازار گرم کر رہے ہیں،
جبکہ پوری دنیا کے مذاہب مسلمانوں کو روۓ زمین سے ناپید کرنے کے درپے ہیں اور یہ لوگ اس کے لیے وہ تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں جو یہ لا سکتے ہیں، آپ دنیا کے کسی خطے چلے جائیں، وہاں مسلم مخالف تنظیمیں مسلمانوں کو نیست و نابود کر نے کے لئے اپنی تمام تر طاقتیں صرف کر تی ہوئ نظرآئ گی ایسے حالات میں اسلامی ممالک کے بادشاہوں کو کس طرح تعیش کے خواب غفلت سے بیدار کر وں ماضی یاد دلا کریا مستقبل کا نقشہ بنا کر کہ زیادہ مغرور نہ ہوں ان کے بعد آپ ہی کی باری ہیں، اگر یقین نہیں ہو رہا ہے تو ایک بار تاریخ کی ورق گردانی کیجئے، ایسے میں ہادئ رہبر محسن انسانیت جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے کے پیش نظر ہر شخص ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اسلامی اور انسانی فریضہ سے پیٹھ نہ پھیریے، پھر رہنمایان قوم کی ذمہ داریاں تو اور بڑھ جاتی ہے، قائدین ملت کا دائرہ مزید بڑھ جاتاہے مگر افسوس یہ ہےکہ مسلمان جتنے غفلت میں ہے قائدین قوم اس سے زیادہ مدہوش ہیں۔اولا تو اس سے اپنے اطراف وجوانب کی خبر نہیں ،ثانیا حوس زر نے اس کے فکر وعمل کی قوتیں چھین لی ہے، رہنمائی کا دعویدار ہر شخص آرام دہ (تعیش) زندگی کے لئے قوم کی خرید وفروخت میں مصروف ہے،اپنے مفادات کے طلب میں وہ اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ قوم کی لاش پر کھڑے ہو کر بھی اس کا جذبہء منفعت ہلکا نہیں پڑتا، قوم تباہ ہو ،ہلاک وبرباد ہو بے عزت وبے نشان ہو ہمارے مخلص قائد اعظم کو اس کی ذرا بھی فکر نہیں۔وہ دونوں ہاتھوں سے روپیہ بٹور نے کو قیادت کا جزء لاینفک سمجھتا ہے، موجودہ دور کے نام نہاد مسلم قائدین سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حفاظت فرمائے،کہ شریف چہروں اور اجلے لباسوں میں رہزن دوڑ رہے ہیں ۔