اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: تالی کپتان کو.....

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 12 December 2018

تالی کپتان کو.....

حافظ شاداب محمدی
ــــــــــــــــــــــــــــــ
لَنکا ڈھ گئی، راون جل گیا، غرور ہار گئی اور سچ کی جیت ہوئی، کسی نے کہا بھائی یہ چناؤ دوسرے فیکٹ کے تحت لڑے جاتے ہیں اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ مودی میجک کم ہوگئی ہے، سچ ہے اسلئے کہ جیت کانگریس کی ہوئی ہے اگر یہاں بھاجپا جیتتی تو مودی میجک ہوتا.
اف.......! جب جیتے تو مودی سکندر، ہار گئے تو سہرا فیکٹ کے گلے باندھ دیا یہ کہاں کا انصاف ہے، صاف کہیے کہ اس بار مودی کو راہل نے ہرا دیا، ”جب تالی کپتان کو تو گالی بھی کپتان کو“ کل تک جو کیمرہ کو تلاش کرتے تھے آج کیمرہ منتظرِ راہ ہے پر کیوں دکھے صاحب، پاترا ووترا بھی سرے سے غائب ہے، ایسے موقع پر پاکستان بھیجنے والے  شاہنواز، عباس نقوی اور متھم ذات یوگی، شاہ اور طعنہ شاہ کو کون بھول سکتا ہے پر کل سے آج تک شوق ہی کہ ذرا صنم کا دیدار ہو، پر معلوم نہیں کیوں یہ ہار باعثِ شرمندگی وعار ہے کہ صاحبان، قدر دان ہماری نظر سے دور ہیں ہمیں افسوس ہے.
اُدھر جسے شاہ اور طعنہ شاہ نے پپو، چھپو کہہ کر سر اسٹیج وپریس رسوا اور ذلیل کیا، آج وہ گلے کا ہڈی بنا ہوا ہے ”نہ نِگلے بنے نہ اُگلے بنے“ ایک کام کریں الٹی کرلیں راجنیتی میں سب جائز ہے.
سمجھئے، جانئے، سیکھئے گدھا شیر کا چولا پہن کر کب تک شیر کہلائے گا حقیقت کھلی تو بینڈ بج سکتی ہے.
غرور، اَہنکار، ظالمیت، فساد، ہندو مسلم، مندر، مسجد، گائے وائے، گنگا دنگا کب تک یہ آپ کیلئے باعث خیر ہوں گے، "یہ جمہوری ملک ہے" جب قوم سمجھ لے تو آپ کو سِرے سے اَلوداع...
15 سال جس چھتیس گڑھ کو اپنا قلعہ سمجھا اس میں بھگوائیوں کو پنجے نے شکنجے میں لے لیا، گود بھرائی کا رسم بھی ادا نہیں کرنے دی، بَدھائی کی بات کرتے کرتے بِدائی کی تیاری ہوگئی، حد ہوگئی جہاں ساری طاقت جھونکی گئی وہاں رسوائیوں نے قدم بوسی کی.
وسندھرا جی ان کا کیا کہنا یہ 200 سیٹ جیتنے کا دم بھر رہی تھی سارا داؤ پیچ آزما لیا ہوا یہ کہ راجستھانیوں کے ہتھے چڑھ گئی، بے بی کو بِیس پسند نہ آیا اور تو اور جب کوئی نگاہ کرم اہل راجستھان کیطرف سے نہ دکھی تو انتظارِ رزلٹ کے بغیر ہی جی نے  استعفی راج پال کو سونپ دیا.
اچھا کیا.....
ہوشیاری، مکاری، عیاری کی یہ علامت ہے جی صاحبہ کافی سمجھ دار ہیں انہیں معلوم تھا اب ہمیں نہ بخشا جائیگا اسلئے کے اقتدار میں رہ کر انہوں بہت گل کھلائے ہیں، شمبھولال جیسا ریگر ان ہی کا دین ہے جس نے ایک بےبس ولاچار اور مظلوم مسافر بنگالی مزدور کا بے دردی سے قتل کیا اور پھر مستزاد اسے سماج میں نشر بھی کیا.
اسی طرح ہر ہفتہ، مہ و سال کئی ایک فساد بطن سے جنم دیتی رہی جو ایک جمہوری ملک اور نظام ملک کیلئے ایک عظیم خطرہ کی نشانی ہے.
چھتیس گڑھ کے بعد جی نے بھی کہا تو چل میں بھی راجستھان سے آتی ہوں، رہا مدھیہ پردیش تو دیکھئے کیا ہوتا ہے اس بارے صرف اتنا "جب تک بھاجپا نا جیت جائے چناؤ آیوگ گنتی سے نہیں رکے گی".
بات صرف یہ ہے مودی ہار بھی سکتا ہے، میجک فیل ہوا چاہتا ہے، ہوا سمت بدل سکتی ہے اور اس زمین نے بڑے اور بُرے سب نیتاؤں کو دیکھا ہے.
یہ کس نے کہہ دیا مودی آپراجِت ہیں
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
تالی کپتان کو تو گالی بھی کپتان کو