سمستی پور(آئی این اے نیوز 12/دسمبر 2018) ایک عالمِ دین اور دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے پر فرض ہیکہ اللہ کے حکم کو اس طرح بیان کرے یا خاموشی سے عملاً پہنچایا جائے جیساکہ اسکا حق ہے، کسی سے ڈرے بغیر حالات چاہے جو بھی ہوں، گردشِ ایام سے مدمقابل ہوکر ہی پیغام خداوندی کی اشاعت کرنا دین کی بنیادی جدوجہد ہے، جس کا عملی نمونہ بخوبی الامداد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے سکریٹری و ناظم اعلیٰ جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور، کرھوا برہیتا کلیانپورسمستی پور کے بانی قاری ممتاز احمد جامعی مختلف شعبہائے دین کی خدمت کرکے پیش کر رہے ہیں،
جن میں سب سے اہم اور پیدرانہ شفقت سے بڑھی ہوئی ذمہ داری طالبان علومِ نبوت اور جگر گوشہ قوم کی علمی و عملی تربیت کرنا ہے، کیونکہ یہی علمِ نبوت کے متحمل مزاج بچے قوم کی اصل پونجی اور ملک وملت کےروشن مستقبل ہوں گے، جبکہ باشعور سربراہان وہی ہوتے ہیں جو قوم کی پونجی اور سرمایہ کی بدرجہ اتم حفاظت کے لیے گاہے بگاہے نگرانی کرے، اسی لیے آج مورخہ ٤ ربیع الاخر سنه ١٤٤٠ھ بمطابق ١١ دسمبر2018 کو بصورتِ ششماہی امتحان چند معتبر راہنمایان قوم نے جامعہ کے طلباء و طالبات کا علمی وعملی اور وضع وقطع کا جائزہ لیکر اظہارِ اطمینان فرمایا.
اس موقع پر گرد و نواح کے کئی ممتاز شخصیت موجود تھے، اور بحیثیت ممتحن مولانا احسان صاحب قاسمی امام و خطیب جامع مسجد چکمہیسی، مولانا عبدالعلام صاحب نرسرا، حافظ مصطفےٰ صاحب چکمہیسی، حافظ مراد صاحب امام مسجد سیدپور، حافظ فخر عالم صاحب امام مسجد بیلسنڈی، قاری حسین صاحب امام مسجد پرستم پور، مولانا عبدالرحمن صاحب امام مسجد چکمہیسی مدعو تھے، سب نے حسنِ تاثر کا اظہار فرماکر مستقبل میں خوش آئندہ سازگار حالات کے اشارے دیے، بعد امتحان تشریف لائے تمام علماء و ائمہِ مساجد اور اساتذہ کی موجودگی میں رائے عامہ کی مختصراً نششت لگی سبھی قابلِ قدر علماء نے اپنے قیمتی مشورے سے جامعہ و اساتذہ اور ناظم جامعہ کو نوازا اور مستقبل قریب میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی خاطر دست بدعا رہے امتحان کی تمام تر کامیابی اور مہمانوں کے استقبال میں اساتذہ کرام مولانا جسیم الدین قاسمی حافظ اخلاق حافظ خلیق ماسٹر دیپک وغیرہ پیش پیش رہے.
آخر میں جامعہ کے معاون خاص ابوذر عرف ببلو نے مہمان علما کرام کا شکریہ ادا کیا.
جن میں سب سے اہم اور پیدرانہ شفقت سے بڑھی ہوئی ذمہ داری طالبان علومِ نبوت اور جگر گوشہ قوم کی علمی و عملی تربیت کرنا ہے، کیونکہ یہی علمِ نبوت کے متحمل مزاج بچے قوم کی اصل پونجی اور ملک وملت کےروشن مستقبل ہوں گے، جبکہ باشعور سربراہان وہی ہوتے ہیں جو قوم کی پونجی اور سرمایہ کی بدرجہ اتم حفاظت کے لیے گاہے بگاہے نگرانی کرے، اسی لیے آج مورخہ ٤ ربیع الاخر سنه ١٤٤٠ھ بمطابق ١١ دسمبر2018 کو بصورتِ ششماہی امتحان چند معتبر راہنمایان قوم نے جامعہ کے طلباء و طالبات کا علمی وعملی اور وضع وقطع کا جائزہ لیکر اظہارِ اطمینان فرمایا.
اس موقع پر گرد و نواح کے کئی ممتاز شخصیت موجود تھے، اور بحیثیت ممتحن مولانا احسان صاحب قاسمی امام و خطیب جامع مسجد چکمہیسی، مولانا عبدالعلام صاحب نرسرا، حافظ مصطفےٰ صاحب چکمہیسی، حافظ مراد صاحب امام مسجد سیدپور، حافظ فخر عالم صاحب امام مسجد بیلسنڈی، قاری حسین صاحب امام مسجد پرستم پور، مولانا عبدالرحمن صاحب امام مسجد چکمہیسی مدعو تھے، سب نے حسنِ تاثر کا اظہار فرماکر مستقبل میں خوش آئندہ سازگار حالات کے اشارے دیے، بعد امتحان تشریف لائے تمام علماء و ائمہِ مساجد اور اساتذہ کی موجودگی میں رائے عامہ کی مختصراً نششت لگی سبھی قابلِ قدر علماء نے اپنے قیمتی مشورے سے جامعہ و اساتذہ اور ناظم جامعہ کو نوازا اور مستقبل قریب میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی خاطر دست بدعا رہے امتحان کی تمام تر کامیابی اور مہمانوں کے استقبال میں اساتذہ کرام مولانا جسیم الدین قاسمی حافظ اخلاق حافظ خلیق ماسٹر دیپک وغیرہ پیش پیش رہے.
آخر میں جامعہ کے معاون خاص ابوذر عرف ببلو نے مہمان علما کرام کا شکریہ ادا کیا.
