حافظ عقیل احمد خان
ــــــــــــــــــــــــــــــ
سنت کبیر نگر آئی ین اے نیوز 15/دسمبر 2018) یہ حقیر اگر چہ اس کا اہل نہیں کہ علامۂ وقت حضرت مولانا صادق علی صاحب صادق قاسمی بستوی رحمۃ اللہ علیہ جیسی جلیل القدر شخصت پر خامہ فرسائی کرے،
مگر محرومیوں کا سفر طویل ہے، مایوسیوں نے چارو طرف سے گھیر رکھا ہے، علم و عرفان، تقوی و تقدس کے ایک باب کا خاتمہ ہوا، صدق و امانت کا ایک اور ستارہ آسمان سے ٹوٹا ایک اور عظیم شخصیت حضرت علامۂ صادق علی صاحب صادق قاسمی بستوی (بتاریخ 15دسمبر 2018بروز سنیچر بوقت صبح ۱۰ بجے ) ہمارے درمیان سے اٹھ گئے، تقوی و طہارت کا پیکر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوگیا، اسلاف کی یاد گار ہم کو روتا بلکتا چھوڑ گیا، حضرت مولانا کی صحت سے ایسا اندازہ بلکل نہیں ہوتا تھا کہ وہ اتنی جلدی داغ مفارقت دے جائیں گے لیکن قدرت کے فیصلے ہمارے قیاسات و خواہشات اور تخمینوں سے ماوراء ہوتے ہیں، اس دنیاں میں ہر شخص زندگی کے گنے چنے سانس لیکر آیا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس میں کمی زیادتی نہیں کرسکتی، حضرت مولانا کی شخصیت اس دورِ قحط الرجال میں ایسی بڑی نعمت تھی کہ اس پر حق شکر ادا نہیں ہوتا، مولانا کی خدمت میں حاضر ہوکر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے مسافر کو چلچلاتی دھوپ میں جھلسنے کے بعد ٹھنڈی اور گھنی چھاؤں میسر آگئی ہو، حضرت مولانا اسم بامسمی ظاہر و باطن میں صادق اور پیکر خلوص للہیت تھے، نام و نمود کی اس دنیا میں جہاں شخصیتوں کو سستی شہرت اور پلبسٹی کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے، حضرت مولانا کو عوامی سطح پر تو بہت زیادہ جاننے والے نہیں تھے لیکن اصلاح و ارشاد کی نسبت سے آپ کی شخصیت اس وقت مرجع خلائق تھی یہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ جو شخص اللہ کا ہوجائے وہ اپنی ذات کو کتنا بھی چھپانے کی کوشش کرے تاہم اسکی سیرت و کردار اور عند اللہ مقبولیت و محبوبیت کی خوشبو دور دور تک پہنچ کر رہتی ہے، حضرت مولانا ان نفوس قدسیہ میں سے تھے جن کا وجود بہت سے فتنوں کے لئے آڑ بنا رہتا ہے اور اس پر آشوب دور میں جن کے تصور سے قلب کو تسکین ہوا کرتی ہے، آپ کا وجود امت کے لئے رحمتوں اور برکتوں کا باعث تھا
اس علامۂ وقت کو اللہ نے جن خوبیوں سے نوازا تھا ان کا احاطہ اس مختصر سے مضمون میں ناممکن ہے، دست قدرت نے ان کی ذات میں فقہ و تصوف تفسیر و بدیع بیان، ادب، فلسفہ، شاعری، انشاء پردازی، صرف، نحو، منطق بلاغت و معانی مضامین ہئیت، اقلیدس، عروض اور دیگر علوم عقلیہ و نقلیہ کمال جامعیت کے ساتھ و دیعت کر رکھے تھے
آپ صبر و شکیبائی فکر و تدبر زہد و قناعت رضا بالقضاء، خلوص و مروت، سنجیدگی و متانت ایثا و ہمدردی محبت و مؤدت عاجزی وانکساری شہرت و ناموری سے دوری تکبر و تعلی سے پرہیز دولت و ثروت سے احتراز ریاضت و مجاھدہ نفس کشی اور پاکیز گئی اخلاق جیسی خدا جانے کتنی متنوع رنگا نگ اور مختلف اقسام و صفات و میزات کا مجموعہ تھے.
حضرت مولانا اپنی بہت سی امتیازی خصوصیت کے ساتھ کہنۂ مشق قلم کار اور انشاء پرداز اور پختہ کار تھے محقق و مدقق مصنف کی حیثیت سے طبقۂ علما و اہل علم و دانش میں ممتاز شناخت رکھتے تھے اردو و عربی کا گہرا مطالعہ کر کے علمی ادبی تاریخی شعبوں میں اپنے قلم کے جوہر دیکھائے جو خاصی تعداد میں جامع مضامین مقالۂ جات اور علمی تحریرات کی شکل میں موجود ہیں اور پھر بڑی عرق ریزی، بالغ نظری اعلی حوصلگی کے ساتھ غیر منقوط داعئ اسلام (نثر) تحریر فرمائی اور شعر و شاعری کے بھی اعلی معیاری زخیرے آپ کے ذوق تحقیق کے آۂینہ دار ہیں.
حضرت مولانا سادہ مزاجی کے بھی امین تھے، انکی سادہ مزاجی کی قسم اب جب میں دریائے محبت کا تصور کرتا ہوں تو اس کی پاکیزہ لہروں سے نکل کر ایک نورانی چہرا مہری پیٹھ تھپتھپا کر مجھے دلاسہ دیتا ہوا نظر آتا ہے اور میرے اشک عقیدت اس درویش صفت چہرے کے قدموں کو چوم کر ہوا کے جھونکوں سے آگے نکل جاتے ہیں اور ایک زمانہ گزر جاتا ہے، پھر ماضی قریب کا موسم میری یادوں کو گدگداتا ہے اور میں دور ایک سہانی وادی میں جا بستا ہوں جہاں پر خوشبو کی پلکوں پر ایک ہی جملہ لکھا ہوا مجھے ملتا ہے "اے سادہ مزاجی کے امین تجھ پر سلام" اس جملہ کو پڑھنے کے بعد میری یادوں کی پرتیں ایک کے بعد ایک کھلنے لگتی ہے اور میری انکھوں کے سامنے علامۂ وقت حضرت مولانا صادق علی صاحب صادق قاسمی بستوی رحمۃ اللہ علیہ کا چہرۂ انور آجاتا ہے آپ نے تاریخ اسلام کا ایک خصوصی باب اپنی عملی زندگی کے قلم سے جس طرح دہرایا ہے اور سادگی و انکساری کی جو نظیریں ہمارے سمانے عملی طور پر جو پیش کی ہیں اس نے تاریخ اسلام کا اقبال اور بلند کردیا ہے اللہ تعالی کے اخری نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر خلفائے راشدین نے صبر و قناعت اور سادگی و تواضع کا جو معیار قائم کیا تھا، اسی معیار پر علامۂ وقت حضرت مولانا صادق علی صاحب صادق قاسمی بستوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کا اشیانہ تعمیر کیا تھا حالانکہ حضرت مولانا کے پاس ایسے جاں نثاروں کی ایک مضبوط ٹیم تھی جو آپ کے ایک اشارے پر اعلی ترین لباس کا انبار اور مرغ و مسلم کا ایک جہانِ کر و فر نیز فلک بوس عمارتیں اور عیش و ارام کے سمندر مہیا کر سکتی تھی لیکن آپ نے کبھی ان چیزوں کا تصور و خواہش تک نہیں کی بلکہ بعض اوقات تو آپ اپنے خالی شکم پر ہی حضرت ایوب علیہ السلام کی داستانِ صبر تحریر فرماتے رہے.
آپ ہمیشہ خوش پوش رہے ہیں لیکن آپ کا لباس درویشانہ ہی رہا اور آپ اپنے دسترخوان پر جو کھانا تناول فرماتے رہے وہ بلکل سادہ ہوتا تھا اگر میں اسکو غریب عوام کے کھانے کا نام دوں تو شاید بیجا نہ ہوگا
آج تک سادہ مزاجی کی عزت و توقیر ایسے ہی شہنشاہ صبر و قناعت کے دم پر قائم ہے مولانا کی سادگی آپ کے آخری سفر میں صاف طورپر نظر آرہی تھی ہزاروں عقیدت مند اس سادہ انسان کے اخری سفر میں شریک ہوکر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے نظر آئے، اللہ اللہ کیا سادگی کی شان ہے، لیکن حضرت مولانا کی اس جدائی پر خاندان و علاقے اور تمام عوام و خواص پر رنج و الم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا کسی کا دل شکستہ اور چہرا غمگین تھا کسی کی انکھوں میں انسون تلملا رہے تھے اور کسی کی انکھوں سے جھلک کر باہر آرہے تھے کوئی بے اختیار پھوٹ پھوٹ کو رورہا تھا کوئی دل میں رنج و غم لئے بیٹھا تھا.
الغرض پورے علاقے میں کہرام سا مچا ہوا تھا پورے علاقے نے حضرت مولانا کے سانحۂ ارتحال کو بڑے رنج و غم کے ساتھ محسوس کیا اور ہر ایک نے وفات کے صدمہ کو اپنے اپنے انداز سے ظاہر کیا.
حضرت مولانا کی جسد خاکی کو ان کے ابائی گاؤں دریا آباد لایا گیا، آخری دیدار و زیارت کے لئے اطراف و جوانب سے متوسلین و متعلقین عوام و خواص کا ایک ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر امڈ پڑا اور عوام خواص کا یہ سیلاب بڑھتا ہی جا رہا تھا ہر ایک آتا اور اپنے محبوب کی آخری زیارت کرتا اور بلا اختیار آنکھیں آبدیدہ ہوجاتی.
نماز جنازہ کے لیے 4 بجے کا وقت متعین ہوا جنازہ قبرستان لایا گیا اور لاکھوں سوگواروں نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ کے آبائی گاؤں دریا آباد میں آپ کی تدفین عمل میں آئی.
ــــــــــــــــــــــــــــــ
سنت کبیر نگر آئی ین اے نیوز 15/دسمبر 2018) یہ حقیر اگر چہ اس کا اہل نہیں کہ علامۂ وقت حضرت مولانا صادق علی صاحب صادق قاسمی بستوی رحمۃ اللہ علیہ جیسی جلیل القدر شخصت پر خامہ فرسائی کرے،
مگر محرومیوں کا سفر طویل ہے، مایوسیوں نے چارو طرف سے گھیر رکھا ہے، علم و عرفان، تقوی و تقدس کے ایک باب کا خاتمہ ہوا، صدق و امانت کا ایک اور ستارہ آسمان سے ٹوٹا ایک اور عظیم شخصیت حضرت علامۂ صادق علی صاحب صادق قاسمی بستوی (بتاریخ 15دسمبر 2018بروز سنیچر بوقت صبح ۱۰ بجے ) ہمارے درمیان سے اٹھ گئے، تقوی و طہارت کا پیکر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوگیا، اسلاف کی یاد گار ہم کو روتا بلکتا چھوڑ گیا، حضرت مولانا کی صحت سے ایسا اندازہ بلکل نہیں ہوتا تھا کہ وہ اتنی جلدی داغ مفارقت دے جائیں گے لیکن قدرت کے فیصلے ہمارے قیاسات و خواہشات اور تخمینوں سے ماوراء ہوتے ہیں، اس دنیاں میں ہر شخص زندگی کے گنے چنے سانس لیکر آیا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس میں کمی زیادتی نہیں کرسکتی، حضرت مولانا کی شخصیت اس دورِ قحط الرجال میں ایسی بڑی نعمت تھی کہ اس پر حق شکر ادا نہیں ہوتا، مولانا کی خدمت میں حاضر ہوکر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے مسافر کو چلچلاتی دھوپ میں جھلسنے کے بعد ٹھنڈی اور گھنی چھاؤں میسر آگئی ہو، حضرت مولانا اسم بامسمی ظاہر و باطن میں صادق اور پیکر خلوص للہیت تھے، نام و نمود کی اس دنیا میں جہاں شخصیتوں کو سستی شہرت اور پلبسٹی کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے، حضرت مولانا کو عوامی سطح پر تو بہت زیادہ جاننے والے نہیں تھے لیکن اصلاح و ارشاد کی نسبت سے آپ کی شخصیت اس وقت مرجع خلائق تھی یہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ جو شخص اللہ کا ہوجائے وہ اپنی ذات کو کتنا بھی چھپانے کی کوشش کرے تاہم اسکی سیرت و کردار اور عند اللہ مقبولیت و محبوبیت کی خوشبو دور دور تک پہنچ کر رہتی ہے، حضرت مولانا ان نفوس قدسیہ میں سے تھے جن کا وجود بہت سے فتنوں کے لئے آڑ بنا رہتا ہے اور اس پر آشوب دور میں جن کے تصور سے قلب کو تسکین ہوا کرتی ہے، آپ کا وجود امت کے لئے رحمتوں اور برکتوں کا باعث تھا
اس علامۂ وقت کو اللہ نے جن خوبیوں سے نوازا تھا ان کا احاطہ اس مختصر سے مضمون میں ناممکن ہے، دست قدرت نے ان کی ذات میں فقہ و تصوف تفسیر و بدیع بیان، ادب، فلسفہ، شاعری، انشاء پردازی، صرف، نحو، منطق بلاغت و معانی مضامین ہئیت، اقلیدس، عروض اور دیگر علوم عقلیہ و نقلیہ کمال جامعیت کے ساتھ و دیعت کر رکھے تھے
آپ صبر و شکیبائی فکر و تدبر زہد و قناعت رضا بالقضاء، خلوص و مروت، سنجیدگی و متانت ایثا و ہمدردی محبت و مؤدت عاجزی وانکساری شہرت و ناموری سے دوری تکبر و تعلی سے پرہیز دولت و ثروت سے احتراز ریاضت و مجاھدہ نفس کشی اور پاکیز گئی اخلاق جیسی خدا جانے کتنی متنوع رنگا نگ اور مختلف اقسام و صفات و میزات کا مجموعہ تھے.
حضرت مولانا اپنی بہت سی امتیازی خصوصیت کے ساتھ کہنۂ مشق قلم کار اور انشاء پرداز اور پختہ کار تھے محقق و مدقق مصنف کی حیثیت سے طبقۂ علما و اہل علم و دانش میں ممتاز شناخت رکھتے تھے اردو و عربی کا گہرا مطالعہ کر کے علمی ادبی تاریخی شعبوں میں اپنے قلم کے جوہر دیکھائے جو خاصی تعداد میں جامع مضامین مقالۂ جات اور علمی تحریرات کی شکل میں موجود ہیں اور پھر بڑی عرق ریزی، بالغ نظری اعلی حوصلگی کے ساتھ غیر منقوط داعئ اسلام (نثر) تحریر فرمائی اور شعر و شاعری کے بھی اعلی معیاری زخیرے آپ کے ذوق تحقیق کے آۂینہ دار ہیں.
حضرت مولانا سادہ مزاجی کے بھی امین تھے، انکی سادہ مزاجی کی قسم اب جب میں دریائے محبت کا تصور کرتا ہوں تو اس کی پاکیزہ لہروں سے نکل کر ایک نورانی چہرا مہری پیٹھ تھپتھپا کر مجھے دلاسہ دیتا ہوا نظر آتا ہے اور میرے اشک عقیدت اس درویش صفت چہرے کے قدموں کو چوم کر ہوا کے جھونکوں سے آگے نکل جاتے ہیں اور ایک زمانہ گزر جاتا ہے، پھر ماضی قریب کا موسم میری یادوں کو گدگداتا ہے اور میں دور ایک سہانی وادی میں جا بستا ہوں جہاں پر خوشبو کی پلکوں پر ایک ہی جملہ لکھا ہوا مجھے ملتا ہے "اے سادہ مزاجی کے امین تجھ پر سلام" اس جملہ کو پڑھنے کے بعد میری یادوں کی پرتیں ایک کے بعد ایک کھلنے لگتی ہے اور میری انکھوں کے سامنے علامۂ وقت حضرت مولانا صادق علی صاحب صادق قاسمی بستوی رحمۃ اللہ علیہ کا چہرۂ انور آجاتا ہے آپ نے تاریخ اسلام کا ایک خصوصی باب اپنی عملی زندگی کے قلم سے جس طرح دہرایا ہے اور سادگی و انکساری کی جو نظیریں ہمارے سمانے عملی طور پر جو پیش کی ہیں اس نے تاریخ اسلام کا اقبال اور بلند کردیا ہے اللہ تعالی کے اخری نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر خلفائے راشدین نے صبر و قناعت اور سادگی و تواضع کا جو معیار قائم کیا تھا، اسی معیار پر علامۂ وقت حضرت مولانا صادق علی صاحب صادق قاسمی بستوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کا اشیانہ تعمیر کیا تھا حالانکہ حضرت مولانا کے پاس ایسے جاں نثاروں کی ایک مضبوط ٹیم تھی جو آپ کے ایک اشارے پر اعلی ترین لباس کا انبار اور مرغ و مسلم کا ایک جہانِ کر و فر نیز فلک بوس عمارتیں اور عیش و ارام کے سمندر مہیا کر سکتی تھی لیکن آپ نے کبھی ان چیزوں کا تصور و خواہش تک نہیں کی بلکہ بعض اوقات تو آپ اپنے خالی شکم پر ہی حضرت ایوب علیہ السلام کی داستانِ صبر تحریر فرماتے رہے.
آپ ہمیشہ خوش پوش رہے ہیں لیکن آپ کا لباس درویشانہ ہی رہا اور آپ اپنے دسترخوان پر جو کھانا تناول فرماتے رہے وہ بلکل سادہ ہوتا تھا اگر میں اسکو غریب عوام کے کھانے کا نام دوں تو شاید بیجا نہ ہوگا
آج تک سادہ مزاجی کی عزت و توقیر ایسے ہی شہنشاہ صبر و قناعت کے دم پر قائم ہے مولانا کی سادگی آپ کے آخری سفر میں صاف طورپر نظر آرہی تھی ہزاروں عقیدت مند اس سادہ انسان کے اخری سفر میں شریک ہوکر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے نظر آئے، اللہ اللہ کیا سادگی کی شان ہے، لیکن حضرت مولانا کی اس جدائی پر خاندان و علاقے اور تمام عوام و خواص پر رنج و الم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا کسی کا دل شکستہ اور چہرا غمگین تھا کسی کی انکھوں میں انسون تلملا رہے تھے اور کسی کی انکھوں سے جھلک کر باہر آرہے تھے کوئی بے اختیار پھوٹ پھوٹ کو رورہا تھا کوئی دل میں رنج و غم لئے بیٹھا تھا.
الغرض پورے علاقے میں کہرام سا مچا ہوا تھا پورے علاقے نے حضرت مولانا کے سانحۂ ارتحال کو بڑے رنج و غم کے ساتھ محسوس کیا اور ہر ایک نے وفات کے صدمہ کو اپنے اپنے انداز سے ظاہر کیا.
حضرت مولانا کی جسد خاکی کو ان کے ابائی گاؤں دریا آباد لایا گیا، آخری دیدار و زیارت کے لئے اطراف و جوانب سے متوسلین و متعلقین عوام و خواص کا ایک ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر امڈ پڑا اور عوام خواص کا یہ سیلاب بڑھتا ہی جا رہا تھا ہر ایک آتا اور اپنے محبوب کی آخری زیارت کرتا اور بلا اختیار آنکھیں آبدیدہ ہوجاتی.
نماز جنازہ کے لیے 4 بجے کا وقت متعین ہوا جنازہ قبرستان لایا گیا اور لاکھوں سوگواروں نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ کے آبائی گاؤں دریا آباد میں آپ کی تدفین عمل میں آئی.
