تحریر: مولانا محمد طاھر مدنی
ڈائریکٹر شعبہ دعوت و ارشاد جامعة الفلاح بلرياگنج، اعظم گڑھ (یوپی)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اسلام کی دعوت کی راہ میں رکاوٹیں ہر دور میں کھڑی کی جاتی رہی ہیں اور تا قیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا. اس کیلئے مختلف تدبیریں اختیار کی جاتی ہیں، ان میں ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ داعی کو لالچ دی جائے اور پر کشش پیش کش کے ذریعے اسے دعوت کے کام سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے.
مکہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے توحید کی دعوت بلند کی اور دھیرے دھیرے پاک نفوس اس دعوت کو قبول کرنے لگے تو سرداران قریش نے اسے اپنے خلاف چیلینج تصور کیا اور مزاحمت و مخاصمت شروع کر دی. اس کیلئے ایک تدبیر یہ بھی اپنائی کہ اپنے نمائندے کے ذریعے لالچ دینے کی کوشش کی. چنانچہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے اور مسلمانوں نے کچھ تقویت محسوس کی تو قریش کے سرداروں نے سودے بازی کے ذریعے دعوت اسلامی کو روکنے کی کوشش کی. لیکن انہیں پتہ نہیں تھا کہ اس دعوت کا محرک دنیا کی طلب اور مال و متاع کا حصول نہیں ہے. عتبہ بن ربیعہ آپ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا، بھتیجے! تمہارا بڑا مقام و مرتبہ تھا اور بڑی امید وابستہ تھی لیکن جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس سے تفرقہ پیدا ہوگیا ہے اور باپ دادا کے دین کو تم نے باطل ٹھہرایا ہے، میں تمہارے سامنے چند امور پیش کر رہا ہوں، ان پر غور کرو، ممکن ہے کوئی چیز تمہارے لیے قابل قبول ہو. آپ نے فرمایا، کہو کیا کہتے ہو؟
اس نے کہا جو دعوت تم پیش کر رہے ہو اگر اس کے ذریعے مال حاصل کرنا ہے تو ہم اتنا مال جمع کر دیتے ہیں کہ تم سب سے بڑے مالدار بن جاؤ، اگر مقام و مرتبہ درکار ہے تو ہم تجھے اپنا سردار بنا لیتے ہیں، اگر اگر بادشاہ بننا چاہتے ہو تو ہم اپنا بادشاہ تسلیم کر لیتے ہیں، اور اگر کوئی جن تمہارے پاس آتا ہے تو ہم تمہارا علاج کرا دیتے ہیں. آپ نے کہا، تمہاری بات پوری ہوگئی، اس نے کہا، ہاں پوری ہوگئی، آپ نے کہا اب سنو، پہر آپ نے سورہ حم کی تلاوت شروع کردی، وہ بہت غور سے سنتا رہا، یہاں تک آپ آیت سجدہ تک پہونچے اور سجدہ کیا، پہر فرمایا، تم نے سن لیا، اب تم جانو اور تمہارا کام جانے.
عتبہ اپنے لوگوں کی جانب متغیر حالت میں لوٹا اور جاکر کہا، میں نے ایسا کلام سنا ہے جیسا آج تک نہیں سنا تھا، میری رائے یہ ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو، اگر یہ عربوں پر غالب آگئے تو اقتدار میں تمہارا حصہ ہوگا اور اگر عربوں نے ان کو مغلوب کردیا تو تمہارا کام ہوجائے گا. لوگوں نے کہا کہ اس پر بھی جادو چل گیا.بحوالہ سیرت ابن ہشام.
دنیا میں جو چیزیں مرغوب ہوسکتی ہیں، سب کی پیش کش اس سودے بازی میں ہے. مال و دولت، حسن و جمال، اقتدار و سرداری وغیرہ، بس شرط یہ ہے کہ دعوت توحید اور رد شرک سے باز آجائیں. یہ پیش کش آپ نے ٹھکرا دی، کیونکہ توحید ہی تو دعوت اسلامی کی اساس اور بنیاد ہے. داعی حق اس سے کبھی دست بردار ہو ہی نہیں سکتا، چاہے اسے آزمائش کی بھٹی میں جھونک دیا جائے یا اس کا جسم آرے سے چیر دیا جائے. دعوت حق میں مداہنت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. اس میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا. ہر دور میں داعیان حق کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ سودے بازی بھی ہوگی، عہدے اور منصب کا لالچ دیا جائے گا، مال و دولت سے خریدنے کی کوشش کی جائے گی، عورت کے فتنے میں ڈالا جائے گا، طرح طرح کی لالچ دی گئی، لیکن ان سب کو ٹھکرا کر استقامت کے ساتھ دعوت حق کو پیش کرتے رہنا ہے اور توحید کے پیغام کی قیمت پر کوئی کمپرومائز ہرگز نہیں کرنا ہے، اگر ایسا کیا گیا تو سب کچھ ہوسکتا ہے مگر دعوت اسلامی کا کام نہیں ہوسکتا، ودوا لو تدھن فیدھنون، کچھ لو اور کچھ دو کی پیش سختی سے ٹھکرا دینی ہے اور برملا یہی اعلان کرنا ہے کہ اگر تم ہمارے دامن میں چاند اور سورج لاکر رکھ دو، تب بھی ہم اپنی دعوت سے دست بردار نہیں ہوسکتے.
اللہ دعوت کی راہ میں استقامت بخشے اور آزمائش کے مراحل میں صبر عطا فرمائے. آمین
ڈائریکٹر شعبہ دعوت و ارشاد جامعة الفلاح بلرياگنج، اعظم گڑھ (یوپی)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اسلام کی دعوت کی راہ میں رکاوٹیں ہر دور میں کھڑی کی جاتی رہی ہیں اور تا قیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا. اس کیلئے مختلف تدبیریں اختیار کی جاتی ہیں، ان میں ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ داعی کو لالچ دی جائے اور پر کشش پیش کش کے ذریعے اسے دعوت کے کام سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے.
مکہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے توحید کی دعوت بلند کی اور دھیرے دھیرے پاک نفوس اس دعوت کو قبول کرنے لگے تو سرداران قریش نے اسے اپنے خلاف چیلینج تصور کیا اور مزاحمت و مخاصمت شروع کر دی. اس کیلئے ایک تدبیر یہ بھی اپنائی کہ اپنے نمائندے کے ذریعے لالچ دینے کی کوشش کی. چنانچہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے اور مسلمانوں نے کچھ تقویت محسوس کی تو قریش کے سرداروں نے سودے بازی کے ذریعے دعوت اسلامی کو روکنے کی کوشش کی. لیکن انہیں پتہ نہیں تھا کہ اس دعوت کا محرک دنیا کی طلب اور مال و متاع کا حصول نہیں ہے. عتبہ بن ربیعہ آپ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا، بھتیجے! تمہارا بڑا مقام و مرتبہ تھا اور بڑی امید وابستہ تھی لیکن جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس سے تفرقہ پیدا ہوگیا ہے اور باپ دادا کے دین کو تم نے باطل ٹھہرایا ہے، میں تمہارے سامنے چند امور پیش کر رہا ہوں، ان پر غور کرو، ممکن ہے کوئی چیز تمہارے لیے قابل قبول ہو. آپ نے فرمایا، کہو کیا کہتے ہو؟
اس نے کہا جو دعوت تم پیش کر رہے ہو اگر اس کے ذریعے مال حاصل کرنا ہے تو ہم اتنا مال جمع کر دیتے ہیں کہ تم سب سے بڑے مالدار بن جاؤ، اگر مقام و مرتبہ درکار ہے تو ہم تجھے اپنا سردار بنا لیتے ہیں، اگر اگر بادشاہ بننا چاہتے ہو تو ہم اپنا بادشاہ تسلیم کر لیتے ہیں، اور اگر کوئی جن تمہارے پاس آتا ہے تو ہم تمہارا علاج کرا دیتے ہیں. آپ نے کہا، تمہاری بات پوری ہوگئی، اس نے کہا، ہاں پوری ہوگئی، آپ نے کہا اب سنو، پہر آپ نے سورہ حم کی تلاوت شروع کردی، وہ بہت غور سے سنتا رہا، یہاں تک آپ آیت سجدہ تک پہونچے اور سجدہ کیا، پہر فرمایا، تم نے سن لیا، اب تم جانو اور تمہارا کام جانے.
عتبہ اپنے لوگوں کی جانب متغیر حالت میں لوٹا اور جاکر کہا، میں نے ایسا کلام سنا ہے جیسا آج تک نہیں سنا تھا، میری رائے یہ ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو، اگر یہ عربوں پر غالب آگئے تو اقتدار میں تمہارا حصہ ہوگا اور اگر عربوں نے ان کو مغلوب کردیا تو تمہارا کام ہوجائے گا. لوگوں نے کہا کہ اس پر بھی جادو چل گیا.بحوالہ سیرت ابن ہشام.
دنیا میں جو چیزیں مرغوب ہوسکتی ہیں، سب کی پیش کش اس سودے بازی میں ہے. مال و دولت، حسن و جمال، اقتدار و سرداری وغیرہ، بس شرط یہ ہے کہ دعوت توحید اور رد شرک سے باز آجائیں. یہ پیش کش آپ نے ٹھکرا دی، کیونکہ توحید ہی تو دعوت اسلامی کی اساس اور بنیاد ہے. داعی حق اس سے کبھی دست بردار ہو ہی نہیں سکتا، چاہے اسے آزمائش کی بھٹی میں جھونک دیا جائے یا اس کا جسم آرے سے چیر دیا جائے. دعوت حق میں مداہنت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. اس میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا. ہر دور میں داعیان حق کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ سودے بازی بھی ہوگی، عہدے اور منصب کا لالچ دیا جائے گا، مال و دولت سے خریدنے کی کوشش کی جائے گی، عورت کے فتنے میں ڈالا جائے گا، طرح طرح کی لالچ دی گئی، لیکن ان سب کو ٹھکرا کر استقامت کے ساتھ دعوت حق کو پیش کرتے رہنا ہے اور توحید کے پیغام کی قیمت پر کوئی کمپرومائز ہرگز نہیں کرنا ہے، اگر ایسا کیا گیا تو سب کچھ ہوسکتا ہے مگر دعوت اسلامی کا کام نہیں ہوسکتا، ودوا لو تدھن فیدھنون، کچھ لو اور کچھ دو کی پیش سختی سے ٹھکرا دینی ہے اور برملا یہی اعلان کرنا ہے کہ اگر تم ہمارے دامن میں چاند اور سورج لاکر رکھ دو، تب بھی ہم اپنی دعوت سے دست بردار نہیں ہوسکتے.
اللہ دعوت کی راہ میں استقامت بخشے اور آزمائش کے مراحل میں صبر عطا فرمائے. آمین
