اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: کچھ دیر کتاب میلے میں!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 14 December 2018

کچھ دیر کتاب میلے میں!

محمد عاصم کمال الاعظمی ایڈیٹر رسالہ "پاســـــــبـان"
ــــــــــــــــ
آج نماز جمعہ سے قبل شبلی منزل "دارالمصنفین اعظم گڑھ "حاضر ہوا، اطلاع ملی کہ ادارہ کے انٹر کالج میں کتاب میلہ لگا ہواہے، اور اس کو کئی روز ہوگئے ہیں، اور آیندہ مزید دوروز رہنے کی توقع ہے، ادارہ شبلی کے ایک اسکالر کے ہمراہ وہاں پہنچا، کتابوں کی اتنی بھیڑ دیکھ طبیعت کھل اٹھی، دیوبند کے بعد برائے فروخت پہلی بار اتنی کتابیں مہیا نظر آئیں، عجیب پرکیف منظر تھا،طلبہ وطالبات اور مختلف علمی وادبی ذوق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، میں نے بھی اس ڈھیر میں سے کتابیں چننی شروع کیں،
میری حریص طبیعت نے چاہاکہ یہ ساری کتابیں میری ہوجائیں؛ مگر......بسا آرزو کہ آرزو بود ....پھر بھی تقریبا ۳۰، ۳۵ کتابیں لیا، جن میں: حیات شبلی، تحقیق کا فن، سیرۃ النعمان، مولانا ابوالکلام آزادا کی نادر تحریرں، کلیات اقبال سہیل اور اسی طرح مختلف شعری انتخابات اور کچھ ادبی مجموعے،،،،،،جی چاہ رہا تھا کہ اس میلہ میں گھومتارہوں، مگر مؤذن کی ندا در ایزدی پر کھینچ لائی، ...مگر طبیعت نہ مانی اور بعد نماز مغرب ایک بار پھر پہنچا، مگر  اس مختصر عرصہ میں کتابوں کی وہ بھیڑ کچھ بلکہ بہت کم ہوگئ تھی؛ حتی کہ ایک کتاب کے لینے میں جب مجھے تردد ہورہا تھا اسی لمحہ بک سیلر (کتب فروش) نے کتابوں کی جانب اشارہ کرکے کہا کہ: لےلیں ورنہ یہ بھی صاف ہوجائیں گی ......اس میلہ میں ایک بات سے خوشی ہوئ البتہ ایک بات باعث تلکیف بھی تھی ...اور یہ تکلیف اس خوشی سے گہری تھی ..خوشی یہ تھی کہ اس میلہ میں نئ عمر کے طلبہ اور اسٹوڈنٹ میلہ کی زینت بنے ہوئےتھے،اور دکھ اس  بات کا تھا کہ اردو کتابیں اپنی غربت اور مفلسی کا بہت بےچارگی سے اعلان کررہی تھیں، ..لائق مبارک تھے وہ لوگ جن کو اس بے چاری زبان اور اس بے مایہ شئ کا کچھ پاس تھااور جس کی حالت اس اپاہج کی سی ہے جس کو چلنے کے لئے بیساکھی کی ضرورت توہے مگر پکڑنے کے لئے ہاتھ نہیں ..اتنے بڑے میلہ میں صرف دو بینر اردو کتاب کا تھا، ایک دارالمصنفین شبلی اکیڈمی دوسرے اردواکیڈمی لکھنؤ...  ہاں ایک دہلی کے بک سیلر نے بھی کچھ اردو کتابیں رکھ رکھی تھیں،  باقی اس کے علاہ ہندی اور انگلش کتابوں کے اہل ذوق نے اپنی چھاپ بنارکھی تھی .....اس موقع پر ایک بات کہنے کی جرات کروں گا کہ ہم اہل مدارس جو اردو زبان کو اپنا علمی ورثہ سمجھتے ہیں اس طرح کے مواقع اور اس طرح کی چیزوں میں خاص دلچسپی نہیں لیتے، اور پھر جب بات زبان کے تحفظ کی آتی ہے تو بازی کوئی اور مار لےجاتا ہے، میلہ بہت اچھا میلہ تھا، واضح رہے کہ اس میلہ میں ہر کتاب کی متعینہ قیمت پر چالیس فیصد کی چھوٹ بھی ہے.