اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: حجاب نے باطل کی ہوس اڑادی!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 14 December 2018

حجاب نے باطل کی ہوس اڑادی!

محمد فاروق حیدر علی
ــــــــــــــــــــــــــــــ
ملک عزیز ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں گنگا جمنی تہذیب کا بول بالا ہے اور یہاں ہر مذاہب کے ماننے والوں کو پورا حق ہے کہ وہ کھل کر اپنے ادیان و ملل کی اتباع و پیروی کریں مگر کجھ مفاد پسند اور کھٹیا قسم کے لوگ ہندو مسلم کے مابین لڑانے کی ناپاک کوششیں کرتے ہیں تاکہ
وہ اپنے شہرت کا جھنڈا فضا میں لہراسکے کیوں کہ لوگ دو ہی وجہ سے مشہور ہوتے ہیں (1) علم و ہنر (2) فرقہ وارانہ فسادات کو پھیلا کر۔۔۔۔4 نومبر 2018 کو اخبار کی سرخیوں پر ایک خبر نشر ہوئی کہ اتر پردیش کے  پرائیوٹ اسکول کی معلمہ فاطمہ احسن کو اسکول کے صدر نے حجاب نہ لگا نے پر مجبور کیا اور کہا کہ آپ کے حجاب لگانے سے اس کا برا اثر میرے بچوں اور اسکول کے ماحول پر پرتا ہے لہذا آپ اس کو ہٹاکر آئیں یا پھر دستبردار ہوجائیں !!! یہ سن کر فاطمہ کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی کہ میں یہاں کئی سالوں سے بچوں کو تعلیم دیتی ہوں پھر یہ تنقیدی نظر مچھ پر کیوں؟ بہرحال اس نے  قرآن مجید کے سورةالنور کی یہ آیت "اے ہمارے نبی آپ ایمان والی عورتیں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنے زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہوتا ہےاور اپنے گڑیبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھے اور اپنا بناؤں سنگار کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں. آیت نمبر 31 “  کے پیشِ نظر اس قبیح اور گھناؤنے فعل کو قبول نہ کیں اور 3 نومبر 2018 کو استعفیٰ دے کر باطل کے منہ پر زور دار طمانچہ مار کر اس کے ہوش ٹھکانے لگادیے۔میں ان باطل پرست عناصر سے کہنا چا ہونگا کہ کیا ہندوستان کی آزادی مذہب کے بنیاد پر ہوئ تھی مولانا ابو کلام آزاد اور خانوادۀ صادق پور کے کسی فرقہ کی بنیاد پر بنا پر انگریزوں سے جنگ کیا تھا ۔اور ڈاکٹر امبیڈکر ہندوستان کے سنویدھان کو جات پات کے نام پر لکھی؟نہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ قومی یکجہتی اور اکتائیت کے بنیاد پر تھی مگر افسوس ہوتا ہے کہ یہ (ح، ج، ا، ب) چار لفظوں کا مجموعہ جس میں پورے نوع نسواں کی عزت و عفت اور عصمت و پاکدامنی کا راز پنہاں ہے اس پر کالا داغ ودھبا لگا کر اسلام اور اس کی سالمیت کو بدنام کر رہے ہیں یہاں مولانا ابو کلام آزاد کا وہ قول صادق آتا جو انہوں نے دھلی کے جامع مسجد کے پاس کہاں تھا "مسلمانوں ہندوستان کی  ہندو قوم تمہارا مذہبی دشمن تو ہو سکتا ہے لیکن وطنی دشمن نہیں" آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام مسلمان اتحاد کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر اپنے مذہب پر ڈٹے رہیں تاکہ باطل پرستوں کو اسلام کی سالمیت پر انگلی اٹھانے کا  کوئی موقع نہ مل سکے.