احاطۂ مولسری میں قاری عثمان منصورپوری نے نمازِ جنازہ پڑھائی، قاسمی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی.
سمیر چودھری
ـــــــــــــــــــــــــ
دیوبند(آئی این اے نیوز 10/جنوری 2019) سرزمین دیوبند کی عظیم اور تاریخ ساز شخصیت و جمعیۃ علماء ہند کے قومی خازن مولانا حسیب صدیقی کل دیوبند شہر کی فضاء کو مغموم کرکے آخری سفر پر روانہ ہوگئے، انا للہ و الیہ راجعون۔ وہ تقریباً 83؍ سال کے تھے اور کل اچانک معمولی علالت کے باعث ان کا انتقال پرملال ہوگیا۔ ان کا انتقال یہاں کے علمی، دینی، تعلیمی اور سماجی و سیاسی لوگوں کے لئے نہ صرف گہرے صدمہ کا باعث بنا ہے بلکہ دیوبند سمیت اطراف اور ملی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی، کل صبح تقریباً آٹھ بجے جیسے ہی ان کے انتقال کی خبر عام ہوئی
تو یہاں محلہ شاہ بخاری میں واقع ان کی رہائش گاہ پر دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ ،علماء کرام، سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت شہر کے سرکردہ لوگوں کا تعزیت کے لئے تانتا لگ گیا، ملک کی نامور ملی،سیاسی اور سماجی شخصیات نے ان کے انتقال کو دیوبند کی تاریخ کے ایک باب کا خاتمہ قرار دیا ہے۔ مولانا حسیب صدیقی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد رشید تھے، وہ سرزمین دیوبند کی ایک عظیم عہد ساز شخصیت تھے، جن کی پوری زندگی لوگوں کی بھلائی اور خیر خواہی میں گزری ہے، نرم لہجہ، شگفتہ اور شائستگی، بلند اخلاق، ملنساری، چھوٹوں پر شفقت اور کسی کی تکلیف کو دیکھ کر تڑپ اٹھنا آپ کی زندگی کا خاصہ تھا، جنہوں نے سرزمین دیوبند پر خدمت خلق کا عظیم سرچشمہ شروع کیا تھا اور آج دیوبند میں ان کے قائم کردہ ایک درجن ایسے ادارے ہیں جو ان کی اقتصادی، ملی، تعلیمی، سماجی، سیاسی، ادبی اور صحافتی کی خدمات کی عظیم الشان نظیر بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ آپ گزشتہ تقریباً ساٹھ سال سے ملک و ملت کی ایسی نمایاں خدمات کررہے تھے جو ناصرف ناقابل فراموش ہے بلکہ دیوبند کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں درج ہوگا، فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنیؒ کے ذریعہ 1961ء میں قائم کردہ ادارہ کو مرحوم مولانا حسیب صدیقی نے اپنے خون جگر سے اس ادارہ کو مسلم فنڈ دیوبند کی شکل میں ایک تناور شجر بنایا ہے، جس سے آج بلا تفریق مذہب و ملت لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، مولانا حسیب صدیقی نے مسلم فنڈ دیوبند کی شکل میں ملک و ملت کو ایک ایسا اقتصادی نظام دیا ہے جس سے روشنی پاکر ہندوستان میں متعدد ملی تنظیمیں اپنے اپنے علاقوں میں اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کے لئے ملک کے مختلف علاقوں میں اسی طرز کے سیکڑوں معاشی ادارے قائم کرکے کمزور طبقات کی معیشت کو بہتر بنانے کاکام انجام دے رہے ہیں، مسلم فنڈ دیوبند کے تحت انہوں نے بچیوں کی تعلیم کے لئے پبلک گرلز انٹر کالج، تکنیکی تعلیم کے لئے مدنی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اور مسلم فنڈ ناگل سمیت ایک درجن ایسے اداروں کا قیام کیا ہے جو خدمت خلق کے سفرپر رواں دواں ہیں، مولانا حسیب صدیقی جمعیۃ علماء ہند کے قومی خازن تھے، آل انڈیا اقتصادی کونسل کے چیئرمین اور دیوبند میونسپل بورڈ کے سال 2007ء سے سال 2012ء تک چیئرمین رہے ہیں، اس کے علاوہ بیشمار ایسے ادارے اور تنظیمیں ہیں جو آپ کی سرپرستی میں بہترین خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اقتصادی اور تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ ملی، سماجی اور سیاسی خدمات کے لئے آپ ہمیشہ سرگرم رہتے تھے۔ ان کا انتقال ملک و ملت کا عظیم خسارہ ہے ۔
ان کے بیٹے اور مسلم فنڈ دیوبند کارگزار منیجر سہیل صدیقی نے بتایا کہ کل صبح معمولی علالت کے بعد والد محترم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملے، انہوں نے کہاکہ یہ سانحہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے علماء کرام، ائمہ مساجد اور ارباب مدارس و طلباء سے والد مرحوم کی مغفرت کے لئے دعاء کی اپیل کی ہے۔ پسماندگان میں تین بیٹوں کے علاوہ بیٹیاں اور پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے بھرا پورا کنبہ ہے، نماز جنازہ بعد نماز عصر احاطہ مولسری جمعیۃ علماء ہند کے صدر قاری سید عثمان منصور پوری نے ادا کرائی، بعد ازیں ہزاروں سوگواروں کے درمیان قاسمی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
مولانا حسیب صدیقی کے انتقال پر ملک کے سیاسی ،سماجی اور ملی رہنماؤں نے گہرے رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو عظیم ملی و سماجی خسارہ قرار دیا۔
نماز جنازہ میں شرکت کرنے اور مکان پر پہنچ کر تعزیت کرنے والوں میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی، نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی، دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری عثمان منصور پوری، مسلم فنڈ دیوبند کے سکریٹری قاضی محمد انوار ،رکن شوریٰ مولانا انوارالرحمن ،معرو ف شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی، مولانا اسجد مدنی،ازہد مدنی سابق ممبر اسمبلی معاویہ علی، چیئرمین ضیاء الدین انصاری، مولانا حسن الہاشمی، مولانا ندیم الواجدی، سینئر کانگریس لیڈر عمران مسعود، مولانا نسیم اختر شاہ قیصر، سابق چیئرمین انعام قریشی، دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی شریف خان قاسمی، ڈاکٹر ڈی کے جین، سیٹھ کلدیپ کمار، پنڈت ستیندر شرما، ششی با لاپنڈیر، سلیم قریشی ،نجیب آباد مسلم فنڈ کے جنرل منیجر ذکی احمد، بجنورمسلم فنڈ کے مینیجر خلیل احمد، سید عقیل حسین میاں ،جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید، معروف روحانی معالج فہیم عثمانی، کالم نگار کمل دیوبندی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ملک و بیرون ملک سے مولانا حسیب صدیقی کے انتقال پر تعزیت کرنے والوں میں ممتاز عالمی عالم دین مفتی تقی عثمانی، جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشدمدنی، جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جمال الدین عمری، مولانا امام مہدی سلفی، شری شری روی شنکر، آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر مولانا مولانا عبداللہ مغیثی، سابق ممبر آف پارلیمنٹ قاضی رشید مسعود، بی ایس پی لیڈر حاجی فضل الرحمن، موریشسس سے عبیر اخلاص احمد اور انس خلاص اور مدینہ منورہ سے حاجی انس صدیقی اور خورشید انور وغیرہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔
سمیر چودھری
ـــــــــــــــــــــــــ
دیوبند(آئی این اے نیوز 10/جنوری 2019) سرزمین دیوبند کی عظیم اور تاریخ ساز شخصیت و جمعیۃ علماء ہند کے قومی خازن مولانا حسیب صدیقی کل دیوبند شہر کی فضاء کو مغموم کرکے آخری سفر پر روانہ ہوگئے، انا للہ و الیہ راجعون۔ وہ تقریباً 83؍ سال کے تھے اور کل اچانک معمولی علالت کے باعث ان کا انتقال پرملال ہوگیا۔ ان کا انتقال یہاں کے علمی، دینی، تعلیمی اور سماجی و سیاسی لوگوں کے لئے نہ صرف گہرے صدمہ کا باعث بنا ہے بلکہ دیوبند سمیت اطراف اور ملی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی، کل صبح تقریباً آٹھ بجے جیسے ہی ان کے انتقال کی خبر عام ہوئی
تو یہاں محلہ شاہ بخاری میں واقع ان کی رہائش گاہ پر دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ ،علماء کرام، سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت شہر کے سرکردہ لوگوں کا تعزیت کے لئے تانتا لگ گیا، ملک کی نامور ملی،سیاسی اور سماجی شخصیات نے ان کے انتقال کو دیوبند کی تاریخ کے ایک باب کا خاتمہ قرار دیا ہے۔ مولانا حسیب صدیقی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد رشید تھے، وہ سرزمین دیوبند کی ایک عظیم عہد ساز شخصیت تھے، جن کی پوری زندگی لوگوں کی بھلائی اور خیر خواہی میں گزری ہے، نرم لہجہ، شگفتہ اور شائستگی، بلند اخلاق، ملنساری، چھوٹوں پر شفقت اور کسی کی تکلیف کو دیکھ کر تڑپ اٹھنا آپ کی زندگی کا خاصہ تھا، جنہوں نے سرزمین دیوبند پر خدمت خلق کا عظیم سرچشمہ شروع کیا تھا اور آج دیوبند میں ان کے قائم کردہ ایک درجن ایسے ادارے ہیں جو ان کی اقتصادی، ملی، تعلیمی، سماجی، سیاسی، ادبی اور صحافتی کی خدمات کی عظیم الشان نظیر بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ آپ گزشتہ تقریباً ساٹھ سال سے ملک و ملت کی ایسی نمایاں خدمات کررہے تھے جو ناصرف ناقابل فراموش ہے بلکہ دیوبند کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں درج ہوگا، فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنیؒ کے ذریعہ 1961ء میں قائم کردہ ادارہ کو مرحوم مولانا حسیب صدیقی نے اپنے خون جگر سے اس ادارہ کو مسلم فنڈ دیوبند کی شکل میں ایک تناور شجر بنایا ہے، جس سے آج بلا تفریق مذہب و ملت لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، مولانا حسیب صدیقی نے مسلم فنڈ دیوبند کی شکل میں ملک و ملت کو ایک ایسا اقتصادی نظام دیا ہے جس سے روشنی پاکر ہندوستان میں متعدد ملی تنظیمیں اپنے اپنے علاقوں میں اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کے لئے ملک کے مختلف علاقوں میں اسی طرز کے سیکڑوں معاشی ادارے قائم کرکے کمزور طبقات کی معیشت کو بہتر بنانے کاکام انجام دے رہے ہیں، مسلم فنڈ دیوبند کے تحت انہوں نے بچیوں کی تعلیم کے لئے پبلک گرلز انٹر کالج، تکنیکی تعلیم کے لئے مدنی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اور مسلم فنڈ ناگل سمیت ایک درجن ایسے اداروں کا قیام کیا ہے جو خدمت خلق کے سفرپر رواں دواں ہیں، مولانا حسیب صدیقی جمعیۃ علماء ہند کے قومی خازن تھے، آل انڈیا اقتصادی کونسل کے چیئرمین اور دیوبند میونسپل بورڈ کے سال 2007ء سے سال 2012ء تک چیئرمین رہے ہیں، اس کے علاوہ بیشمار ایسے ادارے اور تنظیمیں ہیں جو آپ کی سرپرستی میں بہترین خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اقتصادی اور تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ ملی، سماجی اور سیاسی خدمات کے لئے آپ ہمیشہ سرگرم رہتے تھے۔ ان کا انتقال ملک و ملت کا عظیم خسارہ ہے ۔
ان کے بیٹے اور مسلم فنڈ دیوبند کارگزار منیجر سہیل صدیقی نے بتایا کہ کل صبح معمولی علالت کے بعد والد محترم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملے، انہوں نے کہاکہ یہ سانحہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے علماء کرام، ائمہ مساجد اور ارباب مدارس و طلباء سے والد مرحوم کی مغفرت کے لئے دعاء کی اپیل کی ہے۔ پسماندگان میں تین بیٹوں کے علاوہ بیٹیاں اور پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے بھرا پورا کنبہ ہے، نماز جنازہ بعد نماز عصر احاطہ مولسری جمعیۃ علماء ہند کے صدر قاری سید عثمان منصور پوری نے ادا کرائی، بعد ازیں ہزاروں سوگواروں کے درمیان قاسمی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
مولانا حسیب صدیقی کے انتقال پر ملک کے سیاسی ،سماجی اور ملی رہنماؤں نے گہرے رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو عظیم ملی و سماجی خسارہ قرار دیا۔
نماز جنازہ میں شرکت کرنے اور مکان پر پہنچ کر تعزیت کرنے والوں میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی، نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی، دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری عثمان منصور پوری، مسلم فنڈ دیوبند کے سکریٹری قاضی محمد انوار ،رکن شوریٰ مولانا انوارالرحمن ،معرو ف شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی، مولانا اسجد مدنی،ازہد مدنی سابق ممبر اسمبلی معاویہ علی، چیئرمین ضیاء الدین انصاری، مولانا حسن الہاشمی، مولانا ندیم الواجدی، سینئر کانگریس لیڈر عمران مسعود، مولانا نسیم اختر شاہ قیصر، سابق چیئرمین انعام قریشی، دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی شریف خان قاسمی، ڈاکٹر ڈی کے جین، سیٹھ کلدیپ کمار، پنڈت ستیندر شرما، ششی با لاپنڈیر، سلیم قریشی ،نجیب آباد مسلم فنڈ کے جنرل منیجر ذکی احمد، بجنورمسلم فنڈ کے مینیجر خلیل احمد، سید عقیل حسین میاں ،جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید، معروف روحانی معالج فہیم عثمانی، کالم نگار کمل دیوبندی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ملک و بیرون ملک سے مولانا حسیب صدیقی کے انتقال پر تعزیت کرنے والوں میں ممتاز عالمی عالم دین مفتی تقی عثمانی، جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشدمدنی، جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جمال الدین عمری، مولانا امام مہدی سلفی، شری شری روی شنکر، آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر مولانا مولانا عبداللہ مغیثی، سابق ممبر آف پارلیمنٹ قاضی رشید مسعود، بی ایس پی لیڈر حاجی فضل الرحمن، موریشسس سے عبیر اخلاص احمد اور انس خلاص اور مدینہ منورہ سے حاجی انس صدیقی اور خورشید انور وغیرہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔